میٹا کی پالیسیوں پر سوالات،سابق انجینئر کا عدالت میں تہلکہ خیز بیان

Published On: 20 August, 2026 08:09 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter

(تمام تصاویر رائٹرز)

میٹا کے سابق انجینئر آرٹورو بیجر نے عدالت میں مارک زکربرگ پر الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی میں بچوں اور نوعمر صارفین کی حفاظت کے مقابلے میں صارفین کی مصروفیت اور منافع کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ بیجر کے مطابق میٹا کے اعلیٰ انتظامی ڈھانچے میں مارک زکربرگ کا فیصلہ کن کردار تھا اور اگر وہ کسی معاملے کو ترجیح دیتے تو کمپنی میں چند ماہ کے اندر بڑی تبدیلیاں ممکن تھیں۔

میٹا پلیٹ فارمز کے سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر آرٹورو بیجر(Arturo Bejar) نے بدھ (19 اگست) کے روز گواہی دیتے ہوئے کہا کہ چیف ایگزیکٹو افسرمارک زکربرگ (Mark Zuckerberg)نے ایسے کلچر کو فروغ دیا جس میں فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت کو صارفین کی تعداد اور انگیجمنٹ بڑھانے کے مقابلے میں ثانوی حیثیت حاصل تھی۔

خبررساں ایجنسی رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق میٹا کے حفاظتی ریکارڈ کے سخت ناقد آرٹورو بیجر نے ریاستوں کے ایک اتحاد کی جانب سے دائر کیے گئے اہم مقدمے میں اپنی گواہی کے دوسرے روز یہ الزام عائد کیا۔ اس مقدمے کے نتائج فیس بک اور انسٹاگرام سمیت دنیا کی مقبول ترین ایپس کے مستقبل کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت ریاستوں کا الزام ہے کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز کو نوجوان صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک جوڑے رکھنے کے لیے اس طرح ڈیزائن کیا، جس سے بے چینی، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جبکہ کمپنی نے صارفین کو اپنی سروسز کی حفاظت کے بارے میں گمراہ کیا۔

امریکہ کی 29 ریاستوں نے میٹا پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے پلیٹ فارم استعمال کرنے کے دوران ان کا ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کیا اور استعمال کیا، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نوجوان صارفین پر سوشل میڈیا کے اثرات کے حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا قانونی امتحان ہے۔
مقدمے کی سماعت 18 اگست سے شروع ہوئی جو تقریباً 6 ہفتوں تک جاری رہے گی  جبکہ مارک زکربرگ کی بھی عدالت میں گواہی متوقع ہے۔

میٹا کے خلاف مقدمہ
کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت دیگر ریاستوں کا الزام ہے کہ  میٹا(Meta) نے فیس بک(Facebook) اور انسٹاگرام(Instagram) کو اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ کم عمر یوزر ان پلیٹ فارمز پر زیادہ وقت گزاریں جس کے نتیجے میں بعض نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور خودکشی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔

29ریاستوں میں شامل ریاستیں یہ الزام بھی عائد کر رہی ہیں کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا نامناسب طور پر جمع کیا اور اسے استعمال کیا، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

مذکورہ ریاستوں کی جانب سے پہلے گواہ کے طور پر پیش ہونے والے بیجر نے کہا کہ زکربرگ کمپنی کے اہم فیصلوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور میٹا میں فیصلوں کا نظام اوپر سے نیچے کی طرف چلتا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر زکربرگ کسی معاملے کو ترجیح دے دیں تو کمپنی چند ماہ میں بڑی تبدیلیاں کرسکتی ہے۔

بیجر نے عدالت میں کہاکہ آپ بچوں کے معاملے میں مارک زکربرگ پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

بیجر نے 2009 سے 2015 تک میٹا میں کام کیا۔ اس کے بعد  2019 سے 2021 کے دوران ایک آزاد کنٹریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے انسٹاگرام استعمال کرنے والے نوعمر افراد کی فلاح و بہبود کا جائزہ لیا۔

2023 میں امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے بھی بیجر نے کہا تھا کہ میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز پر نوعمر یوزر کو درپیش ہراسانی اور دیگر نقصانات کا علم تھا لیکن کمپنی نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔



صارفین کی حفاظت پرمنافع کوترجیح
اس سے قبل بیجر نے ریاستوں کے وکیل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میٹا نے صارفین کی مصروفیت اور منافع کو صارفین کی حفاظت پر ترجیح دی۔

انہوں نے بتایا کہ میٹا کے پاس ایسا ایک ٹول موجود ہے جو صارفین کو وقفہ لینے کی ترغیب دیتا ہے اور کمپنی کے دفاع میں اسے ایک اہم حفاظتی اقدام قرار دیا گیا ہے، لیکن بیجر کے مطابق یہ ٹول ناکام ہونے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کیونکہ یہ پہلے سے فعال نہیں ہوتا اور اس کے یاددہانی پیغامات کو نظر انداز کرنا آسان ہے۔

میٹا کو بچوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کے الزامات پر اسی نوعیت کے ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔ بیجر چار مقدمات میں کمپنی کے خلاف اہم گواہ رہ چکے ہیں۔

ان میں سے ایک مقدمہ ریاست نیو میکسیکو کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے میٹا پر 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے ہرجانے اور جرمانے عائد کیے تھے۔ عدالت نے کمپنی کو ریاست میں اپنے پلیٹ فارمز کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