بے نام مذمت! بدنامی کس کی؟

Published On: 13 September, 2025 08:19 AM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بے نام مذمت! بدنامی کس کی؟

سلامتی کونسل نے قطرپراسرائیلی حملے کی مذمت کی(فوٹورائٹرز)

عالمی برادری اورعالمی اداروں کا تو یہ حال ہوگیا ہے کہ’اسرائیل‘ کا نام لیتے ہوئے انھیں ڈرلگتا ہے۔ قطرمیں اسرائیل حملے کی سلامتی کونسل نے مذمت کی اوراسرائیل کا نام تک نہیں لیا۔جب حملے کی مذمت ہی کرنی تھی تو حملہ کرنے کا بھی نام بھی لیا جانا چاہیے۔یہ کیسی مذمت ہوئی؟

 بے نام مذمت! بدنامی کس کی؟
 
شیکشپئرکا مشہورقول ہے نام میں کیا رکھا ہے؟ لیکن اگر دیکھا جائے تو نام میں سب کچھ رکھا ہے ۔ شناخت، تشخص ، تمدن، ثقافت، مذہب اورقومیت کاپتہ تک نام سے چلتا ہے۔’نام‘نہ ہوتووجود کوخطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اب دیکھیے نا اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہونے علی الاعلان کہہ دیا کہ فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔
 
اس ایک اعلان کے ساتھ ہی بنیامن نتین یاہو نے فلسطینیوں کا نام، شناخت، تہذیب ،قومیت اورزمین سب چھین لی۔ نیتن یاہوکا متنازع بیان فلسطینیوں کی تذلیل وتحقیرہی نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ ان کے بیان کی مذمت ہورہی ہے اورہونی بھی چاہیے۔فلسطینیوں کاخون اتنا ارزاں ہو گیا ہے کہ زبانی مذمت کو عالمی برداری کافی جان رہی ہے۔
 
عالمی برادری اورعالمی اداروں کا تو یہ حال ہوگیا ہے کہ’اسرائیل‘ کا نام لیتے ہوئے انھیں ڈرلگتا ہے۔ قطرمیں اسرائیل حملے کی سلامتی کونسل نے مذمت کی اوراسرائیل کا نام تک نہیں لیا۔جب حملے کی مذمت ہی کرنی تھی تو حملہ کرنے کا بھی نام بھی لیا جانا چاہیے۔یہ کیسی مذمت ہوئی؟
 
ثالثی کے لیے کوشاں ملک قطرپرحملہ بلاشبہ اس کی خودمختاری پرحملہ ہے اوراس کی مذمت بجا ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ حملہ کس نے کیا ہے اس کا نام نہ لینا یہ عالمی ادارے اوراس کے اراکین کی’ اخلاقی پستی‘انتہا ہے۔ اس بے نام مذمت سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہی ہوں گے۔
 
غزہ میں اسرائیلی حملوں اوربے قصوروں کے قتل پرمتعددبار مذمتی قرارداد کوویٹو کرنے والا امریکہ اگرچہ قطرپر اسرائیل حملے سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے ۔امریکہ نے بھی برطانیہ اورفرانس کے ذریعہ تیار کردہ علامیے کی تائید کی ہے لیکن علامیے کے الفاظ سخت نہیں تھے  تو پھر اس طرح کی مذمت کا حاصل کیا ہے؟
 
مذمت برائے مذمت سے اسرائیل کی ہمت اوربڑھے گی اوراپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے غزہ میں اپنے آپریشن میں وہ مزید تیزی لائیگا۔ساتھ ہی ساتھ اس کی زدپر وہ ممالک بھی ہوں گے جوخطے میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔اسرائیل جنگ پسند ہے اور یہ’ فلسطین ریاست‘کےوجود کوخطرہ ہے۔