جیت ، ہار اور مصافہ

Published On: 17 September, 2025 05:44 PM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
جیت ، ہار اور مصافہ

انڈیا۔پاک میچ میں ہاتھ نہ ملانے پر تنازع (فوٹو وزڈن)

ایشیا کپ میں ہند۔پاک کے بیچ مقابلہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد،نئے اور تلخ باب کا آغاز ہے۔ ہاتھ نہ ملانے پر وبال ہورہا ہے۔ ہاتھ نہ ملانے پردو و ہاتھ ہورہے ۔ زبانی نشتر،تیر ، خنجر ، تفنگ اور توپ سب چل رہے ہیں۔ اب دیکھیں کرکٹ اور کیا کیا رنگ دکھاتا ہے۔

 
ایک دورتھا جب ہند۔پاک کی سیاست پرکرکٹ کا غلبہ تھا۔ کرکٹ ، سفارتی اورسیاسی رشتوں کو استوارکرنے کا وسیلہ تھا۔ میدان میں کٹرحریفوں کے مقابلے کے پس پردہ سیاست ہوتی تھی۔ داخلی اورعلاقائی اوربین الاقوامی سطح پرسیاسی روٹی سینکی جاتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب بی سی سی آئی کی حیثیت دنیا کے سب سے امیر اورطاقت وربورڈ کی نہیں تھی۔ انگلینڈ اورآسٹریلیا کا آئی سی سی پراثرتھا۔
 
کرکٹروں کے درمیان،مسابقت کے ساتھ باہمی احترام اورخیرسگالی کا جذبہ تھا جس کی جھلک اب کم ہی نظرآتی ہے۔ دونوں ملکوں کی ٹیم کے بڑے ستاروں کے درمیان حالیہ  باہمی احترام  کی جھلک وراٹ کوہلی اوربابراعظم کی تصویرمیں نظرآتی  ہے۔ دُبئی میں میدان پر انڈیا کا شاندارمظاہرہ اورمؤثر جیت ’ ہاتھ نہ ملانے کے تنازع‘میں کھو گئی۔ ٹیم انڈیا نے پاکستان کو کھیل کےہرشعبے میں’سائڈلائن‘ کردیا۔
 
 
کپتان سوریہ کمار نے ٹاس کے ساتھ ہی یہ صاف اشارہ دے دیا کہ وہ میدان اورمحاذ دونوں مارنے آئے ہیں ۔ ٹیم نے حریف کوروندنے کے ساتھ ساتھ  ہاتھ نہ ملا کراس کے زخموں پر نمک پاشی بھی کی۔ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنےکے فیصلے پر حکومت اوربی سی سی آئی کو تنقیدوں کا سامنا ہے۔ تنقیداورمخالفت کے بیچ ایشیاکپ میں شرکت کے فیصلے سے عوام میں اچھا پیغام نہیں گیا۔
 
دونوں ملکوں کے بیچ باہمی مقابلے ایک عرصے سے موقوف ہیں کثیرملکی ٹورنامنٹ میں دونوں روایتی حریفوں مقابلہ ہوتا ہے۔ایشیا کپ میں  ہند۔پاک کے بیچ مقابلہ  پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد،نئے اور تلخ باب کا آغاز ہے۔ ہاتھ نہ ملانے پر وبال ہورہا ہے۔ کرکٹ کھلاڑیوں پربے پناہ دباؤ ہوتا ہے۔ہند۔پاک میچ میں یہ دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ایسی صورت میں کھیل کے جذبے اورحب الوطنی کے جذبے کے بیچ نہ صرف توازن قائم رکھنا بلکہ اس کا اظہاربھی کرنا’کرکٹ اورسیاست‘  کودو آتشہ کردیا ہے۔
 
ٹورنامنٹ  میں دونوں ٹیموں کاآئندہ بھی آمنا سامنا ہوگا اورمزیدایسے مناظردیکھنے کوملیں تو حیرانی نہیں ہوگی۔1984سے شروع ہوئے ایشیا کپ کی چمک’پہلی بار‘ تنازع سے ماندہوتی معلوم ہورہی ہے۔