( اے آئی کی مدد سے بنائی گئی تصویر)
غزہ فلوٹیلا میں شامل تمام غیر ملکی کارکنان کو ملک سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔اسرائیل نے اس کی تصدیق کی ہے۔ناکہ بندی توڑ کر غزہ امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے صمود فلوٹیلا کے زیرِ حراست رضاکاروں کی ہتک آمیز ویڈیوز جاری ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
صمود فلوٹیلا میں شامل سبھی غیرملکی کارکنان کو اسرائیل نے ڈیپورٹ کردیا ہے۔ اسرائیلی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تشہیری مقاصد کے لیے روانہ کردہ فلوٹیلا کے تمام غیر ملکی کارکنوں کو اسرائیل سے ملک بدر کر دیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی غزہ کی قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسرائیل کی ناکہ بندی توڑ کر غزہ امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے اس فلوٹیلا کے زیرِ حراست رضاکاروں کی ہتک آمیز ویڈیوزمنظرعام پرآنے کے بعد اسرائیلی وزیراتمار بن گویر کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،یہ ویڈیو اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے جاری کی تھی جس میں امدادی رضاکاروں کو ہتھکڑیوں میں جکڑے اور سرنگوں انداز میں زمین پر بیٹھے دکھایا گیا تھا۔انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اس موقع پر ہتک آمیز سلوک کیا، نفرت آمیز جملے کہے، اسرائیل پرچم لہرایا ۔
ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی وزیر کے امدادی رضاکاروں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کو انسانی وقار کے منافی قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس معاملے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی یہ حرکت ملکی وقار اور قوانین کے منافی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان ویڈیوز نے اسرائیل کی سفارتی پوزیشن کو نقصان پہنچایا اور یہ مناظر عالمی سطح پر اسرائیل کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔
اٹلی نے رضاکاروں کے ساتھ رویے کو انسانی وقار کی توہین قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا۔آئرلینڈ کے وزیر اعظم نے بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں کو روکنے کو ناقابل قبول قرار دیا جبکہ اسپین اور انڈونیشیا نے فوری رہائی اور رضاکاروں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
کینیڈا، فرانس، اٹلی، بیلجیئم اور نیدرلینڈز نے احتجاجاً اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا۔ ان ممالک نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کی جانب سے جاری ویڈیو میں دکھائے گئے سلوک کو انسانی وقار کے خلاف قرار دیا۔یونان، برطانیہ اور جرمنی نے بھی ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی رضاکاروں کے ساتھ ایسا رویہ ناقابل قبول ہے۔
ترکیے نے اسرائیلی کارروائی کو سمندری ڈاکہ زنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اسے اسرائیل کے اخلاقی زوال اور سفاکیت سے تعبیر کیا۔




