(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
قاہرہ میں عرب لیگ کونسل کا 166واں اجلاس مستقل مندوبین کی سطح پر شروع ہوا، جس میں فلسطین کا مسئلہ، غزہ کی صورتحال، عرب ممالک پر ایرانی حملے، علاقائی سلامتی اور عرب تعاون سمیت اہم سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سیکیورٹی امور زیر بحث آ ئے ۔
مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں آج ( ہفتہ، 05ستمبر2026) عرب لیگ کے کونسل کا 166واں اجلاس مستقل مندوبین کی سطح پر شروع ہوا، جس کی صدارت سفیر ہاشمی العجیلی، ڈائریکٹر جنرل برائے مغربی، عرب اور اسلامی تنظیمات ، جمہوریہ تونس نے کی۔
افتتاحی اجلاس میں صدارت بحرین کی سفیر فوزیہ بنت عبداللہ زینل سے تونس کے نمائندے کو منتقل کی گئی۔ مندوبین نے اجلاس کے ایجنڈے پر غور کیا، جس میں سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی، قانونی اور سکیورٹی امور شامل تھے۔
فلسطین کا مسئلہ اور ایرانی حملے
اجلاس میں فلسطین کا مسئلہ سرفہرست رہا جبکہ عرب ممالک پر ایران کے حملے بھی زیر بحث آئے ۔ سفیر فوزیہ بنت عبداللہ زینل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایرانی حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ انہوں نے عرب ممالک کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر ان حملوں کے سنگین اثرات سے خبردار کیا۔
بحرینی سفیرنے مزیدکہا کہ فلسطین کا مسئلہ عرب دنیا کا مرکزی مسئلہ رہے گا ۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کے آزاد ریاست کے حق کی حمایت پر زور دیا، جس کی دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور یہ بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔
مستقل کمیٹیوں کے انتخابات بھی ایجنڈے میں
ایجنڈے میں کونسل کی متعدد مستقل کمیٹیوں کے سربراہان کے انتخابات بھی شامل تھے، جن میں انسانی حقوق کمیٹی، موسمیات کمیٹی، مستقل میڈیا کمیٹی اور بین الاقوامی انسانی قانون کمیٹی شامل ہیں، اس کے علاوہ عرب لیگ کی انتظامی عدالت کے ججوں کی تقرری بھی زیر غور آئی۔
سفیر زینل نے کہا کہ گزشتہ اجلاس نہایت حساس مرحلے میں ہوا تھا۔ انہوں نے عرب تعاون کو مضبوط بنانے اور قومی سلامتی و اتحاد کے لیے مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔





