ممتاز غزل گو شاعر اور مقبول فلمی نغمہ نگار قتیل شفائی کی 25 ویں برسی

Published On: 11 July, 2026 03:47 PM

WhatsApp
Facebook
Twitter
ممتاز غزل گو شاعر اور مقبول فلمی نغمہ نگار قتیل شفائی کی 25 ویں برسی

غزل کے عمدہ شاعر اور مقبول فلمی نغمہ نگارکی حیثیت سے قتیل شفائی کو اردو ادب میں بڑے احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آج ان کی 25 ویں برسی ہے ۔لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔


’جب بھی آتا ہے میرا نام تیرے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ میرے نام سے جل جاتے ہیں‘

منفردلب ولہجے کے ممتاز شاعر اور عہدساز نغمہ نگارقتیل شفائی کو دنیا سے رُخصت ہوئے25 برس بیت گئے مگروہ لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔

ان کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا جب کہ قتیل ان کا تخلص اور شفائی کا لاحقہ انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شفا کانپوری کی نسبت سے لگایا اور اسی سے شہرت پائی۔ وہ 24دسمبر 1919کو خیبر پختون خواہ صوبے کی ہری پور ہزارہ تحصیل میں پیدا ہوئے تھے۔

بچپن میں ہی والد کا سایہ سرسے اُٹھ گیا اور انھیں مجبوراً تعلیم کو ترک کرکے زندگی کی گاڑی کو کھینچنا پڑا۔ چھوٹی عمرہی میں کھیلوں کے سامان کی دکان قائم کی ۔ جب کاروبار چل نکلا تو  راولپنڈی منتقل ہونے فیصلہ کیا جہاں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں نوکری کی اور 60روپے ماہانہ کمانے لگے۔ 

انھوں نےتیرہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیئے تھے اورپہلا شعری مجموعہ کلام’ہریالی‘کے نام سے1942 میں شائع ہواتھا ۔

1946میں نذیر احمد نے قتیل شفائی کو لاہور بلایا اورماہنامہ
’ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔ہفت روزہ اسٹار میں قتیل شفائی کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد انھیں ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔

1948 میں انھوں نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
 فلمی سفر کا آغازکرنے کے بعدانہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے،وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بالی وڈ فلموں کے لئے بھی نغمہ نگاری کا اعزاز حاصل تھا۔

فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی سفر بھی جاری رہا،ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی،گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر،چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔
لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔

قتیل شفائی کی فنی اورادبی خدمات کے اعتراف میں  انہیں 1994 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے علاوہ آدم جی ادبی ایوارڈ،امیر خسرو ایوارڈاور نقوش ایوارڈ سے بھی نوازا گیاتھا۔
ان کے شعری مجموعوں کاچینی،روسی،انگریزی،ہندی اور گجراتی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکاہے۔  
قتیل شفائی 11 جولائی 2001 کولاہور میں انتقال کرگئے  اورعلامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے کریم بلاک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں،ان کی آب بیتی ان کی وفات کے بعد گھنگروٹوٹ گئے کے نام سے شائع ہوئی تھی۔