اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ ان کے مقابلے میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ، سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمار بن گویر اور عرب سیاست داں منصور عباس سمیت کئی اہم چہرے میدان میں ہیں۔
اسرائیل میں 27 اکتوبرکوووٹنگ ہوگی ۔ رائے دہندگان موجودہ وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو پرپھر بھروسا کرینگے یا اقتدار کی باگ ڈور کسی اور ہاتھوں دیں گے یہ نتائج کے اعلان کے بعد طئے ہوگا۔
انتخابی جائزوں کے مطابق، قوم پرست جماعت لیکوڈ کے سربراہ نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف، سینٹرل پارٹی یاشار! کے رہنما گادی آئزن کوٹ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
اسرائیل میں ووٹر براہِ راست وزیر اعظم کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس کے بعد جماعتیں اتحاد قائم کرکے حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ 120 ارکان پر مشتمل اسرائیلی کنیسٹ میں آج تک کسی ایک جماعت نے تنہا اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔
انتخابات سے قبل اسرائیل کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے پانچ اہم لیڈروں پر ایک نظرڈالتے ہیں ۔
بنیامین نیتن یاہو:اسرائیلی سیاست کے مرکزی کردار
77 سال کے بنیامین نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے لیڈراورملک کی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ جنگوں، سیاسی بحرانوں، اسکینڈلز اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے باوجود وہ اقتدار میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ان کے حامی قومی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے ان کے ریکارڈ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات کو ان کی اہم سیاسی طاقت قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ بھی نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی کامیابی کی حمایت کرچکے ہیں۔
تاہم، مخالفین کا الزام ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے پہلے کی پالیسی اور سکیورٹی ناکامیوں کے لیے نیتن یاہو ذمہ دار ہیں اور بعد میں ہونے والی جنگوں سے نمٹنے میں بھی انہوں نے غلط حکمت عملی اختیار کی۔
2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICJ) نے مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اسرائیل میں بھی وہ طویل عرصے سے قانونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر دھوکہ دہی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں، تاہم وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
گادی آئزن کوٹ: نیتن یاہو کے اہم حریف
سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت یاشار(Yashar) کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2022 میں فوج سے سیاست میں قدم رکھا اور خود کو نیتن یاہو کے مقابلے میں ایک نسبتاً معتدل متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔
آئزن کوٹ کا تعلق مراکش سے نقل مکانی کرکے آنے والے یہودی خاندان سے ہے اور وہ ایک محنت کش طبقے کے گھرانے میں پلے بڑھے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں چار دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور بالآخر فوج کے سربراہ کے عہدے تک پہنچے۔
7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ میں لڑائی کے دوران ان کے بیٹے اور دو بھتیجے ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں مبصر کی حیثیت سے بھی شامل رہے، لیکن واضح حکمت عملی نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے آٹھ ماہ بعد مستعفی ہوگئے۔
اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ میزراحی، یعنی شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے یہودی پس منظر کے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ اسرائیل میں اس طبقے کو تاریخی طور پر یورپی نژاد اشرافیہ کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔
تاہم، فلسطین کے مسئلے پر آئزن کوٹ کا موقف بھی سخت ہے۔ ان سے منسوب اسرائیلی فوجی حکمت عملی ’دحیہ ڈاکٹرائن‘ میں ان علاقوں میں غیر متناسب طاقت استعمال کرنے کا تصور شامل ہے جہاں سے مسلح گروہ حملے کرتے ہیں۔
نفتالی بینیٹ: سابق وزیر اعظم اور دائیں بازو کے رہنما
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ دائیں بازو کے مذہبی رجحان رکھنے والے لیڈر ہیں۔ وہ سینٹرل سیاست داں یائر لپپڈ کے ساتھ مشترکہ انتخابی اتحاد ’بیاخاد‘ کے ذریعے میدان میں ہیں۔
بینیٹ فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حامی ہیں۔
