(فوٹو اے آئی)
ہمالیہ کے گلیشیئرز سے لے کر کشمیر کے بادل پھٹنے، دہلی کے اراولی پہاڑی سلسلے، مہاراشٹر کے سہیا دری اور آسام کے کازیرنگا نیشنل پارک تک، جنوبی ایشیا کے حساس ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
قدرت جب بولتی ہے تو ہمیشہ لفظوں کا سہارا نہیں لیتی ۔ کبھی پگھلتے ہوئے گلیشیئر کی صورت میں، کبھی اچانک پھٹ پڑنے والے بادل کی صورت میں، کبھی دریا کے بپھرے ہوئے پانی میں اور کبھی خاموشی سے سوکھتے ہوئے چشمے کی صورت میں وہ انسان کو متنبہ کرتی ہے مگر انسان، جو اپنی ترقی کے نشے میں آسمان کو چھونے والی عمارتیں بناتا اور پہاڑوں کے سینے چیر کر سڑکیں نکالتا ہے، اکثر قدرت کی ان خاموش صداؤں کو اس وقت سنتا ہے جب بہت کچھ بہہ چکا ہوتا ہے۔
نیپال میں 26 اگست 2026 کا المناک سیلاب اسی طویل داستان کا ایک نیا باب ہے۔ ہمالیائی خطے میں حالیہ برسوں کے مشاہدے میں زمین کا کھسکنا (ببوطِ ارض )بادل پھٹنا ،برفانی تودوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو ماہرین بڑھتی ہوئی ماحولیاتی عدم تحفظ اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
رائٹرز کی ایک حالیہ جائزہ رپورٹ نے بھی گزشتہ بارہ برسوں میں ہمالیہ میں رونما ہونے والی متعدد مہلک آفات کو موسمیاتی تبدیلی اور تیز رفتار انسانی ترقی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے جوڑا ہے مگر اس سانحے کو صرف نیپال کا المیہ سمجھنا شاید اس کی اصل معنویت کو محدود کردینا ہوگا۔ نیپال کا ہمالیہ، کشمیر اور اتراکھنڈ کے پہاڑ، سکم اور اروناچل کے بلند علاقے، دہلی کے اراولی اور مہاراشٹر کے سہیا دری یہ سب ایک بڑے ماحولیاتی سوال کے مختلف ابواب ہیں۔
سوال ایک ہی ہے:کیا انسان ترقی کرتے ہوئے اپنے ہی وجود کی بنیادیں تو نہیں کاٹ رہا؟
پہاڑ محض بلند و بالا چٹانیں نہیں ہوتے۔ وہ زمین کے آبی نظام کے محافظ، بارش کے نظام کے منظم کنندہ، جنگلات کے مسکن، حیاتیاتی تنوع کے مراکز اور انسانی تہذیبوں کے خاموش نگہبان ہوتے ہیں۔ہمالیہ کو اگر ایشیا کا آبی مینار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کے گلیشیئر اور برفانی ذخائر کئی بڑے دریائی نظاموں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ یہی پانی کھیتوں کو سیراب کرتا، شہروں کو زندگی دیتا، پن بجلی پیدا کرتا اور کروڑوں انسانوں کی معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھتا ہے۔لیکن یہ نظام انتہائی حساس بھی ہے۔درجۂ حرارت میں معمولی تبدیلی، برف باری کے انداز میں فرق، گلیشیئرز کا سکڑنا، شدید بارش، پہاڑی ڈھلوانوں میں عدم استحکام اور انسانی تعمیرات ،یہ سب مل کر خطرے کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیق میں ہندوستانی مغربی ہمالیہ میں درجۂ حرارت اور بارش کے طرزمیں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ بعض مطالعات میں بلند اور درمیانی علاقوں میں برف کے بجائے بارش کی طرف تبدیلی کو بھی عالمی حدت سے متعلق ایک اہم رجحان قرار دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پہاڑ کہہ رہے ہوں:میں صرف برف نہیں، تمہارے کل کا پانی ہوں،مجھے مت پگھلاؤ، میں تمہاری پیاس کا مستقبل ہوں۔نیپال کے حالیہ واقعے میں فوری محرک ایک شدید پہاڑی خطرہ تھا، مگر اس واقعے کی معنویت اس سے کہیں وسیع ہے۔