اسکرین کا اسیرانسان

Published On: 07 July, 2026 05:02 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسکرین کا اسیرانسان

(فوٹواے آئی)

انسان آرام طلب واقع ہوا ہے ۔ اب کمپیوٹر اور موبائل کے استعمال کو ہی لیں۔آج کی اہم ضرورت ہے کوئی کام اس کے بنا ناممکن سا لگتا ہے۔ ساری دنیا آج تمام معاملات میں ٹیکنالوجی کے درپرجھکی ہوئی ہے۔

آج کی دنیا اسکرین کے اردگرد گھوم رہی ہے ۔ تمام سرگرمیوں کامرکزومحورومنبع اسکرین ہے۔  تعلیم و تفریح سے لے کر کاروباری اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں تک سبھی اسکرین سے جڑچکی ہیں ۔ قدم قدم پر کسی نہ کسی شکل میں کسی اسکرین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ نتیجتاً انسان اسکرین کا اسیر ہوگیا ہے۔

حقیقی اورمصنوعی دنیا کے بیچ اسکرین کی صورت میں پردہ حائل ہے ۔ اسکرین پر لوگ زیادہ وقت بتا رہے ہیں ۔  اسکرین سے وابستگی اب زندگی کا لازمی جز ہے۔ اس لیے اسکرین ٹائم پر نظررکھنا ضروری ہے ۔ صحت اور وقت کی قیمت پر تو ہرگزنہیں ۔ صحت عظیم نعمت ہے اور وقت حقیقی دولت  ۔ ان دونوں کی جانب سے کسی قسم کی لاپرواہی کی بھاری قیمت انسان کو چکانی پڑسکتی ہے۔ 

دن رات فون کی اسکرین پر وڈیوز اور دیگر فضول چیزیں دیکھ کر اپنا وقت اور توانائی ضائع کرنے سے بہتر ہے اس کا مثبت اور تعمیری استعمال کریں ۔ اس حوالے سے بچوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اسکولوں میں بھی بچوں کو سکھایا جانا چاہیے کہ اسکرین کو وقت ضرور دیں ساتھ ہی اس سے کچھ سیکھنے کی بھی کوشش کریں۔ معاملہ محض دل بہلانے اور تفریح تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ دراصل وقت کے استعمال کا ڈھنگ ہی یہ طے کرتا ہے کہ کوئی انسان کس طور زندگی جینا چاہتا ہے ۔

اسکرین ٹائم کا معاملہ منٹوں یا گھنٹوں کا نہیں بلکہ معیار کا ہے۔ معیاری اسکرین ٹائم، زندگی کا معیار بلند کرتا ہے۔ اسکرین ٹائم کسی بھی انسان کی ذہنی حالت کی بھی عکاسی کرتاہےکہ وہ اپنی صحت کس حد تک داؤ  پر لگارہا ہے۔ 
فون کی اسکرین بہت زیادہ دیکھنے سے ذہن منتشر اور الجھا رہتا ہے اور اہم امور کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہیں پاتا۔ اسکرین کو دیکھتے رہنے سے ذہن بھی مصروف رہتا ہے اور یوں منصوبہ سازی یا فیصلہ سازی دشوار مرحلہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں انسان لغو باتوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔


اسکرین ٹائم کا مسئلہ دنیا کے ہرمعاشرے میں یکساں ہے، کہیں زیادہ تو کہیں کم۔اس کی بنیاد میں جو اہم بات ہے وہ  وقت کا درست استعمال ہے اوریہ انسان کے اختیار میں ہے ۔ اپنی ترجیحات کے مطابق اسکرین کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔ ضرورت کے مطابق اسکرین کا استعمال کریں  لیکن جہاں اسکرین کے بغیرکام چل سکتا ہے وہاں خود کو روکنے کی عادت ڈالیں۔ سب اسکرین کے استعمال پرمنحصر ہے آپ اس کا استعمال کس طرح کرتے ہیں ۔