2013 میں کنیسٹ میں داخل ہونے سے پہلے وہ نیتن یاہو کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کی مقامی انتظامیہ کی تنظیم ’یشع کونسل‘ کے سربراہ بھی رہے۔
ان کی قدامت پسند جماعت یامینا نے سات پارلیمانی نشستیں حاصل کی تھیں، جن کی مدد سے وہ بائیں بازو اور عرب جماعتوں پر مشتمل اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے تحت بینیٹ نے 2021 میں مختصر مدت کے لیے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا، جس کے بعد یائیر لاپڈ نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالی۔
فلسطینیوں کے حوالے سے سخت گیر موقف کے باوجود بینیٹ اور نیتن یاہو کے درمیان سکیورٹی معاملات اور اسرائیلی عدالتی نظام سے متعلق تنازعات پر گہرے اختلافات ہیں۔
تماربن گویر: انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا نمایاں چہرہ
اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست لیڈر ہیں۔ ان کی جماعت اوتزما یہودیت نے گزشتہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں کابینہ میں اہم عہدہ ملا اور نیتن یاہو کی حکومت مزید دائیں بازو کی طرف جھک گئی۔
پیشے کے اعتبار سے وکیل بن گویر فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے ملزم دائیں بازو کے یہودی انتہا پسندوں کا دفاع کرکے شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات میں سزائیں بھی ہوچکی ہیں، جن میں ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت سے متعلق سزا شامل ہے۔
انتہائی انتہا پسند نظریات کے باعث اسرائیلی فوج نے نوجوانی میں انہیں فوج میں بھرتی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ متنازع ربی میر کہانے کے پیروکار بھی رہے ہیں، جو نسل پرستانہ نظریات رکھتے تھے اور اسرائیل، غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو نکالنے کی وکالت کرتے تھے۔
بن گویر غزہ سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کی مبینہ طور پر ’رضاکارانہ‘ ہجرت کے منصوبے کی حمایت بھی کرچکے ہیں۔ ان کے موقف میں غزہ میں یہودی بستیوں کو دوبارہ آباد کرنے کی وکالت بھی شامل ہے۔
منصورعباس: عرب سیاست اور ممکنہ اتحادی حکومت میں اہم کردار
منصورعباس شمالی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نژاد عرب سیاست داں اور دانتوں کے ڈاکٹر ہیں۔ وہ اسلامی رجحان رکھنے والی جماعت راعم کے سربراہ ہیں، جو 2021 میں اسرائیل کی حکمران اتحادی حکومت میں شامل ہونے والی پہلی عرب قیادت کی جماعت بنی تھی۔
منصور عباس کی سیاسی حکمت عملی اسرائیل کے عرب شہریوں کو درپیش مقامی مسائل، خصوصاً عرب آبادیوں میں جرائم اور امن و امان کی صورت حال، پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ اس طرز سیاست سے ان کی جماعت کنیسٹ میں زیادہ نشستیں حاصل کرسکتی ہے اور مستقبل میں حکومت سازی کے لیے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اسی حکمت عملی کے تحت عباس نے سابق پولیس کمانڈر اور سینٹرل یہودی سیاست داں یوآو سیگالووٹز کو اپنی جماعت کی انتخابی فہرست میں دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ وہ 2019 سے اسرائیلی پارلیمان کے رکن ہیں۔
اسرائیل کی پیچیدہ اتحادی سیاست میں راعم جیسی جماعتوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کسی ایک جماعت کے اکثریت حاصل نہ کرنے کی صورت میں حکومت سازی کے لیے اضافی پارلیمانی حمایت درکار ہوتی ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں اصل مقابلہ کن مسائل پر ہے؟
اس انتخاب میں صرف وزارت عظمیٰ کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اسرائیل کی آئندہ سیاسی سمت بھی طے ہوگی۔ اہم سوالات یہ ہیں:
- 1۔ نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل: کیا وہ ایک اور مدت کے لیے اقتدار برقرار رکھ سکیں گے؟
2- غزہ اور فلسطینی پالیسی: کیا نئی حکومت بھی فلسطینی ریاست کی مخالفت اور غزہ کے حوالے سے سخت گیر پالیسی جاری رکھے گی؟
3- قومی سلامتی: کیا 7 اکتوبر2023 کے حملوں اور اس کے بعد کی جنگوں سے متعلق سکیورٹی ناکامیوں کا معاملہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوگا؟
4- عدالتی تنازعات: کیا نیتن یاہو کی قانونی مشکلات اور عدالتی نظام سے متعلق اختلافات حکومت سازی پر اثر ڈالیں گے؟
5- اتحادی سیاست: کیا کوئی جماعت 120 رکنی کنیسٹ میں تنہا اکثریت حاصل کرسکے گی، یا نئی حکومت کے لیے مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک ساتھ آنا ہوگا؟
انتخابات کے نتائج سے قطع نظر، فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور سکیورٹی کے معاملے میں سخت گیر رویہ اہم امیدواروں میں نمایاں ہے۔ اس لیے حکومت کی تبدیلی سے اسرائیل کی فلسطین پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع کرنا فی الحال مشکل ہے۔