ظلم پھرظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

Published On: 07 October, 2025 11:49 PM

Abdullah Aabid : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ظلم پھرظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

غزہ:اسرائیلی جارحیت کے دوسال(فوٹورائٹرز)

غزہ کرہ ارض کا ٹکڑا نہیں ظلم وجبرواستبداد کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے۔ اہل غزہ کا غاصب کے سامنے کچھ نہ ہونا بھی بہت کچھ ہے۔ ظالم کے نرغے میں ہونے باوجود جان اوررحم کی بھیک نہ مانگنا جرأت مندی نہیں توکیا ہے؟ اپنے حقوق،اپنی زمین،اپنی ثقافت اور شناخت سے سمجھوتہ نہ کرنا حمیت نہیں توکیاہے؟

 
غزہ کرہ ارض کا ٹکڑا نہیں ظلم وجبرواستبداد کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے۔ صیہونیت کے چہرے پرایک طمانچہ ہے۔ دُشمن کی سفاکی،جوروستم کے آگے گھٹنے نہ ٹیکناہی اؑصولی جیت ہے ۔ اہل غزہ کا غاصب کے سامنے کچھ نہ ہونا بھی بہت کچھ ہے۔ ظالم کے نرغے میں ہونے باوجود جان اوررحم کی بھیک نہ مانگنا جرأت مندی نہیں توکیا ہے؟ اپنے حقوق،اپنی زمین،اپنی ثقافت اور شناخت سے سمجھوتہ نہ کرنا حمیت نہیں توکیاہے؟اپنے اہل وعیال اورگھربار،عزیزواقارب سب قومی تشخص کے لیے قربان کرنا اعلیٰ تعلیم وتربیت،اعلیٰ اقدار،اعلیٰ ظرفی اورغیرت کا روشن باب نہیں تو کیاہے؟

زندگی اورموت،املاک کی تباہی کو شکست وفتح کا پیمانہ سمجھنے والےضمیرفروشوں ،عقل کے ماروں اورحب الوطنی کامظاہرہ کرنے والوں کویہ باتیں کب سمجھنے میں آنے والی ہیں؟ طاقت کے نشے میں اسرائیل نے حماس کے خلاف کی گئی کارروائی کی آڑمیں پوری قوم کونشانہ بنایا۔ظالم کا سب سے بڑا ہتھیارخوف ہوتا ہے لیکن فلسطینوں پر اس کا اثرکب ہونا تھا؟ 

مظلموں کا ناحق خون بہاکراسرائیل نے ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا ہے۔ اس نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کوپامال کیا ہے۔ فلسطینیوں کا قتل عام کرکے سنگین جُرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کا حساب اسے دینا ہوگا۔ غزہ کومسمارکرکے یہودی بستیاں بسانے کا خواب اسرائیل دیکھ رہا ہے۔ وہ بے گھرفلسطینیوں کواب ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے درپے ہے ۔

تمام تراذیتوں، انصافیوں اور ناگفتہ بہ حالات کے باوجود فلسطینی جھک نہیں رہے ہیں، انھیں موت منظورہے لیکن ظالم کے آگے سرجھکانا قبول نہیں ۔  یہ اسرائیل کی ہارہے۔ بین الاقوامی سطح پرالگ تھلگ پڑرہے اسرائیل ظالم و جابر ہے یہ غزہ میں اس کی دوسالہ جارحیت نے واضح کردیا ہے۔ طاقت وردشمن کے پاس نہ ہتھیاروں کی کمی ہے نہ یاروں کی، وسائل،رسائل کے ساتھ ساتھ  ظالمانہ خصائل کے حامل صیہونی طاقت  کے آگے اس کے حلیف صف بستہ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب بے یارومددگارفلسطینیوں کے پاس کچھ ہےتو اُن کاخالق اوراس سے وابستہ اُمیدہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی آہ فلک تک ضرورجائے گی  اوربقول ساحر’ظلم پھرظلم ہے بڑھتاہے تومٹ جاتا ہے‘۔