پہاڑی علاقوں میں قدرتی خطرات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ زلزلے آئیں گے، بارش ہوگی، برف پگھلے گی، چٹانیں گریں گی اور دریا کبھی کبھی اپنی معمول کی حدود سے باہر نکلیں گے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدرتی خطرہ کب انسانی المیے میں تبدیل ہوتا ہے؟جب پہاڑ کی قدرتی ساخت کو نظرانداز کرکے تعمیرات کی جائیں، جب نکاسی کے راستے بند ہوں، جب جنگلات کاٹے جائیں، جب خطرناک ڈھلوان پر بستیاں آباد ہوں، جب بنادی ڈھانچے کومستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سمجھے بغیر دیزائن کیا جائے اور جب قبل از قت خبر دار کرنے کا نطام نا کافی ہو ، تو قدرتی خطرہ تباہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔اس لیے پائیدار ترقی کا پہلا اصول شاید یہی ہونا چاہیے:قدرت کے خلاف تعمیر نہیں، قدرت کو سمجھ کر تعمیر۔نیپال سے ہندوستان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے تو کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، لداخ، سکم اور اروناچل پردیش کے پہاڑ بھی ہمیں اسی کہانی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
2026 میں کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بادلوں کا پھٹنا ،سیلابی ریلے،اور زمین کا کھسکنے اور نے انسانی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ سائنسی اعتبار سے بادل پھٹنا محض ’’اچانک بہت زیادہ بارش‘‘ نہیں؛ اس کے پیچھے فضائی عدم استحکام ،رطوبت کا تقارب (فضا میں نمی کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ) اور کوہستانی سلسلے کے دباؤ کے جیسے پیچیدہ عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں۔ 2026 کی ایک تحقیق نے جموں و کشمیر کے رام بن کے بادل پھٹنے میں اڑتے دریااور ہمالیائی علم ،جبل کے باہمی تعلق کو نمایاں کیا ہے۔ یہ سائنس ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:پہاڑ موسم کو صرف برداشت نہیں کرتے، وہ موسم کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔اس لیے پہاڑوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دراصل پورے موسمیاتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوسکتی ہے۔
پہاڑ چھوٹا ہو تو اہمیت بھی چھوٹی نہیں ہوجاتی ہمالیہ کی عظمت کے مقابلے میں دہلی کے اراولی پہاڑ بظاہر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر علم ماحولیات کے پیمانے پر ان کی اہمیت کسی بلند پہاڑی سلسلے سے کم نہیں۔اراولی ہندوستان کے قدیم ترین ماحولیاتی تشکیل میں شمار ہوتا ہے اور دہلی سے ہریانہ، راجستھان اور گجرات تک پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق یہ سلسلہ صحرا زدگی کے خلاف قدرتی رکاوٹ، زیر زمین پانی جذب کرنے کا علاقہ ،اور حیاتیاتی تنوع اور مسکن کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہاں ایک گہرا فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے:کیا کسی پہاڑ کی حفاظت اس کی بلندی سے ہونی چاہیے یا اس کے ماحولیاتی کردارسے؟
اگر ایک چھوٹی پہاڑی زیر زمین آبی ذخائر کی بحالی کرتی ہے، دھول اور صحرا زدگی کے پھیلاؤ کو روکتی ہے، حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتی ہے اور مقامی موسم پر اثر انداز ہوتی ہے تو وہ صرف ’’چھوٹی پہاڑی‘‘ نہیں رہتی؛ وہ ایک مکمل ماحولیاتی بنیا دی ڈھانچہ بن جاتی ہے۔اسی لیے اراولی کے تحفظ، کان کنی اور زمین کے استعمال سے متعلق جاری قانونی اور پالیسی مباحث محض زمین کے استعمال کا معاملہ نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے ماحولیاتی تحفط کا سوال ہے۔ 2026 میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ اعلیٰ اختیاری کمیٹی (High-Powered Committee) نے بھی اراولی سے متعلق مختلف فریقوں اور مقامی برادریوں سے تجاویز طلب کی ہیں اور پھر ہماری نگاہ مغرب کی طرف جاتی ہےجہاں سہیا دری اپنی سبز قامت کے ساتھ مہاراشٹر کی زمین پر کھڑی ہےیہ مہاراشٹر کی سبز سانس ہےکونکن کی بارش، پہاڑی چشمے، دریا، جنگلات، زراعت، حیاتیاتی تنوع اور بے شمار انسانی بستیاں اس پہاڑی نظام سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
مغربی گھاٹ دنیا کے اہم حیاتیاتی تنوع کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے جنگلات ہندوستانی مانسونی نظام اور علاقائی موسم کے لیے نہایت اہم ہیں۔لیکن سہیا دری بھی دباؤ سے محفوظ نہیں۔بے ہنگم تعمیرات، کھدائی ،سڑکوں کی توسیع، سیاحتی مراکز، جنگلاتی زمین میں تبدیلی اور غیر منصوبہ بند شہر یانہ اس کے نازک ماحولیاتی پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔
جولائی 2026 میں مرکزی حکومت نے مغربی گھاٹ کے لیے ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری کیا جس میں تقریباً 56,825.7 مربع کلومیٹر علاقے کو ماحولیاتی طور پر حساس کے طور پر نشان زد کرنے کی تجویز ہے، جس میں مہاراشٹر کا تقریباً 17,340 مربع کلومیٹر علاقہ شامل ہے۔ یہ اعداد صرف سرکاری فائل کے اعداد نہیں؛ ان کے پیچھے جنگلات، ندیاں، دیہات، کسان، قبائلی آبادی، جنگلاتی حیات اور آنے والی نسلوں کا مستقبل پوشیدہ ہے۔ہمالیہ سے سہیا دری تک، ایک ہی ماحولیاتی داستان ہےبظاہر نیپال کا سیلاب، کشمیر کا بادل پھٹنا ،دہلی کا اراولی اور مہاراشٹر کا سہیا دری ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔
مگر ماحولیاتی سائینس انہیں ایک ہی لڑی میں پروتی ہے۔پانی۔پہاڑ۔جنگل۔ موسم۔انسان۔ہمالیہ برف اور پانی کا محافظ ہے۔اراولی شمال مغربی ہندوستان کا ماحولیاتی ڈھال ہے۔سہیا دری اور مانسون ،جنگل ،دریا حیاتیاتی تنوع کا عظیم نظام ہے۔ان میں سے کسی ایک کو کمزور کرنا صرف ایک پہاڑ کو کمزور کرنا نہیں؛ یہ ایک بڑے ما حولیاتی نیٹ ورک کی کڑی توڑنا ہے۔موسمیاتی تبدیلی،صرف درجۂ حرارت کا مسئلہ نہیں اس کو ہم اکثر ’’درجۂ حرارت میں اضافہ‘‘ سمجھ کر محدود کردیتے ہیں، حالاں کہ یہ دراصل پورے آبی نظام کو متاثر کرنے والا پیچیدہ عمل ہے ۔ گرم فضا زیادہ آبی بخارات رکھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض حالات میں شدید بارش کے مظاہر زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف برف باری اور بارش کے تناسب میں تبدیلی، برفانی تودوں میں تبدیلی اور سطحی بہاؤ کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ہندوستانی ہمالیہ میں شدید بارش کا انکشاف خود ایک سائنسی چیلنج ہے، کیونکہ بہت سے شدید واقعات دور دراز اور کم مشاہداتی احاطے والے علاقوں میں واقع ہوتے ہیں۔ 2026 کی تحقیق نے موسمیاتی اعداد و شمار کے ذریعے اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت واضح کی ہے۔ لہٰذا مستقبل کی ماحو لیاتی پالیسی کو صرف ماضی کے ڈیٹا پر نہیں بلکہ مسقبل کے ماحولیاتی منظر نا مے پر بھی مبنی ہونا ہوگا۔
