فلسطین کی حمایت میں اضافہ(فوٹورائٹرز)
فلسطین کوریاست تسلیم کرنے سے فلسطینیوں کے مصائب وآلام کا خاتمہ نہیں ہونے والا۔ یہ علامتی ہے۔ اس سے جدوجہد کوتقویت ملے گی لیکن فلسطینی کازکی حمایت کرنے والے ممالک کو اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے کی کاوش کرنی ہوگی۔
فلسطین کی حمایت میں اضافہ خوش آئند ہے۔مغربی ممالک اس دیرینہ مسئلے کے دوریاستی حل کے عہدکی تجدیدزبانی ہی صحیح کررہے ہیں۔برطانیہ،کینیڈا،آسٹریلیا اور فرانس نے خودمختارفلسطین کوتسلیم کرلیا ہے اوربھی ممالک انھیں خطوط پرآئندہ اعلان کریں توحیرانی نہیں ہوگی۔
اسرائیل کی بڑھتی جارحیت،نسل کشی اوربین الاقوامی قوانین کی صریح پامالی کے خلاف دنیا بھرکے ممالک نہ صرف تشویش کا اظہار کررہے ہیں بلکہ صیہونی قائدین کے خلاف پابندیاں بھی عائد کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ، اسرائیل پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ان تمام ترسرگرمیوں کے باوجو داسرائیل،فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کررہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہوکایہ کہنا کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی۔ نیتن یاہو کے ’جنگ پسند‘ اور ’ فلسطین کے وجود کا سخت مخالف‘ ہونے کی دلیل ہے۔ ایک غاصب،ظالم اورجارح سے اسی نوعیت کا ردعمل آسکتا تھا۔ اسرائیل کی یہ ہٹ دھرمی امریکہ کی تائید کا نتیجہ ہے۔ وہ اس جرم میں برابرکاشریک ہے۔ظالم کاساتھ دینے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔فلسطین کے کاز کی امریکہ بھی نفی کررہا ہے۔
لہذا،فلسطین کوریاست تسلیم کرنے سے فلسطینیوں کے مصائب وآلام کا خاتمہ نہیں ہونے والا۔ یہ علامتی ہے۔ اس سے جدوجہد کوتقویت ملے گی لیکن فلسطینی کازکی حمایت کرنے والے ممالک کو اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے کی کاوش کرنی ہوگی۔
اس کے لیے غزہ میں جنگ بندی پہلا قدم ہے۔ اس کے لیے مذاکرات کی بحالی ضروری ہے۔اسرائیل کی فوجی کاررائیوں سے بات چیت کے آثارمعدوم ہورہے ہیں۔ شائدیہی اسرائیل کی حکمت عملی بھی ہے ایک طرف وہ غزہ شہرکوتاراج کرکے اس پرقبضہ کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف نئی بستیاں بسا کر،فلسطینی ریاست کے امکانات کوختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیل کے ناپاک عزائم فلسطینی کازکے لیے خطرہ ہیں جس پروہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے عمل پیرا ہے۔ فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے والے ملکوں پراسرائیل کوروکنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اگراسرائیل کونہیں روکا گیا تو فلسطینی ریاست کا خواب’خواب‘ ہی رہے گا۔




