بلا جواز جنگ

Published On: 01 March, 2026 01:30 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بلا جواز جنگ

تہران پراسرائیل اورامریکہ کا حملہ ( فوٹو رائٹرز)

جوہری مذاکرات تو صرف بہانہ تھا۔ ٹرمپ کا ارادہ ایران میں رجیم چینج کا تھا ۔ دراصل، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی تمام پالیسیاں اسرائیل کے مفادات کو پہلے اور امریکہ کے مفادات کو اس کے بعد رکھ کر مرتب کی جاتی ہیں ۔ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہی امریکہ کی ترجیح ہے ۔

دنیا کو اپنی انگلیوں کے اشارے پر نچانے والا امریکہ، اسرائیل کے اشارے پر ناچتا ہے ۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ ایران معاملے پرسفارت کاری کو ترجیج دینے کی بات باربار دہرانے والے ٹرمپ نے بات چیت کے بجائے جنگ کا راستہ چن لیا۔ دراصل، بات چیت کے لیے باہمی احترام،دلائل اورصبر کی ضرورت ہوتی ہے جو طاقت کے نشے میں چور امریکہ کے پاس نہیں۔ 

اس لیے جوہری مذاکرات تو صرف بہانہ تھا۔ ٹرمپ کا ارادہ ایران میں رجیم چینج کا تھا ۔ دراصل، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی تمام پالیسیاں اسرائیل کے مفادات کو پہلے اور امریکہ کے مفادات کو اس کے بعد رکھ کر مرتب کی جاتی ہیں ۔ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہی امریکہ کی ترجیح ہے ۔ ایک طاقت ورملک بھی  بے بس و لاچار ہوسکتا ہے۔
 
بلاجواز جنگ امریکی پالیسی کا طرہ امتیاز ہے ۔ رجیم چینج کی اس کی سنک عراق، افغانستان اور لیبیا میں الٹی پڑچکی ہے لیکن وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیارنہیں ۔ میک امریکہ گریٹ اگین کے علم بردار اور امن پسند ٹرمپ کو اسرائیل نے ایران پرحملہ کرنے کے لیے بلآخر آمادہ کرلیا لیکن کیا ٹرمپ نے عوام کو اپنےاس اقدام کا واضح جواز فراہم یا کانگریس کی منظوری لی؟ قابل غوربات یہ ہے کہ ،امن کا پیامبر بننے چلے امریکی صدر ٹرمپ اپنی دوسری میعاد میں اب تک 7 ممالک میں فوجی کارروائیوں کا حکم دے چکے ہیں ۔ اُن میں وینزویلا،ایران، شام،عراق،نائجریا،یمن اور صومالیہ شامل ہیں ۔

ایران کو خطرہ بتاکر اسرائیل اور امریکہ نے مذاکرات کوموقع نہ دے کر جنگ کا انتخاب خود کیا ہے۔ ممکن ہے ایرانی حکومت کے خلاف حالیہ مظاہروں اورگزشتہ سال جون میں 12روزہ لڑائی سے امریکہ اور اسرائیل نے یہ نتیجہ اخد کیا ہوگا کہ دشمن کمزور ہے اور یہ اس پر حملہ کرنے کا مناسب وقت ہے۔