(فوٹو اے آئی)
سوشل میڈیا کی چمک نے زندگی کی رمق چھین لی ہے ۔ اپنوں سے دوری اورسماجی تنہائی نے انسان کو شدید ترین ڈپریشن، دائمی اضطراب اور وہم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔
دورجدید میں رابطوں کے وسیع اورلامتناہی ذرائع دستیاب ہیں لیکن انسانی رشتے محدود اور کسی قدر زوال کا شکار ہیں۔اگر یوں کہا جائے کہ معاشرہ ڈیجیٹل تنہائی کی زد میں ہے تو مبالغہ نہ ہوگا ۔
ٹیکنالوجی نے فاصلوں کواتنا سمیٹ دیا ہے کہ انسان کی اپنوں سے ملاقات تو کجا خود سے بھی ملاقات نہیں ہوتی ۔ ہرفرد ورچوئل دنیا میں غرق ہے جہاں سب کچھ ہے بھی اور نہیں بھی۔
انسان کا انسان سے فطری ناطہ جو سماجی تانے بانے میں محبت،اخلاص اورہمدردی پر استوار تھا وہ وقت کے تھپیڑوں سے پہلے ہی متزلزل ہوچکا تھا سوشل میڈیا نے اس خلیج کو مزید وسعت دے دی ہے ۔ معاشرے میں انسان کا انسان سے تعلق حقیقی بنیادوں پر قائم نہیں ہونے سے خسارہ ذہنی،جذباتی اور نفسیاتی انتشار کی صورت میں ہوگا کیوں کہ انسانی دماغ کی ساخت فطری طور پر اس طرح بنائی گئی ہے کہ اسے زندہ رہنے، پھلنے پھولنے اور پُرسکون رہنے کے لیے دوسرے انسانوں کا ساتھ، ان کی توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کی ظاہری چمک نے زندگی کی رمق چھین لی ہے ۔ اپنوں سے دوری اورسماجی تنہائی نے انسان کو شدید ترین ڈپریشن، دائمی اضطراب اور وہم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔
ارسطور کے بقول انسان معاشرتی حیوان ہے ۔ سماج ، خاندانی نظام کی مضبوطی ،افراد کے باہمی اعتماد، صلہ رحمی اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت سے وجود میں آتا ہے۔ باہمی ربط و ضبط کا ٹوٹنا معاشرتی سرمایے کا ختم ہونا ہے جس سے مختلف قسم کا بحران پیدا ہوتا ہے ۔
اچھی اچھی باتیں اسکرینوں پر ابھرتی ہیں اور انسانی کی زندگی بنیادی باتوں پر عمل کے بغیراندھیروں میں ڈوب رہی ہے ۔ کہانیاں سب کے پاس ہیں، سننے والا کوئی نہیں تو عمل کی بات تو چھوڑ ہی دیں ۔ ہرمعاملے میں نفع نقصان تولنے والا سجھدار انسان حیرت ہے رشتوں کی قدرکیوں نہیں سمجھ رہا؟ ۔ جون ایلیا کے بقول
کون سیکھا ہے صرف باتوں سے
سب کو اک حادثہ ضروری ہے




