قدیم تمل شاعر ترووَلّوَر سے منسوب تھیروکورال ہندوستانی علمی ورثے کی ایک اہم کتاب ہے۔ ستمبر 2026 میں نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر اس کا روسی ترجمہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو پیش کیے جانے سے یہ قدیم تمل متن ایک بار پھر عالمی ثقافتی اور فکری مکالمے کا موضوع بن گیا ہے۔
تاریخ کے وسیع آسمان پر کچھ کتابیں ستاروں کی طرح نہیں، چراغوں کی طرح روشن ہوتی ہیں۔ ستارے دور سے دکھائی دیتے ہیں، مگر چراغ راستہ دکھاتے ہیں۔ تھیروکورال بھی ایسی ہی ایک کتاب ہےجس کے الفاظ قدیم تمل سرزمین کی مٹی سے اُٹھے، انسانی تجربات کی بھٹی میں پکے، حکمت کی روشنی سے منور ہوئے اور صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے آج دنیا کے مختلف خطوں میں انسانیت کا راستہ روشن کر رہے ہیں۔
ہندوستان کی تہذیب ایک ہی زبان، ایک ہی مذہب یا ایک ہی روایت کا نام نہیں۔ یہ تو بے شمار دریاؤں کا وہ سنگم ہے جہاں سنسکرت کی فکری گہرائی، پالی کی اخلاقی روشنی، پراکرت کی عوامی سادگی، تمل کی قدامت، فارسی کی حکمت اور اردو کی شیرینی ایک وسیع تہذیبی سمندر میں مل جاتی ہیں۔ اسی سمندر کی جنوبی موجوں سے سنگم ادب تھیروکورال نے جنم لیا— ایسا ادب جس میں پہاڑوں کی خاموشی، سمندر کی بے قراری، کھیتوں کی خوشبو، جنگلوں کی تنہائی، محبت کی دھڑکن اور انسان کے ضمیر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ہندوستان کی تہذیبی عظمت صرف اس کے قدیم آثار، تاریخی عمارتوں اور شاہی روایات میں نہیں، بلکہ ان کتابوں میں بھی محفوظ ہے جنہوں نے انسان کو اخلاق، انصاف، علم، محبت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور عطا کیا۔ ہندوستان کی کثیراللسانی علمی روایت میں تمل زبان کا سنگم ادب اور بالخصوص تھیروکورال ایک ایسا روشن باب ہے جس میں قدیم ہندوستانی دانش کی گہرائی، انسانی تجربے کی وسعت اور اخلاقی فکر کی عالمگیریت یکجا دکھائی دیتی ہے۔
ستمبر 2026 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران اس کتاب کا روسی ترجمہ انہیں تحفے میں پیش کیا ۔ یہ واقعہ محض ایک کتاب کے تبادلے تک محدود نہیں، اس میں ہندوستان کی تہذیبی خودشناسی ، تمل زبان کے علمی مقام،ثقافتی سفارت کاری اور عالمی سطح پر اخلاقی مکالمے کی ایک گہری معنویت پوشیدہ ہے ۔ اس موقع پر تھیروکورال نے ایک قدیم تمل متن کی حیثیت سے نہیں بلکہ ہندوستان کی فکری روایت کے نمائندہ سفیر کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنی موجودگی درج کرائی۔
تھیروکورال قدیم تمل شاعر اور مفکر ترووَلّوَر سے منسوب ایک مختصر مگر غیر معمولی فکری کتاب ہے۔ اس میں 133 ابواب اور 1330 دوہے نما اشعار شامل ہیں۔اس کی عظمت اس بات میں ہے کہ یہ انسان کو کسی مخصوص مذہب، قوم، طبقے یا جغرافیے کی حدود میں مقید نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک اخلاقی اور سماجی وجود کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس میں سچائی، رحم، ضبطِ نفس، علم، سخاوت، مہمان نوازی، انصاف، اچھی حکمرانی، عوامی فلاح اور انسانی تعلقات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
کسی قدیم کتاب کا دوسری زبان میں ترجمہ دراصل دو تہذیبوں کے درمیان ایک فکری پل تعمیر کرنا ہوتا ہے۔ جب تھیروکورال کا روسی ترجمہ روسی صدر کو پیش کیا گیا تو یہ عمل ہندوستان اور روس کے درمیان موجود سیاسی، معاشی اور دفاعی تعلقات سے آگے بڑھ کر ثقافتی اور فکری رشتے کی علامت بن گیا۔
روس دنیا کی ایک بڑی ادبی اور فکری تہذیب کا وارث ہے۔ روسی ادب میں ٹالسٹائی، دوستوئیفسکی، چیخوف اور دیگر مفکرین نے اخلاق، انسانی ضمیر، سماجی انصاف، جنگ، غربت، محبت اور انسانی کشمکش جیسے موضوعات کو گہرائی سے پیش کیا۔
تھیروکورال بھی انہی بنیادی انسانی سوالات سے بحث کرتی ہے۔ایک طرف روسی ادب کی انسانی نفسیات اور اخلاقی کشمکش کی روایت ہے، دوسری طرف ترووَلّوَر کی مختصر، جامع اور حکمت آمیز شاعری۔ دونوں روایتوں میں انسان کو محض معاشی یا سیاسی مخلوق نہیں، بلکہ ضمیر، احساس، ذمہ داری اور اخلاق رکھنے والی ہستی سمجھا جاتا ہے۔ تھیروکورال کو روسی صدر کو پیش کیے جانے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے تمل زبان اور تمل تہذیب کو عالمی سطح پر نمایاں کیا گیا۔ اس کا سنگم ادب، اس کی شعری روایت، اس کی قواعدی فکر اور تھیروکورال جیسے متون ہندوستانی علمی ورثے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تھیروکورال کی عالمی پیش کش اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہندوستان کی تہذیبی نمائندگی صرف شمالی یا ایک مخصوص لسانی روایت تک محدود نہیں؛ جنوبی ہندوستان کی زبانیں اور ادبی روایتیں بھی ہندوستان کی مجموعی شناخت کا بنیادی حصہ ہیں۔یہ اقدام ہندوستان کے اندر بھی ایک مثبت پیغام رکھتا ہے، ملک کی تہذیبی وحدت اس کی لسانی یکسانیت میں نہیں، بلکہ اس کے مختلف علمی اور ادبی سرچشموں کے احترام میں ہے۔ تمل ادب کو عالمی سطح پر پیش کرنا دراصل ہندوستان کے کثیرالثقافتی مزاج کو مضبوط کرنا ہے۔
تھیروکورال کی سب سے بڑی طاقت اس کی عالمگیریت ہے۔ اس میں بیان کیے گئے اخلاقی اصول کسی ایک زمانے یا خطے تک محدود نہیں۔ سچائی، رحم، علم، انصاف، خود پر قابو، سخاوت، اچھی حکمرانی اور انسانی محبت ایسے موضوعات ہیں جو ہر معاشرے اور ہر دور میں اہم رہتے ہیں۔آج دنیا جنگوں، سیاسی کشیدگی، معاشی نابرابری، ماحولیاتی بحران، مذہبی و نسلی تعصبات، ڈیجیٹل انتشار اور ذہنی بے سکونی کا سامنا کر رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب ضرور کیا ہے، لیکن اخلاقی فاصلے اب بھی موجود ہیں۔ معلومات میں اضافہ ہوا ہے، مگر حکمت کی ضرورت کم نہیں ہوئی۔ معاشی ترقی کے باوجود غربت اور محرومی باقی ہیں۔ سیاسی نظام موجود ہیں، مگر عوامی اعتماد کو مسلسل چیلنج درپیش ہے۔
ایسے ماحول میں تھیروکورال کا پیغام نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ترقی کا معیار صرف دولت، طاقت، رفتار اور پیداوار نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، سماجی تحفظ اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اس کتاب میں حکمرانی کے بارے میں پیش کیے گئے خیالات آج کے سیاسی نظاموں کے لیے بھی غوروفکر کا باعث بن سکتے ہیں، اگرچہ قدیم متن کو جدید جمہوریت یا انسانی حقوق کا عین مترادف قرار دینا علمی طور پر درست نہیں ہوگا اوریہ پیغام کسی مخصوص سیاسی موقف کا اعلان نہیں، بلکہ اس بنیادی انسانی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ریاستوں کے تعلقات صرف مفادات، معاہدوں اور طاقت کے توازن پر قائم نہیں رہ سکتے۔ دیرپا امن کے لیے انسانی وقار، انصاف، باہمی احترام، مکالمہ اور ذمہ دارانہ قیادت بھی ضروری ہیں۔تھیروکورال کے اشعار مختصر ہیں، مگر ان میں معنی کی کئی سطحیں پوشیدہ ہیں۔ ایک لفظ کبھی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے، کبھی معاشرتی تجربے کی طرف، اور کبھی انسانی نفسیات کی طرف۔ اس لیے اس کے ترجمے میں زبان دانی کے ساتھ تاریخی شعور، فلسفیانہ فہم اور ادبی ذوق بھی ضروری ہے۔تھیروکورال کو سنگم ادب کی وسیع روایت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سنگم شاعری میں زمین، موسم، پانی، پہاڑ، جنگل، کھیت اور سمندر انسانی زندگی کے ساتھ گہرے رشتے میں دکھائی دیتے ہیں۔ قدیم تمل شعرا کے نزدیک فطرت محض پس منظر نہیں تھی؛ وہ انسانی جذبات، روزگار، معاشرت اور تہذیب کا بنیادی حصہ تھی۔
آج جب ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم شہری ترقی دنیا کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، سنگم ادب کا ماحولیاتی شعور نئی اہمیت حاصل کرتا ہے۔ یہ ادب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان زمین سے باہر کوئی الگ وجود نہیں؛ اس کی معیشت، ثقافت، خوراک، جذبات اور بقا سب ماحول سے وابستہ ہیں۔تھیروکورال کا وہ اصل نسخہ، جو خود ترووَلّوَر کے ہاتھ سے لکھا گیا ، آج دستیاب نہیں۔ موجودہ علمی ذخیرہ بعد کے زمانوں میں تیار کیے گئے کھجور کے پتوں اور کاغذی نسخوں، تفسیروں اور تدوینی کوششوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ قدیم تمل متون کی حفاظت میں سی۔ ڈبلیو۔ دامودرم پِلّئی اور خصوصاً اُو۔ وے۔ سوامیناتھ ایّر کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔تھیروکورال کے مختلف قلمی نسخے تمل ناڈو کے متعدد علمی مراکز، کتب خانوں، مٹھوں اور مخطوطاتی ذخائر میں محفوظ رہے ہیں۔ ان میں اُو۔ وے۔ سوامیناتھ ایّر لائبریری، چنئی؛ گورنمنٹ اورینٹل مینوسکرپٹس لائبریری، چنئی؛ تمل یونیورسٹی، تنجاوُر؛ سَرسوَتی محل لائبریری اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ اس لیے کسی ایک موجودہ نسخے کو مصنف کا ذاتی اصل نسخہ قرار دینے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ تھیروکورال کی متنّی روایت متعدد قلمی نسخوں اور تدوینی مراحل سے گزر کر آج تک پہنچی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تھیروکورال کے روسی ترجمے کی اہمیت صرف سفارتی تحفے تک محدود نہیں؛ یہ قدیم متن کی جدید دنیا میں منتقلی، تحفظ، ترجمے اور عالمی فکری اشتراک کی ایک مثال بھی ہے۔
یہ تحفہ اس بات کی علامت ہے کہ کتابیں بھی سفیر بن سکتی ہیں۔ سفارت کاری ہمیشہ معاہدوں، بیانات اور مذاکرات کی زبان میں نہیں ہوتی؛ کبھی ایک کتاب، ایک نظم یا ایک ترجمہ بھی تہذیبوں کے درمیان اعتماد، احترام اور مکالمے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔تھیروکورال تمل زبان کی عظمت، ہندوستان کی کثیراللسانی تہذیب، قدیم انسانی دانش اور عالمی اخلاقی شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا روسی ترجمہ اس بات کا پیغام ہے کہ ہندوستان اپنے ماضی کو صرف محفوظ نہیں رکھنا چاہتا، بلکہ اسے دنیا کے ساتھ بانٹنا بھی چاہتا ہے۔
آج جب دنیا کو طاقت سے زیادہ حکمت، مقابلے سے زیادہ تعاون، تعصب سے زیادہ انسانیت اور شور سے زیادہ اخلاقی بصیرت کی ضرورت ہے، یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، تہذیبیں الگ ہو سکتی ہیں، سیاسی مفادات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن انسان کے بنیادی مسائل اور اخلاقی سوالات ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔
یوں تھیروکورا ل کا روسی ترجمہ محض ایک ادبی کتاب کا تحفہ نہیں، بلکہ تمل دانش سے روسی قاری تک، ہندوستانی تہذیب سے عالمی انسانیت تک، اور قدیم اخلاقی فکر سے جدید دنیا تک ایک روشن فکری سفر ہے۔ سنگم ادب قدیم تمل معاشرے کی زندگی کا شعری آئینہ ہے۔ اس میں انسان کو فطرت سے جدا نہیں کیا گیا۔ پہاڑ صرف پہاڑ نہیں، محبت کے رازدار ہیں، جنگل صرف درختوں کا مجموعہ نہیں، انتظار کی علامت ہیں،کھیت صرف اناج پیدا نہیں کرتے، گھریلو زندگی اور معاشرتی خوش حالی کے استعارے بھی بنتے ہیں، سمندر صرف پانی کا پھیلاؤ نہیں، سفر، جدائی، تجارت اور امید کی داستان ہے۔
قدیم تمل شعرا نے زمین کو پانچ شعری خطوں میں محسوس کیاہےیہ تقسیم محض جغرافیہ نہیں، بلکہ انسان اور ماحول کے درمیان ایک گہرا مکالمہ ہے۔ آج جب انسان نے ترقی کے نام پر دریاؤں کو زخمی، جنگلات کو بے لباس اور زمین کو تھکا دیا ہے، سنگم ادب کی آواز ہمیں پکارتی ہے:
اے انسان!
جس زمین پر تو نے اپنے خواب بوئے تھے،
اسے اپنی بے احتیاطی سے ویران نہ کر؛
جس پانی نے تیری تہذیب کو جنم دیا،
اسے اپنی حرص کی نذر نہ کر۔
اسی وسیع ادبی روایت میں تھیروکورال ایک ایسی بلند چوٹی ہے جہاں پہنچ کر زبان حکمت بن جاتی ہے اور شعر زندگی کا آئینہ۔ اسے تمل شاعر ترووَلّوَر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کی زندگی اور زمانۂ حیات کے بارے میں تاریخ ابھی پوری طرح خاموشی نہیں توڑ سکی، لیکن ان کی کتاب نے صدیوں سے انسان کے دل و دماغ میں اپنی جگہ بنا رکھی ہے۔ گویا ترووَلّوَر نے انسان سے کہا:
صرف نیک ہونا کافی نہیں،
معاشرے کے لیے مفید بھی بنو؛
صرف دولت حاصل کرنا کافی نہیں،
اسے انصاف کے ساتھ برتنا بھی سیکھو؛
صرف محبت کرنا کافی نہیں،
اس میں وفا، احترام اور ذمہ داری بھی پیدا کرو۔
تھیروکورال کا حسن یہ ہے کہ یہ کسی ایک قوم، مذہب یا طبقے کی کتاب بن کر محدود نہیں رہتی۔ اس میں انسان کو سب سے پہلے انسان کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔ سچائی، رحم، علم، ضبطِ نفس، سخاوت، مہمان نوازی، انصاف، دیانت، اچھی حکمرانی اور عوامی فلاح—یہ سب ایسے اصول ہیں جن کی ضرورت قدیم زمانے میں بھی تھی اور آج کے شوریدہ عہد میں بھی ہے۔
آج دنیا کے پاس روشنی کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر دلوں میں اندھیرے باقی ہیں۔ انسان نے چاند تک پہنچنے کے راستے تلاش کر لیے، مگراپنے ہمسائے کے دکھ تک پہنچنے کا راستہ ابھی بھی دشوار ہے۔ اس نے مصنوعی ذہانت پیدا کر لی، مگر انسانی ضمیر کی کمزوری کا علاج نہیں ڈھونڈ سکا۔ اس نے بلند عمارتیں تعمیر کر لیں، مگر انصاف کی بنیادیں اب بھی کمزور ہیں۔ایسے وقت میں تھیروکورال کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی صرف رفتار کا نام نہیں؛ ترقی کا اصل حسن کردار، انصاف اور انسانیت میں ہے۔ ریاست کی عظمت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، اس کے عوام کے اطمینان میں ہے۔ حکمران کی قوت اس کے اختیار میں نہیں، اس کی جواب دہی میں ہے۔ تعلیم کی کامیابی صرف امتحانی نمبروں میں نہیں، بلکہ اس انسان میں ہے جو علم حاصل کرکے زیادہ سچا، زیادہ حساس اور زیادہ ذمہ دار بنے۔
اسی لیے جب ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو تھروکورال کا روسی ترجمہ پیش کیا تو یہ محض ایک کتاب کا تحفہ نہیں تھا۔ یہ ایک تہذیب کی طرف سے دوسری تہذیب کو سلام تھا؛ ایک زبان کی طرف سے دوسری زبان کے نام خط تھا؛ ایک قدیم دانش کی طرف سے جدید دنیا کے لیے ایک خاموش پیغام تھا۔کتاب جب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتی ہے تو صرف صفحات منتقل نہیںہوتے، تجربات، احساسات، خواب اور تہذیبی یادیں بھی سفر کرتی ہیں۔ تروکُّرل کا روسی ترجمہ اسی فکری سفر کی علامت ہے۔ ہندوستان نے روس کو صرف ایک ادبی متن نہیں دیا، بلکہ اپنی قدیم اخلاقی روایت کا ایک آئینہ پیش کیا ایسا آئینہ جس میں انسان اپنی طاقت کے ساتھ اپنی ذمہ داری، اپنی کامیابی کے ساتھ اپنی کمزوری اور اپنی ترقی کے ساتھ اپنی اخلاقی ضرورت بھی دیکھ سکتا ہے۔
ایک طرف روسی ادب کی گہری انسانی نفسیات ہے، دوسری طرف ترووَلّوَر کی مختصر مگر معنی خیز حکمت۔ دونوں روایتیں اپنے اپنے انداز میں انسان سے پوچھتی ہیں:
طاقت کے بعد کیا باقی رہتا ہے؟
دولت کے بعد کیا بچتا ہے؟
نام اور شہرت کے بعد انسان کے پاس کیا رہ جاتا ہے؟
کیا اس کا کردار زندہ رہتا ہے؟
کیا اس کی انسانیت باقی رہتی ہے؟
اسی معنویت میں اس کتاب کا روسی ترجمہ دو ملکوں کے درمیان ثقافتی سفارت کاری کا ایک خوب صورت استعارہ بن جاتا ہے۔ سیاست کے ایوانوں میں معاہدے ہوتے ہیں، مگر تہذیبوں کے دلوں میں جگہ کتابیں بناتی ہیں۔ سفارتی گفتگو وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک اچھی کتاب نسلوں تک مکالمہ جاری رکھ سکتی ہے۔اس تحفے کا ایک اہم پہلو تمل زبان کی عالمی شناخت بھی ہے۔ ہندوستان کی تہذیب کسی ایک زبان کی اجارہ داری نہیں، بلکہ متعدد زبانوں کے مشترکہ تخلیقی سفر کا نام ہے۔ تمل زبان کی قدامت، اس کا سنگم ادب، اس کی شعری روایت اور تھیروکورال جیسی کتابیں یہ اعلان کرتی ہیں کہ ہندوستانی علمی ورثہ کتنا وسیع، گہرا اور رنگا رنگ ہے۔تھیروکورال کی روسی پیش کش دراصل ہندوستان کے اندر بھی ایک اہم پیغام رکھتی ہے: ہندوستان کی وحدت یکسانیت میں نہیں، تنوع کے احترام میں ہے۔ تمل کی آواز بھی ہندوستان کی آواز ہے؛ جنوبی ہندوستان کی دانش بھی قومی ورثے کا حصہ ہے؛ ہر زبان اپنے اندر ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک انسانی تجربہ رکھتی ہے۔
لیکن اس کتاب کی نسبت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے تاریخی احتیاط بھی ضروری ہے۔ تھیروکورال کا وہ اصل نسخہ، جو خود ترووَلّوَر کے ہاتھ سے لکھا گیا ہو، آج دستیاب نہیں۔ قدیم تمل متون کا بڑا حصہ کھجور کے پتوں پر نقل کیا جاتا تھا۔ وقت، نمی، کیڑوں اور مسلسل نقل کے باعث اصل نسخے محفوظ نہ رہ سکے۔ آج تھیروکورال کے مختلف قلمی نسخے تمل ناڈو کے کتب خانوں، مٹھوں، جامعات اور مخطوطاتی مراکز میں محفوظ ہیں۔
