(فوٹواے پی)
امریکہ اور ایران کے بیچ تازہ فوجی تصادم مکمل جنگ میں تبدیل ہوتی معلوم ہورہی ہے ۔ گزشتہ دو دنوں سے حملوں اور جوابی حملوں کے سلسلے کے بیچ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے ۔
جمعرات کے روز صدرٹرمپ نے ایران پر شدید حملے کرنے اور ایران کی تیل اور گیس کی صنعت پر قبضہ کرنے کی دھکمی دی ہے ۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ آج رات ایران پر انتہائی سخت حملہ کرے گا اور مستقبل قریب میں ایران کی تیل و گیس کی صنعت، بشمول اہم خارگ جزیرے کے آئل ٹرمینل کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا۔
انہوں نے اپنے منصوبے کا موازنہ وینزویلا سے کیا اور دعویٰ کیا کہ جس طرح امریکہ نے جنوری میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے تیل کے شعبے کا کنٹرول حاصل کیا تھا، ویسا ہی ایران کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران مسلسل دوسرے روز بھی ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں ۔ جمعرات کی صبح تک جاری رہنے والے امریکی حملے گزشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ شدید اور وسیع دکھائی دیے۔
ایران نے نقصانات کی تفصیلات کم جاری کیں، تاہم اس نے کہا کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن کی جانب بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں، جیسا کہ اس نے ایک دن قبل کیا تھا۔
ٹرمپ کی جانب سے دی گئی یہ دھمکیاں حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف ان کی سخت ترین بیان بازی ہے ۔ اپریل میں بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط قبول نہ کیں تو ایک پوری تہذیب آج رات ہمیشہ کے لیے مٹ سکتی ہے۔
خارگ جزیرے کی اہمیت
خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی صنعت کا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں سے ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں۔ ایران کے ساحلی علاقوں کی کم گہرائی کے باعث بڑے آئل ٹینکر زیادہ تر اسی جزیرے کے ذریعے تیل لادتے ہیں۔
تاہم امریکی فوج کے لیے خارگ جزیرے پر موجودگی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ یہ ایرانی سرزمین سے صرف تقریباً 33 کلومیٹر دور ہے، جہاں سے میزائل، ڈرون اور توپ خانے کے حملے کیے جا سکتے ہیں۔
جنگ بندی اور مذاکرات تعطل کا شکار
جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں تہران کو قیمت چکانا پڑے گی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی حملوں نے جنگ بندی کو عملاً بے معنی بنا دیا ہے، تاہم اس نے باضابطہ طور پر جنگ بندی سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش
مذاکرات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز ہے، جس پر ایران کے کنٹرول نے عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا، ایندھن کی قیمتیں بڑھا دیں اور دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ مہنگی کر دیں۔
ایران نے جمعرات کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اس سے مراد کیا ہے، کیونکہ جنگ کے آغاز سے ہی وہاں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی جبکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ حالیہ ہفتوں میں خفیہ کارروائیوں کے ذریعے جہازوں کو اس راستے سے گزارنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی حملے اور ایرانی جوابی کارروائیاں
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ فضائی حملے ایران کی مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے اور ان کا ہدف ایرانی فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی ڈھانچے اور فضائی دفاعی تنصیبات تھیں۔
ان حملوں کے دوران تہران، بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریب دیگر جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بعد میں بتایا کہ متاثرہ مقامات میں ایک صنعتی کمپلیکس، فوجی بیرک اور تہران کے مضافات میں واقع ایک پاسدارانِ انقلاب کا اڈہ شامل تھا۔
کویت نے حملوں کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ اردن نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی اڈے کی جانب آنے والے 20 ایرانی میزائل مار گرائے۔ بحرین میں ایک 11 سالہ بچی زخمی ہوئی جبکہ کئی گاڑیاں اور مکانات بھی نقصان کا شکار ہوئے۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج گزشتہ ماہ سے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے ایران کی نگرانی سے بچ کر تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزار رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 10 کروڑ بیرل سے زائد تیل ایران کی گرفت سے نکل کر عالمی منڈیوں تک پہنچ چکا ہے، اگرچہ اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت
امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے بدھ کی رات ’ایم ٹی جل ویر‘ نامی ایک ٹینکر کو ہیل فائر میزائلوں سے نشانہ بنایا کیونکہ اس کا عملہ امریکی احکامات پر عمل نہیں کر رہا تھا۔امریکہ کے مطابق اپریل کے وسط سے نافذ ناکہ بندی کے بعد یہ نواں تجارتی جہاز ہے جسے ناکارہ بنایا گیا ہے۔
بھارت کے وزیر برائے بندرگاہ و جہازرانی سربانند سونووال نے بتایا کہ منگل کو ایم ٹی سیٹی بیلو نامی جہاز پر امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سربراہ نے اس حملے کی مذمت کی جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی سفارت کار کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔




