علی گڑھ تحریک برصغیر میں تعلیمی اور فکری بیداری کی ایک اہم کوشش تھی، جس کی بنیاد سر سید احمد خان نے جدید تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کے عظیم مقصد کے تحت رکھی۔ اس تحریک کا آغاز 1875 میں مدرستہ العلوم کے قیام سے ہوا، جو بعد میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا۔
علی گڑھ تحریک سے تاریخ کے صفحات بھرے ہیں۔یہ فکری،علمی،ادبی تحریک تھی۔تحریک کے بنیاد گزاروں نے جدیدتعلیم کاجو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر کی راہ آسان نہیں تھی۔بڑے مقصدکے حصول کے لیے سادہ مگرٹھوس شروعات کی گئی۔1875میں مدرسۃالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔11طلباء اور7اساتذہ سے مدرسے کے تعلیمی سفر کی شروعات ہوئی۔عربی،فارسی،دینیات کے لیے اساتذہ مقررکیے گئے۔اسکول انتظامیہ محنت رنگ لائی اورطلباء کی تعداد میں جلد ہی 60 تک پہنچ گئی۔حالانکہ ہیضے کی وباء کے سبب بہت سارے طلبہ اپنے تعلیم چھوڑ دی ۔
24 مئی 1875کو مدرسہ میں درس وتدریس کا عمل شروع ہوا۔ایک ہفتہ بعد یکم جون کواسکول کے کلاسز کاآغاز ہوا۔ تعلیمی سرگرمیوں کے درمیان آئندہ سال یعنی 1جنوری 1978 کالج میں پڑھائی کے سلسلے کی شروعات ہوئی ۔اس مدرسے کے اعلیٰ درجات اورقانونی امتحانات کے لیے کلکتہ یونیورسٹی سے آئندہ برسوں میں بتدریج افیلیئشن ہوگیا۔ادارے کے قیام کے ابتدائی مراحل میں نصاب کو مرتب کرنے ،درس وتدریس کے عمل کومنظم و منضبط کرنے،اساتذہ کی تقرری،طلباء کے لیے سہویات کی فراہمی،بورڈنگ ہاؤس کا قیام اوراس توسیع،ہونہار طلباء کے لیے وظائف اور غریب طلبہ کی مالی امداد کانظم، اسکالر شپ دینے کا نظم، طلبہ کے لیے حفظان صحت کا اہتمام جیسے مسائل بھی انتظامیہ کے پیش نظررہے ۔جس پر بہ یک وقت کام جاری رہا ۔
مدرستہ العلوم میں طلباء کےجدیدسائنسی علوم اورمذہبی تعلیم دونوں میں توازن قائم رکھنے کی ابتداء سے نہ صرف کوشش کی گئی بلکہ اسے یقینی بنایا گیا۔ مدرستہ العلوم کا دروازہ ہرمذہب کے طلباء کے لیے کھلا تھا۔مدرستہ العلوم میں انگریزی زبان و ادب اوریورپی سائنس اورلٹریچر،عربی فارسی،سنسکرت اورمسلمانوں کے لیے لازمی طوردینیات کی تعلیم کا نظم تھا۔
طلباء کی ہمہ گیر ذہن سازی کے لیے نصابی تعلیم سے پرے بھی دیگرسرگرمیوں میں شرکت کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مباحثہ،خطابت،اخبار اورکتب بینی سمیت کھیل کود میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی گئی۔
ادارے کے امور کے انتظامات کے لیے پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ان میں کالج فنڈ کمیٹی،کمیٹی مدبران تعلیم السنہ مختلفہ وعلوم دنیویہ،کمیٹی مدبران مذہب اہل سنت وجماعت، کمیٹی مدبران تعلیم مذہب شیعہ اثناعشیر اورکمیٹی منتظم کے نام شامل ہیں۔
سرسید کی بلند حوصلگی ، عزمِ راسخ ، خلوص نیت اور جہد مسلسل نے اس مشکل اور متنوع کام کو ایک تحریک کی شکل دے دی تھی ۔ بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ تحریک کے خدوخال بھی تبدیل ہوتے رہے لیکن سرسید کے افکار کی معنویت ہر دور میں مسلم ہے۔




