(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ میں لگنے والی آگ، منبر صلاح الدین کی تباہی، ذمہ دار شخص، اقوام متحدہ کی قرارداد اور آج تک جاری تنازع کی مکمل تفصیل جانیں۔
21 اگست 1969 کی صبح تقریباً 7 بج کر 20 منٹ پر مسجد اقصیٰ کے اندر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے مسجد کے جنوبی حصے کو شدید متاثر کیا۔آگ کے نتیجے میں چھت کا ایک بڑا حصہ، دیواریں اور مسجد کے متعدد تاریخی و تعمیراتی عناصر متاثر ہوئے، تاہم مسجد کا مرکزی ڈھانچہ اور گنبد محفوظ رہے۔
اس واقعے میں سب سے بڑا نقصان تاریخی منبرصلاح الدین کی تباہی کی صورت میں ہوا، جو اسلامی تاریخ اور فن تعمیر کا ایک نادر شاہکار سمجھا جاتا تھا۔
صلاح الدین ایوبی سے منسوب منبرکی تباہی
منبرِصلاح الدین بارہویں صدی میں تیار کیا گیا ایک انتہائی نفیس اسلامی فنِ تعمیر کا شاہکار تھا۔ یہ منبر سلطان صلاح الدین ایوبی سے منسوب تھا اور بیت المقدس میں صلیبی دور کے خاتمے اور مسلمانوں کی دوبارہ حکمرانی کی علامت بن چکا تھا۔
صدیوں تک یہ منبر مسجد اقصیٰ کے اندر موجود رہا، جہاں یہ نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا تھا بلکہ اسلامی تہذیب اور قرون وسطیٰ کے فن تعمیر کی ایک اہم یادگار بھی تھا۔
1969 کی آگ میں منبر مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جس سے یہ واقعہ محض ایک عمارت کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک بڑے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے نقصان میں تبدیل ہوگیا۔
آگ کس نے لگائی؟
آگ لگنے کے اگلے روز اسرائیلی پولیس نے آسٹریلوی شہری ڈینس مائیکل روہان کو گرفتار کیا، جو سیاحتی ویزے پر یروشلم آیا تھا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق مسجد کے محافظوں کی فراہم کردہ معلومات نے اس کی گرفتاری میں مدد کی۔ روہان نے بعد میں مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کا اعتراف بھی کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران اس کی جانب سے مذہبی نوعیت کے انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کیا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مسجد کو جلانا یروشلم میں یہودی معبد کی تعمیر سے متعلق ایک خدائی مشن کا حصہ تھا۔
روہان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا تھا۔
دسمبر 1969 میں اسرائیلی عدالت نے اسے ذہنی بیماری کے باعث اس عمل کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا اور اسے نفسیاتی ادارے میں رکھنے کا حکم دیا۔
اس عدالتی فیصلے اور واقعے کی اس وضاحت پر عرب اور مسلم دنیا میں شدید شکوک و شبہات اور تنقید سامنے آئی، خصوصاً اس لیے کہ آگ 1967 کی جنگ کے صرف دو سال بعد لگی تھی، جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا۔
مسجد اقصیٰ کو کتنا نقصان پہنچا؟
آگ سے مسجد اقصیٰ کے جنوبی حصے کو شدید نقصان پہنچا۔
چھت کے بڑے حصے، دیواروں اور کئی تاریخی و تعمیراتی عناصر کو نقصان پہنچا جبکہ منبرِ صلاح الدین مکمل طور پر جل گیا۔
فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا اور مسجد کے مرکزی ڈھانچے اور گنبد کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔ اس کے باوجود واقعے کو جدید دور میں مسجد اقصیٰ سے متعلق اہم اور حساس واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
آگ پر مسلم دنیا کا ردعمل کیا تھا؟
مسجد اقصیٰ میں آگ کی خبر پھیلتے ہی فلسطین، عرب ممالک اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
متعدد ممالک نے فوری طور پر اقوام متحدہ میں معاملہ اٹھایا اور یروشلم کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
22 اگست 1969 کو عرب اور مسلم ممالک کے ایک گروپ نے اقوام متحدہ کو ایک مراسلہ بھیجا، جس میں مسجد اقصیٰ کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔اس کے بعد معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کیا کیا؟
15 ستمبر 1969 کو سلامتی کونسل نے قرارداد 271منظور کی۔
قرارداد میں مسجد اقصیٰ کو پہنچنے والے وسیع نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور اسے انسانی ثقافت کے لیے نقصان قرار دیا گیا۔
سلامتی کونسل نے یروشلم کے مقدس مقامات، مذہبی عمارتوں اور مقامات کو نشانہ بنانے والے اقدامات کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ قرارداد میں یروشلم کی حیثیت سے متعلق سلامتی کونسل کے سابقہ موقف کی بھی توثیق کی گئی اور شہر کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مسترد کیا گیا۔
یوں مسجد اقصیٰ کی آگ کو محض آتشزدگی کے ایک واقعے کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے 1967 کے بعد مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے وسیع تر سیاسی اور قانونی تناظر میں بھی زیر بحث لایا گیا۔
آگ کے بعد مسجد اقصیٰ کی بحالی کیسے ہوئی؟
آگ کے بعد مسجد اقصیٰ کے متاثرہ حصوں کی بحالی کے لیے فلسطینیوں اور دیگر ماہرین نے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ یروشلم کے معروف معمار اور انجینئر ابراہیم الدقاق بھی مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو اور بحالی کی کوششوں میں شامل اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
سب سے بڑا چیلنج منبرِ صلاح الدین کی تباہی تھی، کیونکہ اصل منبر انتہائی پیچیدہ اور نفیس کاریگری کا نمونہ تھا۔ کئی دہائیوں بعد ماہرین نے اس تاریخی منبر کی تفصیلی تحقیق اور قدیم تصاویر و شواہد کی مدد سے ایک نیا منبر تیار کیا، جسے بعد میں مسجد اقصیٰ میں نصب کیا گیا۔
21 اگست آج بھی اہم کیوں ؟
مسجد اقصیٰ میں 1969 کی آگ فلسطینیوں کے لیے صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ آج بھی مسجد کے مستقبل سے جڑے خدشات کی علامت ہے۔
فلسطینی حلقوں کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بار بار دراندازی، مذہبی اشتعال انگیزی اور اس کے موجودہ مذہبی و انتظامی نظام میں تبدیلی کی کوششوں نے 1969 کے واقعے کی یاد کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
یہودی مذہبی قوم پرست تحریکوں کا ایک حصہ مسجد اقصیٰ کے احاطے کو وسیع یہودی مذہبی رسائی اور کنٹرول دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔ بعض گروپ اسی مقام پر تیسرے یہودی معبد کی تعمیر کے حامی بھی ہیں۔
اس معاملے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیرایتمار بن گویر سب سے نمایاں سیاسی شخصیات میں شامل رہے ہیں۔
2024 میں بن گویر نے کہا تھا کہ ان کی پالیسی یہودیوں کو وہاں عبادت کی اجازت دینا ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر فیصلہ ان کے اختیار میں ہو تو وہ احاطے میں ایک یہودی عبادت گاہ قائم کریں گے۔
اگست 2025 میں بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں علانیہ یہودی عبادت کی قیادت بھی کی اور اس مقام پر اسرائیلی خودمختاری مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی لیے فلسطینیوں کے لیے 21 اگست 1969 کی یاد صرف 57 سال پرانے واقعے کی یاد نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کی شناخت، انتظام، مذہبی حیثیت اور مستقبل پر جاری کشمکش کا حصہ ہے۔