ترقی یافتہ دنیا کا مطلب ذمہ داری سے فرار نہیں،موسمیاتی انصاف کا سوال یہاں اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔دنیا کی صنعتی ترقی نے بے شمار فوائد پیدا کیے، مگر اس کے ساتھ گرین ہاؤس گیس کا اخراج کا ایک تاریخی بوجھ بھی جمع ہوا۔ آج کئی ایسے ممالک جو آب و ہوا کے خطرے سے شدید متاثر ہیں، عالمی مجموعی اخراج میں نسبتاً کم تاریخی حصہ رکھتے ہیں۔اس لیے ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری صرف اپنے اخراج کو کم کرنا نہیں۔انہیں ، موسمیاتی مالیات ،سائنسی تعاون ،ٹکنالوجی کی منتقلی ،تباہی کی تیاری ،نقسان کے ازالے کی حمایت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔نیپال کو قبل از وقت خبر دار کرنے والا نطام چاہیے۔ہمالیائی علاقوں کو برفانی علاقوں کا نگراں نظام چاہیے چاہیے۔جنوبی ایشیا کو آب و ہوا کا مشترکہ ڈیٹا چاہیے۔اور ترقی پذیر ممالک کو لچکدار بنیادی ڈھانچہ کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل چاہیے۔
یہ خیرات نہیں؛ عالمی ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے۔مگر ترقی پذیر ممالک بھی بری الذمہ نہیںیہ بھی درست نہیں کہ تمام ذمہ داری ترقی یافتہ دنیا پر ڈال دی جائے۔ہندوستان، نیپال اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہہر سڑک ترقی نہیں۔ہر ڈیم ترقی نہیں۔ہر کان کنی ترقی نہیں۔ہر تفریحی مقام ترقی نہیں۔ہر کا نکریٹ کا ڈھانچہ ترقی نہیں۔ترقی وہ ہے جو معاشی فائدے کے ساتھ ما حو لیاتی تحفظ بھی پیدا کرے۔ہمیں پہاڑی علاقوں کی ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک نئی سوچ درکار ہے۔ہر بڑے منصوبے سے پہلے صرف یہ نہ پوچھا جائے:’’اس سے کتنی آمدنی ہوگی؟‘‘بلکہ یہ بھی پوچھا جائے:’’اس سے کتنے درخت بچیں گے؟‘‘’’پانی کے نظام پر کیا اثر ہوگا؟‘‘’’زلزلے، سیلاب یا زمین کھسکنے کی صورت میں کیا ہوگا؟‘‘’’پچاس سال بعد یہ بنیادی ڈھانچہ کتنا محفوظ ہوگا؟‘‘’’مقامی آبادی اس منصوبے سے کیسے متاثر ہوگی؟‘‘یہی پائیدار ترقی کی روح ہے۔مقامی لوگ ،مسئلے کا حصہ نہیں، حل کا حصہ ہیں ۔پہاڑی علاقوں میں رہنے والی مقامی اور قبائلی برادریوں کے پاس صدیوں کا مشاہداتی ماحولیاتی علم موجود ہے۔
وہ موسم کے بدلتے رنگ، پانی کے راستے، جنگل کی زبان، جانوروں کی نقل و حرکت اور زمین کی کیفیت کو نسل در نسل سمجھتی آئی ہیں۔
جدید سائنس اور قدیم روایتی ماحولیاتی علم کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ شریک بنانا ہوگا۔
سیٹلا ئٹ ڈیٹا اور مقامی تجربہ جب ایک دوسرے سے ملیں گے تو قدرتی آفات کے تدارک کی تیاری زیادہ مضبوط ہوگی۔
تعلیم ،مستقبل کی سب سے بڑے موسمیاتی بنیادی ڈھانچے کا وسیلہ ہے اگر واقعی پائیدار دنیا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز اسکول سے ہونا چاہیے۔بچے صرف یہ نہ پڑھیں کہ تبدیلی ٔ آب و ہوا کیا ہے؛ وہ اپنے علاقے کے ماحولیاتی نظام کو سمجھیں۔مہاراشٹر کا بچہ سہیا دری کو جانے۔دہلی کا طالب علم اراولی کی اہمیت سمجھے۔ہمالیائی خطے کا بچہ برفانی تودوں ،فصیل، آب اور زمین کھسکنے کے خطرے کو سمجھے۔ساحلی علاقے کا بچہ چمرنگ کی اہمیت جانے۔اور ہر طالب علم یہ سوال پوچھنا سیکھے:’میرے آج کے عمل کا کل کی زمین پر کیا اثر ہوگا؟‘‘یہی ما حولیاتی شہریت ہے۔اور آخر میں… پہاڑوں کی پکار،نیپال کا سیلاب شاید ایک خبر بن کر اخبارات کے صفحات سے گزر جائے گا۔
جموں کشمیر کا بادل پھٹنا بھی وقت کے ساتھ اعداد و شمار کا حصہ بن جائے گا۔اراولی پر قانونی بحث بھی شاید کسی دن عدالت کی فائل بن کر رہ جائے۔سہیا دری کے تحفظ کی بحث بھی شاید نئی خبروں کے ہجوم میں دب جائے۔مگر پہاڑ اپنی جگہ رہیں گے۔اور ان کے زخم بھی۔
وہ ہمیں خاموشی سے دیکھتے رہیں گے۔شاید وہ ہم سے صرف اتنا کہیں گے:ہم نے تمہیں دریا دیے،تم نے ہمیں کنکریٹ دیا۔ہم نےتمہیں جنگل دیے،تم نے ہمیں مشینیں دیں۔ہم نے تمہیں بارش دی،تم نے ہمارے راستے بند کیے۔ہم نے تمہیں زندگی دی،اب تم ہمیں کیا دو گے؟
آسام کا کازیرنگا نیشنل پارک محض ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ ہندوستان کی حیاتیاتی وراثت کا ایک زندہ استعارہ ہے۔ ایک سینگ والے گینڈے، ہاتھیوں، شیروں، پرندوں اور بے شمار نباتاتی و حیواناتی انواع کا یہ مسکن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت کو صرف زمین کے ایک مخصوص ٹکڑے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ جنگل کی سرحد جہاں ختم ہوتی ہے، زندگی کی سرحد ضروری نہیں کہ وہیں ختم ہو جائے۔کازیرنگا کے گرد حفاظتی اور ماحولیاتی حساس علاقے کو محدود کرنے اور بعض علاقوں میں ترقیاتی و سیاحتی سرگرمیوں کے لیے نسبتاً کم فاصلے کی تجویز نے ایک بنیادی سوال پیدا کیا ہے: کیا ترقی کا مطلب قدرت کے مزید قریب پہنچنا ہے، یا قدرت کے ساتھ مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنا؟اگر ہوٹل، ریزورٹس، سڑکیں اور تجارتی تعمیرات جنگلی حیات کے قدرتی مسکن اور ان کے نقل و حرکت کے راستوں کے قریب بڑھتی چلی جائیں تو اس کے نتائج محض درختوں کی کٹائی تک محدود نہیں رہتے۔ شور، روشنی، ٹریفک، انسانی آمدورفت، پانی کا بے تحاشا استعمال اور کچرے کا دباؤ پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر کازیرنگا جیسے علاقے میں، جہاں سالانہ سیلاب خود قدرتی نظام کا حصہ ہیں، جنگلی جانوروں کو بلند اور نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ اگر ان راستوں اور علاقوں پر انسانی تعمیرات کا غلبہ ہو جائے تو سیلاب صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جنگلی حیات کے لیے بھی ایک موت کا سفر بن سکتا ہے۔
یہاں سوال سیاحت کے خلاف ہونے کا نہیں۔ سیاحت روزگار پیدا کرتی ہے، مقامی معیشت کو مضبوط کرتی ہے اور لوگوں کو قدرت سے جوڑتی ہے۔ مگر سیاحت اور تجاوز میں ایک بنیادی فرق ہے۔ پائیدار سیاحت وہ ہے جو جنگل کو دیکھنے کے لیے انسان کو جنگل کے قریب لے جائے، مگر جنگل کو انسان کی بستی میں تبدیل نہ کرے۔ بڑے ہوٹلوں اور بے قابو تعمیرات کے بجائے مقامی آبادی کی شراکت سے چھوٹے، ماحول دوست اور منظم سیاحتی منصوبے زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔کازیرنگا کا مسئلہ دراصل صرف آسام کا مسئلہ نہیں۔ یہی سوال نیپال کے سیلاب زدہ علاقوں سے لے کر ہندوستانی ہمالیہ تک، اور سہیا دری کے پہاڑوں سے لے کر شہری علاقوں کے ختم ہوتے جنگلات تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم پہاڑ کاٹتے ہیں، ندی نالوں کے راستے بدلتے ہیں، جنگلات کو کنکریٹ میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر جب بارش اپنی شدت کے ساتھ واپس آتی ہے تو اسے ’’قدرتی آفت‘‘ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہر سیلاب صرف بادلوں کی زیادتی نہیں ہوتا اور ہر لینڈ سلائیڈ صرف پہاڑ کی کمزوری نہیں ہوتی۔ بہت سی آفات کے پس منظر میں برسوں کی منصوبہ بندی کی غلطیاں، قدرتی راستوں پر تجاوزات اور ماحولیات کو ترقی کے نام پر نظر انداز کرنے کا انسانی فیصلہ بھی شامل ہوتا ہے۔کازیرنگا ہمیں خبردار کرتا ہے کہ قدرت کو صرف نقشے پر محفوظ قرار دینا کافی نہیں، اس کے سانس لینے، بہنے، پھیلنے اور زندہ رہنے کے لیے بھی جگہ چھوڑنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے جنگل کی حفاظت صرف اس کی مقررہ سرحد تک محدود کر دی اور اس کے باہر موجود آبی گزرگاہوں، جانوروں کی راہ داریوں، جنگلاتی پٹیوں اور بلند قدرتی علاقوں کو ترقی کے لیے کھول دیا، تو ایک دن ہم شاید ترقی یافتہ عمارتوں کے درمیان ایک ایسے جنگل کو تلاش کر رہے ہوں گے جو کبھی زندہ تھا۔لہٰذا ضرورت ترقی کو روکنے کی نہیں بلکہ اس کے معنی بدلنے کی ہے۔ وہ ترقی حقیقی ترقی نہیں جو ہوٹل تو تعمیر کر دے مگر ہاتھی کے راستے چھین لے؛ سڑک تو بنا دے مگر دریا کا بہاؤ روک دے؛ روزگار تو پیدا کرے مگر آنے والی نسلوں سے جنگل، پانی اور صاف ہوا چھین لے۔نیپال کے سیلاب، ہمالیائی خطے کی زمین کھسکنے کی آفات، شہری علاقوں میں قدرتی پہاڑی اور آبی نظام پر بڑھتا دباؤ، سہیا دری کے جنگلات اور اب کازیرنگا جیسے حساس ماحولیاتی خطوں کے گرد ترقیاتی بحث ،یہ سب واقعات دراصل ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ قدرت ہمیں روک نہیں رہی؛ وہ صرف ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ ترقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور جب انسان اس حد کو عبور کرتا ہے تو قدرت خاموشی سے اپنا توازن واپس لینے لگتی ہے۔
شاید اس سوال کا جواب ہماری پوری تہذیب کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔کیونکہ اصل ترقی وہ نہیں جو پہاڑ کی چوٹی تک سڑک پہنچا دے؛اصل ترقی وہ ہے جو پہاڑ کو زندہ رکھے۔اصل ترقی وہ نہیں جو شہر کو جگ مگ کردےاصل ترقی وہ ہے جو زمین کو محفوظ رکھے۔
اصل ترقی وہ نہیں جو آج کی معیشت کو طاقت دے؛اصل ترقی وہ ہے جو کل کی نسل کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا، پینے کے لیے پانی، رہنے کے لیے زمین اور دیکھنے کے لیے سبز پہاڑ دے۔ہمالیہ سے اراولی تک،اراولی سے سہیا دری تک،برفانی چوٹی سے جنگل کے چشمے تک قدرت کی زبان ایک ہی ہے۔اور اس زبان میں ’’پائیدار ترقی‘‘ کا مطلب شاید صرف ایک جملہ ہے:’’زمین کو استعمال کرو، مگر اسے ختم نہ کرو؛ترقی کرو، مگر زندگی کی قیمت پر نہیں۔‘‘یہی نیپال کے سیلاب کا سبق ہے۔یہی ہمالیہ کی پکار ہے۔یہی اراولی کی خاموش فریاد ہے۔اور یہی سہیا دری کی سبز دعااور یہی کازیرنگا کے جنگل کی فریاد، کیونکہ پہاڑ بچیں گے تو پانی بچے گا،پانی بچے گا تو انسان بچے گا،
اور انسان بچے گا تو ترقی کا معنی بھی باقی رہے گا۔
ڈسکلیمر:اردو ویژن انتظامیہ کامضمون نگار یااس مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