انیسویں صدی میں سی۔ ڈبلیو۔ دامودرم پِلّئی اور خصوصاً اُو۔ وے۔ سوامیناتھ ایّر نے قدیم تمل متون کی بازیافت میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بکھرے ہوئے کھجور پتی نسخوں کو تلاش کیا، عبارتوں کا تقابل کیا، بوسیدہ صفحات کو پڑھا اور انہیں طباعت کے ذریعے نئی زندگی دی۔ یہ محض تدوین کا کام نہیں تھا؛ یہ تہذیبی حافظے کو موت سے بچانے کی کوشش تھی۔
تھیروکورال کے مختلف نسخے اُو۔ وے۔ سوامیناتھ ایّر لائبریری، چنئی؛ گورنمنٹ اورینٹل مینوسکرپٹس لائبریری، چنئی؛ تمل یونیورسٹی، تنجاوُر؛ سَرسوَتی محل لائبریری اور دیگر علمی اداروں میں محفوظ رہے ہیں۔ اس لیے کسی ایک نسخے کو ترووَلّوَر کا ذاتی اصل نسخہ کہنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ محتاط اور علمی بات یہ ہے کہ تھیروکورال کی موجودہ متنّی روایت متعدد قلمی نسخوں، تفسیروں اور تدوینی مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچی ہے۔یہ حقیقت ہمیں ایک اور سبق دیتی ہےکہ کتابیں صرف لکھی نہیں جاتیں، انہیں محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔ اگر ایک نسل اپنے علمی ورثے کی حفاظت نہ کرے تو صدیوں کی دانش خاموشی میں دفن ہو سکتی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ قدیم مخطوطات کی فہرست سازی ہو، ان کی ڈیجیٹل تصاویر تیار کی جائیں، ماہرین کے ذریعے مرمت کی جائے، مختلف ہندوستانی اور عالمی زبانوں میں مستند ترجمے کیے جائیں اور نئی نسل کو ان کتابوں سے جوڑا جائے۔یہ روسی ترجمہ اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی ہے۔ ایک قدیم تمل متن اب روسی زبان کے وسیلے سے نئے قارئین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ سفر صرف زبان کا سفر نہیں؛ یہ اخلاق، حکمت اور انسانی تجربے کا سفر ہے۔آج جب دنیا جنگوں، کشیدگی، معاشی نابرابری، مذہبی تعصبات، ماحولیاتی بحران اور سیاسی بے اعتمادی سے دوچار ہے، تھیروکورال کی آواز ایک نرم مگر مضبوط دستک کی طرح سنائی دیتی ہے۔
انسان کو طاقت سے پہلے انصاف سیکھنا ہوگا،
ترقی سے پہلے ذمہ داری،
علم سے پہلے حکمت،
اور آزادی سے پہلے انسانیت۔
تھیروکورال ہمیں ماضی میں واپس جانے کے لیے نہیں کہتی؛ وہ ہمیں ماضی کی روشنی لے کر مستقبل کی طرف بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہتی کہ قدیم زمانہ ہی کامل تھا، بلکہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جدید زمانہ اپنی بے پناہ ترقی کے باوجود اخلاقی طور پر کتنا بالغ ہوا ہے۔یہ تمل زبان کی عظمت، ہندوستان کے کثیراللسانی ورثے، روسی ادبی روایت اور عالمی انسانی مکالمے کے درمیان ایک فکری پل ہے۔
یہ تحفہ گویا کہتا ہے:
زبانیں بدل سکتی ہیں،
سرحدیں بدل سکتی ہیں،
سلطنتیں گزر سکتی ہیں،
مگر سچائی، انصاف، محبت اور انسانیت کی ضرورت
ہر زمانے میں باقی رہتی ہے۔
اور شاید یہی تھیروکورال کی سب سے بڑی نسبت ہے وہ تمل کی زبان میں لکھی گئی، مگر انسان کے لیے؛ وہ ہندوستان کی مٹی سے اُٹھی، مگر دنیا کے دل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے الفاظ قدیم ہیں، مگر ان کی روشنی آج بھی نئی ہے؛ اس کے صفحات پرانے ہیں، مگر اس کے سوالات ابھی تک زندہ ہیں۔تھروکورال دراصل ایک کتاب نہیں، انسان کے ضمیر کے نام لکھا ہوا وہ خط ہے جسے ہر دور، ہر زبان اور ہر تہذیب کو پڑھنا باقی ہے۔
ڈسکلیمر:اردو ویژن انتظامیہ کامضمون نگار یااس مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔






