معاہدے سے قبل اسرائیل کی بیروت پر بمباری،3 افراد ہلاک، ایران کا سخت ردعمل

Published On: 14 June, 2026 08:21 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
معاہدے سے قبل اسرائیل کی بیروت پر بمباری،3 افراد ہلاک، ایران کا سخت ردعمل

(فوٹو اے آئی)

اسرائیل امریکہ اور ایران کے بیچ ممکنہ امن معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔ وہ جنگ دوبارہ بھڑکانے کی مذموم کوشش کئی بار کرچکا ہے۔ اسی ناپاک ارادے سے اب اس نے بیروت کے مضافات میں تازہ حملے کیے ہیں ۔

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے سے  قبل اسرائیلی فوج نے اتوار(14 جون) کو بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس سے جاری سفارتی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے بعد لبنانی دارالحکومت کے اوپر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ لبنان کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق ملبے سے تین لاشیں نکالی گئیں جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔ایران نے متنبہ کیا ہے کہ ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

موجودہ شکل میں زیر غور امریکہ۔ایران معاہدہ اسرائیلی حکومت کے لیے مایوس کن ماناجا رہا ہے۔ ایک ہفتہ قبل بھی اسرائیل نے بیروت کے مضافات پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سب سے سنگین کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اسرائیلی حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیاہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ معاہدہ اتوار کو طے پا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا تھا کہ معاہدے کے قریب پہنچنے کے دوران لبنان پر شدید حملوں سے گریز کیا جائے، تاہم نیتن یاہو نے اس مطالبے کو نظر انداز کیا۔

نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ حملے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب تین پروجیکٹائل فائر کیے، جن کے بعد دھماکوں اور دھوئیں کے مناظر دیکھے گئے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی  پانچ منزلہ رہائشی عمارت تھی جس کی نچلی منزلوں پر دکانیں موجود تھیں۔ عمارت کی دو نچلی منزلیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ جنوبی مضافات کے رہائشی، جو حالیہ ہفتوں میں نسبتاً پرسکون حالات کے بعد واپس لوٹے تھے، علاقے سے نقل مکانی کرتے دکھائی دیے۔

 امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب؟
علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق قطر کے ثالث اتوار کو تہران پہنچے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جو ہزاروں جانیں لینے والی جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ معاہدے پر اتوار کو دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ معاہدہ آئندہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔

جوہری پروگرام تنازع کا مرکز
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور دیگر پیچیدہ معاملات کا حتمی حل پیش نہیں کرتا بلکہ آئندہ 60 روز کے لیے تکنیکی مذاکرات کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل ابتدائی طور پر ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت رکوانے کے خواہاں تھے، تاہم موجودہ معاہدے میں ان اہداف کے مکمل حصول کے آثار نظر نہیں آتے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے جبکہ جوہری ہتھیاروں کے لیے 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔

ایران مسلسل یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے اب تک افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونے کا کوئی عوامی اعلان نہیں کیا۔

 ایران کا انتباہ
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت پر اسرائیلی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی خواہش نہیں رکھتا یا پھر ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے مذاکرات کے آخری مرحلے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ایران کے جوائنٹ کمانڈ ہیڈکوارٹر کے نائب کمانڈر جنرل محمد جعفر اسدی نے کہاکہ بلاشبہ ان جرائم کا جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ پیر سے شروع ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کرنے والے ہیں، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل، گیس اور دیگر اہم تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