حرم سے انسانیت تک: لبیک کی صدا اور مظلوم امت کا سوال

Published On: 25 October, 2026 09:19 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
حرم سے انسانیت تک: لبیک کی صدا اور مظلوم امت کا سوال

(فوٹو اے پی)

حج و عمرہ کی روحانی سعادت کے ساتھ حقوق العباد اور خدمتِ خلق کی اہمیت بھی مسلم معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جویریہ قاضی اپنی تحریر میں اس پہلو پر روشنی ڈالتی ہیں کہ نفلی عبادت کی فضیلت کے ساتھ ضرورت مندوں، یتیموں، مریضوں اور دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کی مدد کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہ تحریر عبادت، ایثار، سماجی انصاف اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داریوں کے باہمی تعلق پر غور وفکرکرنے کی دعوت دیتی ہے۔

کیا لبیک کی صدا صرف حرم کی فضاؤں میں گونجنے کے لیے ہے یا اسے مظلوموں کی آہوں، بھوک سے بلکتے بچوں اور بے گھر انسانوں کی پکار بھی سنائی دینی چاہیے؟ اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرے حضور حاضر ہوں۔

یہ صدا محض زبان سے ادا ہونے والے چند الفاظ نہیں، بلکہ بندگی، اطاعت، محبت اور سپردگی کا عہد ہے۔ یہ انسان کو اپنے رب کے حضور حاضری کا احساس دلاتی ہے اور اس کے کردار، ترجیحات اور طرزِ زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے لیکن جب ہم عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی زبوں حالی، فلسطین کے مظلوموں، غزہ کے زخمی بچوں، سوڈان کے بے گھر خاندانوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی المیوں کو دیکھتے ہیں تو ایک حساس سوال دل میں سر اٹھاتا ہے، ہماری عبادت اور ہماری اجتماعی ذمہ داری کے درمیان کہیں کوئی فاصلہ تو پیدا نہیں ہوگیا؟

حج اسلام کا عظیم فریضہ اور عمرہ باعثِ اجروثواب عبادت ہے۔ خانۂ کعبہ کی زیارت، طواف، سعی اور بارگاہِ الٰہی میں دعا انسان کے دل کو روحانی سکون اور رجوع الی اللہ کی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کی یہ آرزو قابلِ احترام ہے کہ اسے بار بار حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہولیکن جب کوئی شخص فرض حج ادا کرنے کے بعد نفلی حج وعمرے کی سعادت حاصل کرتا ہے تو اس کی عبادت کے ساتھ ایک اخلاقی سوال بھی وابستہ ہوجاتا ہے،کیا ہمارے روحانی سفرہماری سماجی ذمہ داریوں کو بھی بیدار کر رہے ہیں؟ کیا حرم میں بہنے والے آنسو ہمیں اپنے آس پاس کے یتیموں، محتاجوں، بیماروں اور مظلوموں کے دکھ تک لے جاتے ہیں؟ یہ سوال نفلی حج و عمرے کی فضیلت یا کسی کی نیت پر اعتراض نہیں، بلکہ عبادت کی روح اور اس کے عملی اثرات پر غور کرنے کی دعوت ہے۔ نیتوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، اور کسی کی عبادت کو قبول یا رد قرار دینا ہمارا کام نہیں۔ تاہم اپنے اعمال کا جائزہ لینا اور اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہر صاحبِ ایمان کی ذمہ داری ہےاگر حرم کی حاضری ہمارے اندر رحم، عدل، ایثار اور خدمتِ خلق کا جذبہ بڑھا دے تو عبادت کی روح ہمارے کردار میں بھی جلوہ گر ہونے لگتی ہے۔

اسلام میں فرض عبادات کی اپنی اہمیت ہے اور نفلی عبادات کی اپنی فضیلت۔ استطاعت رکھنے والے مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے، جبکہ نفلی حج و عمرہ اضافی عبادت ہیں۔ ان عبادات کو کمتر قرار دینا درست نہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ نفلی عبادت کی خواہش ہمیں دوسرے واجب حقوق سے غافل نہ کردے۔

اگر کسی شخص کے خاندان میں کوئی محتاج علاج سے محروم ہے، کوئی یتیم تعلیم کے لیے مدد کا منتظر ہے، کوئی قرض دار شدید پریشانی میں مبتلا ہے یا اس کے پڑوس میں کوئی خاندان بنیادی ضروریات سے محروم ہے تو اسے اپنی استطاعت، حالات اور شرعی ذمہ داریوں کے مطابق ان حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔اسی طرح امت کے اجتماعی مسائل کے لیے مالی تعاون، معیاری تعلیم، صحت، تحقیق، روزگار اور فلاحی اداروں کی مضبوطی میں حصہ لینا بھی قابلِ قدر عمل ہے۔ نفلی حج و عمرے اور انفرادی عبادات کے مقابلے میں ہر شخص کے لیے ایک ہی فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا؛ حالات، نیت، استطاعت اور حقوق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ البتہ یہ اصول واضح ہے کہ نفلی نیکی کے اہتمام میں کسی کے واجب حق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

آج امتِ مسلمہ کے کئی خطے جنگ، غربت، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلسطین کے تباہ حال مکانات، غزہ کے بے سہارا بچے اور دوسرے بحران زدہ علاقوں کے بے گھر انسان ہم سے صرف جذباتی اظہار نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید نیکی کی وسعت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
’’اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 177، مفہوم)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نیکی صرف ایک ظاہری عمل یا رسمی وابستگی کا نام نہیں؛ اس میں مال کی قربانی، کمزوروں کی مدد اور انسانی ضرورتوں کا احساس بھی شامل ہے۔ہم حرمین شریفین کی حاضری کی آرزو ضرور رکھیں، مگر اپنے معاشرے میں بھوک، جہالت، بیماری اور محرومی کے خاتمے کی آرزو بھی اسی شدت سے پیدا کریں۔ نفلی عبادات کے ساتھ مستند امدادی اداروں کے ذریعے مظلوموں کی مدد، ضرورت مند طلبہ کی کفالت، مریضوں کے علاج اور تعلیم کے فروغ میں حصہ لینا ہماری اجتماعی زندگی کو زیادہ بامقصد بنا سکتا ہے۔

امت کی زبوں حالی کے اسباب پیچیدہ ہیں۔ سیاسی تقسیم، تعلیمی پسماندگی، معاشی انحصار، سائنسی تحقیق میں کمی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور بیرونی مداخلت مختلف خطوں میں مختلف انداز سے اثرانداز ہوتی ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف جذباتی نعروں یا ماضی کی عظمت کے تذکرے میں نہیں، بلکہ علم، اتحاد، انصاف، معاشی خودکفالت اور مضبوط اداروں کی تعمیر میں ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا، کیا ہماری مساجد اور دینی اجتماعات سے ملنے والا پیغام معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن رہا ہے؟ کیا ہمارے مدارس اور اسکول نئی نسل کو تحقیق، تخلیقی فکر اور خدمتِ انسانیت کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ کیا ہماری دولت کا مناسب حصہ تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں تک پہنچتا ہے؟یہ سوال عبادت سے دور کرنے کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے اثرات کو زندگی کے وسیع تر دائرے میں دیکھنے کے لیے ہیں۔

لبیک کا پیغام ہمیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے بندوں کے حقوق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حرم میں مانگی گئی مغفرت اگر ہمارے معاملات میں دیانت پیدا کرے، طواف اگر ہمارے اندر اتحاد کا شعور بیدار کرے اور سعی اگر ہمیں نیکی کے لیے مسلسل کوشش کا سبق دے تو عبادت ہماری شخصیت میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہمیں نفلی حج و عمرے سے کسی کو روکنے یا کسی کی نیت پر حکم لگانے کے بجائے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی فکر کرنی چاہیے جہاں عبادت اور خدمت ایک دوسرے کی معاون ہوں، جہاں روحانی سکون کے ساتھ سماجی شعور بھی پروان چڑھے، جہاں حرم جانے کی آرزو رکھنے والا انسان اپنے محلے کے یتیم، اپنے شہر کے محتاج اور دنیا کے مظلوم انسانوں کو بھی یاد رکھے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ حرم کی حاضری کے لیے جمع کی جانے والی رقم، وقت اور وسائل کے ساتھ اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب بچے کی تعلیم، کسی مریض کے علاج، کسی بیوہ کی کفالت یا کسی بے گھر خاندان کی بحالی میں بھی حصہ لیں تو کتنی زندگیاں بدل سکتی ہیں؟ یہ تقابل عبادت اور خدمت کے درمیان انتخاب کا مطالبہ نہیں، بلکہ نیکی کے وسیع تر مفہوم کو سمجھنے کی دعوت ہے۔ اللہ کی رضا کی طلب میں عبادت بھی اہم ہے اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی۔ ہمیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہیے، خصوصاً وہاں جہاں نفلی عمل کے ساتھ کسی فوری اور واجب ذمہ داری کا معاملہ وابستہ ہو۔

لبیک اللّٰہم لبیک!
آئیے، یہ صدا ہمارے دلوں میں اخلاص، ہمارے معاملات میں انصاف، ہماری دولت میں ایثار اور ہمارے معاشرے میں انسانیت پیدا کرے۔ ہم حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت ضرور حاصل کریں، مگر واپسی پر ہمارے کردار میں بھی کوئی مثبت تبدیلی دکھائی دے۔ ہماری دعائیں مظلوموں کے لیے ہوں، ہمارے ہاتھ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے بڑھیں اور ہماری صلاحیتیں امت کی تعمیر اور انسانیت کی خدمت میں صرف ہوں۔کیونکہ سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی بار حرم کی حاضری دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ حرم کی حاضری ہمارے اندر انسانوں کے درد کا احساس، اپنے فرائض کی ادائیگی اور اللہ کی مخلوق کے لیے رحمت کا جذبہ کتنا بڑھاتی ہے۔

ذرا سوچیے! جب ہم حرمِ کعبہ میں ہاتھ اٹھا کر مغفرت مانگتے ہیں، جب آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں اور لبوں پر لبیک اللّٰہم لبیک کی صدا ہوتی ہے، تو کیا ہماری دعاؤں میں وہ بچے بھی شامل ہوتے ہیں جن کے سروں سے چھت چھن گئی؟ کیا ہمارے آنسو ان ماؤں کے درد کو محسوس کرتے ہیں جو اپنے لختِ جگر کھو چکی ہیں؟ کیا ہماری عبادت ہمیں ان بھوکوں، بے گھروں، یتیموں اور مظلوموں کی خبر لینے پر آمادہ کرتی ہے جن کی زندگی خود ایک مسلسل آزمائش بن چکی ہے؟نفلی حج و عمرے کی سعادت یقیناً باعثِ برکت ہے، مگر اس سعادت کے ساتھ اپنے فرائض، حقوق العباد اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس بھی زندہ رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بار بار حرم کی حاضری کی آرزو میں اپنے ہی معاشرے کے محروم انسانوں کی پکار سننا بھول جائیں۔ کہیں ہماری عبادت کی ظاہری کثرت، ہمارے کردار میں مطلوبہ تبدیلی پیدا کرنے سے محروم نہ رہ جائے۔آج امت کو صرف بار بار حرم جانے والوں کی نہیں، حرم کے پیغام کو اپنے کردار میں اتارنے والوں کی بھی ضرورت ہے، ایسے لوگوں کی جو سجدے میں جھکیں تو تکبر سے آزاد ہوں، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں تو دوسروں کی مدد کے لیے بھی ہاتھ بڑھائیں، اور لبیک کہیں تو مظلوم کی آہ پر بھی ان کا ضمیر بیدار ہو۔

آئیے، اپنی عبادت کو خدمت سے، اپنی روحانیت کو احساسِ ذمہ داری سے اور اپنی دعاؤں کو عملی جدوجہد سے جوڑیں۔ اللہ کے گھر کی حاضری نصیب ہو تو دل میں انسانیت کا درد بھی بڑھے، زبان پر لبیک ہو تو زندگی میں اطاعت کی روشنی بھی اترے۔
 
ڈسکلیمر:اس مضمون میں پیش کردہ آرا، تجزیے اور تشریحات کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ادارے کے موقف کی نمائندگی کریں۔ مضمون کا مقصد نفلی حج و عمرے کی فضیلت یا کسی فرد کی نیت پر سوال اٹھانا نہیں، بلکہ عبادت، حقوق العباد اور خدمت خلق کے باہمی تعلق پر غور و فکر کی دعوت دینا ہے۔