(فوٹو اے آئی)
دجلہ محض ایک دریا نہیں، بلکہ تہذیب، زندگی اور انسانی احساسات کی علامت ہے۔ جویریہ قاضی اپنے مضمون میں مہاراشٹر کی خشک سالی، پانی کے تحفظ اور احساس کے قحط کے ذریعے انسان اور فطرت کے گہرے رشتے کو اجاگر کرتی ہیں۔
کبھی ایک آنسوصرف آنسو نہیں ہوتا۔ وہ آنکھ سے نکلنے والی پانی کی ایک معمولی بوند نہیں، بلکہ اپنے اندرایک عہد کا دکھ، ایک تہذیب کی یاد، ایک ماں کی بے بسی، ایک کسان کی شکستہ امید اورایک پیاسی زمین کی خاموش فریاد سمیٹے ہوتا ہے ۔ شاید اسی لیے بعض آنسوؤں کو دیکھ کرمحسوس ہوتا ہے کہ ان میں صرف فرد کا غم نہیں، پوری انسانیت کا نوحہ بہہ رہا ہے۔ اور جب احساس کی آنکھ کھل جائے تو واقعی آنسو کی ایک بوند میں دجلہ دکھائی دے سکتا ہے۔
دجلہ کوصرف ایک دریاسمجھنااس کے تہذیبی مفہوم کومحدود کرنا ہے۔ بین النہرین کی قدیم تہذیب میں دریاؤں نے انسانی زندگی، زراعت، آبادی اور شہری تمدن کی تشکیل میں بنیادی کردارادا کیا۔ دجلہ کی روانی کے ساتھ تاریخ بھی بہتی رہی۔ بغداد اسی دجلہ کے کنارے علم و ادب، فلسفے، طب اور ترجمے کی ایک عظیم تہذیبی دنیا بن کرابھرا۔ یوں دجلہ پانی سے بڑھ کر تہذیبی حافظے، زندگی کی روانی اور انسانی تخلیق کااستعارہ بن گیا۔اسی لیے جب فارسی شاعری میں دجلہ آنسوکے ساتھ آتا ہے تو وہ محض تشبیہ نہیں رہتا، اس کے پیچھے صدیوں کی تہذیبی یادداشت بھی چلتی ہے۔
طاہِرہ قرۃ العین سے منسوب معروف کلام کے اس شعرمیں یہی کیفیت اپنی انتہا کو پہنچتی ہے:
می رود از فراق توخونِ دل از دو دیدہام
دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، چشمہ بہ چشمہ، جو بہ جو
یہاں آنکھ کاغم ایک بوند تک محدود نہیں رہتا۔ آنسو دجلہ بنتا ہے، پھر یم، چشمہ اورجوکی صورت اختیارکرتا ہوا وسعت در وسعت پھیلتا جاتا ہے ۔ فراق کی ایک داخلی کیفیت ایک ایسی تصویری دنیا تخلیق کرتی ہے جس میں آنسو اور دریا ایک دوسرے کا استعارہ بن جاتے ہیں ۔
اقبال نے بھی اسی غزل کو ’’نوائے طاہرہ“ کے عنوان سے جاوید نامہ میں شامل کیا، جس سے اس شعرکی ادبی زندگی اور اثر پذیری کا اندازہ ہوتا ہے۔
مگرادبی روایت میں یہ غزل طاہرہ قرۃ العین کے نام سے جس طرح زندہ رہی ہے، اس نے دجلہ کو فراق، آنسو اور انسانی باطن کے ایک طاقتور استعارے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج اس شعر کو اپنے عہد میں پڑھیں تو اس کے معنی اور بھی وسیع ہو جاتے ہیں۔
مہاراشٹر کی جغرافیائی حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پانی کی تقسیم یکساں نہیں ۔ ریاست کے سرکاری آبی وسائل کے مطابق تقریباً 40 فیصد رقبہ خشک سالی کے خطرے سے دوچار ہے، جبکہ بارش کی مقداراور تقسیم میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے۔ سرکاری ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بھی مراٹھواڑہ اور ودربھ کے بعض علاقوں کو بار بار خشک سالی جیسے حالات کا سامنا کرنے والے خطوں میں شمار کرتی ہے ۔ اس لیے جب مہاراشٹر کی خشک زمین پر دراڑیں پڑتی ہیں تو وہ صرف مٹی کی دراڑیں نہیں ہوتیں۔ ان میں کسان کی امید، عورت کی مشقت، بچے کی پیاس اور گاؤں کی خاموشی بھی لکھی ہوتی ہے۔مگراس المیے کا ایک اور پہلو ہے جسے اعداد و شمار ہمیشہ بیان نہیں کر سکتے۔ پانی کا قحط دکھائی دیتا ہے، احساس کا قحط نہیں ۔ خشک تالاب ہمیں نظر آتے ہیں، خشک دل نہیں۔ سوکھے ہوئے درخت ہماری نگاہ پکڑ لیتے ہیں، مگر انسان کے اندر سوکھتا ہوا سایہ اکثر ہماری نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ ہم پانی کے ذخائر کی فکر کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں ہمدردی کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
وہ دجلہ، جس کے کنارے تہذیبیں آباد ہوئیں، آج ہمیں یہ سوال واپس لوٹتا محسوس ہوتا ہے کہ جس انسان نے دریاؤں سے زندگی سیکھی، کیا وہ دریاؤں کو زندہ رکھنے کا ہنر بھی سیکھ سکے گا؟ دریا صرف پانی نہیں ہوتا۔ دریا ایک وعدہ ہوتا ہے آنے والی نسلوں سے کیا ہوا وعدہ ۔ اس میں ماضی کی یاد، حال کی ضرورت اور مستقبل کی ذمہ داری بہتی ہے ۔ جب دریا آلودہ ہوتا ہے تو صرف پانی نہیں بدلتا، انسانی تہذیب کا ایک حصہ زخمی ہوتا ہے ۔ جب زمین پیاسی ہوتی ہے تو صرف فصل نہیں مرتی، امید کا ایک موسم بھی مر جاتا ہے اور جب انسان دوسرے انسان کے دکھ سے بے نیاز ہو جائے تو شاید سب سے خطرناک خشک سالی وہیں شروع ہوتی ہے۔
اس لیے آج ہمیں دو قحطوں کا سامنا ہے: ایک زمین کا، دوسرا فکر و احساس کا۔
زمین کی پیاس کے لیے تالاب، بند، بارش کا پانی، زیرِ زمین پانی اور بہتر آبی منصوبہ بندی ضروری ہیں۔ مگر احساس کی پیاس کے لیے تعلیم، ادب، تربیت، سماجی ذمہ داری اور ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والی انسانی بصیرت ضروری ہے۔ تعلیم یہاں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر ایک بچہ یہ سیکھتا ہے کہ پانی بچانا کیوں ضروری ہے، تو وہ ماحول کا محافظ بن سکتا ہے، لیکن اگر وہ یہ بھی سیکھتا ہے کہ کسی پیاسے انسان کی تکلیف کو محسوس کرنا کیوں ضروری ہے، تو وہ معاشرے کا ذمہ دار فرد بن سکتا ہے۔
علم ہاتھ کو ہنر دیتا ہے، مگر احساس اس ہنر کو انسانیت سے جوڑتا ہے۔شاید اسی لیے ادب کی ضرورت آج پہلے سے زیادہ ہے۔ ادب ہمیں اعداد و شمار کے پیچھے چھپا ہوا چہرہ دکھاتا ہے۔ ایک خشک سالی کے پیچھے کسان دکھاتا ہے، ایک ہجرت کے پیچھے گھر، ایک آنسو کے پیچھے انسان۔
قرۃ العین طاہرہ کے شعر میں آنسو دجلہ بن جاتا ہے، ہمارے عہد میں شاید دجلہ ہمیں اپنے آنسو کی طرف واپس بلاتا ہے۔
ایک بوند کہتی ہے: مجھے ضائع نہ کرو۔
ایک دراڑ کہتی ہے: مجھے پڑھو۔
ایک پیاسی آنکھ کہتی ہے: مجھے دیکھو۔
اور ایک خشک دریا شاید ہم سے صرف اتنا پوچھتا ہے!تم نے ترقی تو کر لی، مگر اپنی تہذیب کی نمی کھو تو نہیں دی؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف دریاؤں کو نہ بچائیں، اپنے اندر کے چشموں کو بھی زندہ رکھیں۔ زمین میں پانی واپس آئے اور انسان میں احساس۔ کھیتوں میں سبزہ لوٹے اور دلوں میں نرمی۔ بچے صرف کتابوں میں دریاؤں کا نام نہ پڑھیں بلکہ اپنے زمانے میں زندہ دریاؤں کو دیکھ بھی سکیں کیونکہ دریا کا سوکھ جانا ماحولیاتی المیہ ہے، لیکن انسان کے اندر کا دریا سوکھ جانا تہذیبی المیہ ہےاور شاید ہماری پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ اسی ایک تصویر میں سمٹ آتا ہے:
ایک آنکھ ہے، اس میں آنسو ہے
ایک آنسو ہے، اس میں دریا ہے
ایک دریا ہے، اس میں تہذیب ہے
اور ایک تہذیب ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی نمی کھو رہی ہے۔
اس لیے دعا یہی نہیں کہ آسمان سے بارش اترے؛ دعا یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر احساس کی بارش باقی رہے۔تاکہ زمین پیاسی ہو تو دل بے حس نہ ہو،دریا خشک ہو تو ضمیر خشک نہ ہواور کبھی کسی انسان کی آنکھ سے ایک آنسو گرےتو اس ایک بوند میں ہمیں پھر سےدجلہ دکھائی دے۔
ڈسکلیمر:اردو ویژن انتظامیہ کامضمون نگار یااس مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔






