فکری آزادی،اختلاف رائے اورریاست

Published On: 14 September, 2025 01:17 AM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
فکری آزادی،اختلاف رائے اورریاست

ملک ومعاشرے کی تعمیروترقی میں اظہار رائے کی آزادی اوراختلاف ائے کا کردار(فوٹو شٹر اسٹوک)

اظہار کی آزادی کے بغیرمعاشرہ،معاشرہ نہیں رہتا۔آزادی اظہارانسانی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔یہ انسانی وقار اورمعاشرتی ترقی سے وابستہ ہے۔فکری آزادی کے ساتھ ہی اختلاف رائے کاہونا فطری ہے۔ اختلاف رائے ملک و معاشرے کی دشمن نہیں بلکہ ترقی کی بنیادہے۔

 
اظہار کی آزادی کے بغیرمعاشرہ،معاشرہ نہیں رہتا۔آزادی اظہارانسانی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔یہ انسانی وقار اورمعاشرتی ترقی سے وابستہ ہے۔روشن خیالی کی کرنیں آزادی اظہارسے ہی پھوٹتی ہیں۔فکری آزادی،غوروفکر،تحقیق اورترقی کو فروغ دیتے ہیں۔فکری آزادی کے ساتھ ہی اختلاف رائے  کاہونا فطری ہے۔
 
اختلاف رائے کو دشمنی پرمحمول کرنے کی بجائے اس کے تعمیری پہلو کو پیش نظررکھنا لازمی ہے۔اختلاف کو  مکالمے کا وسیلہ سمجھنا اور محض جذباتی نعروں پرعقل ودلیل ترجیح دینا ہی روشن خیالی ہے۔ خوف  کے زیراثر انسان  تخلیقی صلاحیت،ادراک اورسوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جس معاشرے میں سوال اوراختلاف کو کچل دیا جاتا ہے وہ معاشرہ جمود اورزوال کا شکار ہوجاتا ہے۔
 
شخصی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہار کی آزادی کسی معاشرے اورقوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔یہیں سے روشن خیالی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ دراصل ’روشنی خیالی‘ نہ مغرب کی اندھی تقلید ہے اورنہ ہی مذہب بیزاری۔ یہ عقل و دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرنےکانام ہے ۔یہ کسی مذہب اور تہذیب سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔
 
آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ریاست کا کردارہم ہے۔مفکرجان لاک کے بقول ریاست،فرد کی آزادی کا محافظ ہے جبکہ روسو نے عوام کی مرضی کو ریاست کی اساس قراردیا ہے۔قیادت خواہ وہ سیاسی،مذہبی،ملی اورسماجی ہو، اسے اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنا ہوگا ۔انھیں یہ اختلاف رائے کوتعمیری تصورکرنا ہوگا۔اختلاف رائے ملک و معاشرے کی دشمن نہیں بلکہ ترقی کی بنیادہے۔