(فوٹواسکرین شاٹ ایکس،آرجے ڈی فارانڈیا)
’پردے‘ کی مخالفت میں بیان بازی، بحث و تکرار، دھمکی اورقانونی سازی سے آگے بڑھ کربہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے دنیا بھر میں پردہ کے مخالفین کی ’رہنمائی‘کی ہے اوراس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔
’پردہ‘ سیاست میں تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ سیاست میں’پردے‘ کا استعمال’بےپردگی ‘ کےباب میں ہوتا ہے۔سیاست کا’ چلن ‘ہی ایسا ہے۔ زبان،کردار اوراخلاق سب طاق پر ہیں تو پردہ...!
۔ کیا مشرق اورکیا مغرب،کیا ترقی یافتہ اورکیا ترقی پذیر،کیا روشن خیال اورکیا وسیع النظر سب کے خیال پردے سےپریشان اوربے زار ہیں۔
آزادی نسواں کے علم برداروں کی’پردے‘ سے مخالفت کی اپنی دلیلیں اورتاویلیں ہیں۔سیاست کے شہسوارپردے پرمباحثہ،مناظرہ،مجادلہ اورمقابلہ آرائی کررہے اور آئندہ بھی کرتےر ہیں گے۔ معاشرتی ،تہذیبی ،ثقافتی اورمذہبی امور میں پردے کی پاسداری اور احکام پر سیاسی نزاع بندنہیں ہونے والا ۔
’پردے‘ کی مخالفت میں بیان بازی، بحث و تکرار، دھمکی اورقانونی سازی سے آگے بڑھ کربہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے دنیا بھر میں پردہ کے مخالفین کی ’رہنمائی‘کی ہے اوراس کا عملی نمونہ بھی پیش کردیاہے۔
’سُساشن بابوتقررنامہ تقسیم کرنے کی تقریب میں ایک خاتون کاحجاب کھینچ کرخود’نقاب‘ ہوگئے ہیں۔اُن کی عقل پر پردہ پڑا ہے لوگوں کو یہ شبہ توتھا لیکن ان کے طرز عمل نے اس پردے کواب چاک کردیا ہے۔




