(فوٹوفائل)
ابنِ صفی اردو زبان کے ان معدودے چند ادیبوں میں شامل ہیں جن کی تحریریں کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ جاسوسی ادب کو نئی پہچان دینے والے اس عظیم ناول نگار نے اپنے لازوال کرداروں اور 250 سے زائد ناولوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک ایسا باب رقم کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر ان کی زندگی اور ادبی خدمات پر ایک نظر۔
اردوادب میں ابن صفی کا اعلیٰ مقام ہے ۔ انھیں اس دنیا سے رخصت 46 برس بیت چکے ہیں لیکن جاسوسی ادب میں ابن صفی سا کوئی نہیں ہوا ۔
جاسوسی ادب کو مقبول عام بنانے میں ابن صفی کا اہم کردار ہے ۔ اُن کے ناول آج بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھے جا رہے ہیں، جیسے اُن کی زندگی میں پڑھے جا رہے تھے اورشاید کل بھی پڑھے جاتے رہیں گے، بل کہ اُس وقت تک پڑھے جاتے رہیں گے ، جب تک اُردو زبان زندہ ہے ۔
ابنِ صفی 26 جولائی 1928 کو الہ آباد کے ناراقصبےمیں پیدا ہوئے اور26 جولائی 1980 کواس جہاںِ فانی رخصت ہوئے۔
ان کا صل نام اسرار احمد تھا جبکہ ان کے والد کا نام صفی اللہ تھا اسی نسبت سے وہ اپنا نام ابن صفی لکھتے تھے۔ تقسیم کے بعد اُن کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔
ابن صفی نے ابتدائی تعلیم مجید یہ اسلامیہ ہائی اسکول (الٰہ آباد) سے حاصل کی اور میٹرک کیا۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم آگرہ یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔
ابنِ صفی نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز غزل گوئی سے کیا اور اسرار ناروی تخلص اختیار کیا۔ بعد میں وہ نثر کی طرف متوجہ ہوئے اور طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھے۔ 1952 میں ابنِ صفی نے جاسوسی کہانیاں اور پھر باقاعدہ ناول لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جس نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
1952 میں ان کا پہلا جاسوسی ناول دلیر مجرم شائع ہوا تھا ۔ جس میں انہوں نے اپنے لافانی کردار فریدی اور حمید کو پیش کیا ۔ بعد میں ایک دوسرے سریز میں انہوں نے جاسوس عمران کا کردار پیش کیا اور یہ کردار بھی یادگار بن گیا ۔
ابن ِصفی نے محض 20برس کے عرصے میں 250سے زیادہ جاسوسی ناول لکھے ، یعنی انھوں نے ہرماہ ایک ناول لکھا۔ان کے ناول کا قارعین بے صبری سے انتظار کیا کرتے تھے ۔ جاسوسی ادب میں ابنِ صفی کی تخلیقات کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور اپنے دور کے کئی اہم اور نام ور غیر ملکی ادیبوں اور نقادوں نے بھی ان کے فن اور تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔




