(فوٹو اے آئی)
مسجد اقصیٰ کے خطیب اور القدس کے اعلیٰ اسلامی کمیشن کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کی برسی اور عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مسلمانوں سے قبلہ اول کا رخ کرنے اور وہاں عبادات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب اورالقدس کے اعلیٰ اسلامی کمیشن کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کی برسی اورعید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مسلمانوں سے قبلہ اول کا رخ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ انھوں نے اپنے پیغام میں مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ 25 اگست(منگل) کو مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے دلخراش سانحے کی برسی اور جشن عید میلاد النبیﷺ کے مبارک موقع کی مناسبت سے مسجد اقصیٰ کا رخ کریں۔ مسجد اقصیٰ میں عبادات، نماز، ذکر کی محافل اور دروس میں شرکت کریں اور مقدس مسجد سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط کریں۔
انہوں نے گھروں میں قرآن مجید کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کی کتب رکھنے اورسیرت رسول ﷺ کا مطالعہ کرنے کی بھی تلقین کی ۔ ان کا کہناہے کہ رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف ہونے والی گستاخانہ مہمات کا جواب اسلامی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہ کر دیا جانا چاہیے۔
مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے کی اپیل
شیخ عکرمہ صبری نے عرب اور مسلم دنیا سے مطالبہ کیا کہ مسجد اقصیٰ، مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین میں موجود اسلامی وقف املاک کے تحفظ کے لیے کوششیں کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کی برسی امت مسلمہ کی تاریخ کے ایک المناک باب کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس سانحے کو یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ نئی نسلوں کو مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات اور اس کی تاریخ سے آگاہ کیا جاسکے۔
ان کے مطابق آتشزدگی کی برسی مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی تجدید اور دنیا بھر تک مقبوضہ بیت المقدس کی آواز پہنچانے کا اہم موقع ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے حقوق کسی سمجھوتے یا سودے بازی کا موضوع نہیں بن سکتے۔
مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کا واقعہ، شیخ صبری کی چشم دید گواہی
شیخ عکرمہ صبری نے 1969 میں مسجد اقصیٰ میں لگنے والی آگ کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود آگ بجھانے کی کوششوں میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں نے مسجد اقصیٰ کو بچانے کے لیے انتہائی محدود وسائل استعمال کیے۔
شیخ صبری کے مطابق البیرہ، رام اللہ، بیت لحم اور الخلیل سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور عملہ بھی موقع پر پہنچا، تاہم ان کی آمد میں تاخیر ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ قابض حکام نے فائر بریگیڈ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات پرانتباہ
مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ یہ واقعہ امت مسلمہ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے اور اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مسجداقصیٰ کے خلاف مبینہ مسلسل دھاووں، کھدائیوں اور دیگراقدامات پربھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مسجد کے تحفظ کے لیے فلسطینی عوام اور مسلم امہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
شیخ عکرمہ صبری نے مقبوضہ بیت المقدس کے ان شہریوں کو خراج تحسین پیش کیا جومسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس کے مذہبی و تاریخی تشخص کے تحفظ `کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔





