بینک ملازمین کی سہ روزہ ہڑتال، اتوار کو بھی کھلیں گے بینک، وجہ کیا ہے؟

Published On: 26 September, 2026 05:34 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بینک ملازمین کی سہ روزہ ہڑتال، اتوار کو بھی کھلیں گے بینک، وجہ کیا ہے؟

(فوٹو اے آئی)

ینک ملازمین کی جانب سے سہ روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث بینکنگ خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مجوزہ ہڑتال سے ایک روز قبل 27 ستمبر، اتوار کو سرکاری اور علاقائی دیہی بینک معمول کے تعطیل والے دن بھی کھلے رہیں گے تاکہ صارفین کو ضروری بینکنگ کام نمٹانے کا اضافی موقع مل سکے۔

ملک میں بینک ملازمین کی نمائندہ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (UFBU) نے 28، 29 اور30 ستمبرکو سہ روزہ ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ یو ایف بی یو سات بینک یونینوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ بینکنگ شعبے کے تقریباً 90 فیصد ملازمین کی نمائندگی کرتا ہے۔ یونینوں نے مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں 26 اکتوبرسے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔

بینک ملازمین ہڑتال کیوں کر رہے ہیں؟
بینک یونینوں کے اہم مطالبات میں سب سے نمایاں ہفتے میں پانچ روز بینکنگ کا نفاذ ہے۔ فی الحال بینک ہرماہ دوسرے اور چوتھے ہفتے کے ہفتہ کوبند رہتے ہیں جبکہ پہلے، تیسرے اور جہاں قابلِ اطلاق ہو پانچویں ہفتہ کو بینک کھلے رہتے ہیں۔

یونینیں چاہتی ہیں کہ تمام ہفتہ وار سنیچر کو بینک تعطیل قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ گزشتہ دو برس سے زیرِ غور ہے۔ انڈین بینکس ایسوسی ایشن (IBA)، جوبھارت کے بینکوں کی نمائندہ تنظیم ہے، اس مطالبے سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے اسے منظوری کے لیے حکومت کو بھیج چکی ہے۔

بینک ملازمین کے مطابق پانچ روزہ ہفتہ نافذ ہونے کی صورت میں ہفتے کے کام کے اوقات پیر سے جمعہ کے دوران بڑھا کر پورے کیے جا سکتے ہیں۔ یونینوں کا موقف ہے کہ اس طرح صارفین کے لیے بینکنگ کے مجموعی اوقات میں کمی نہیں ہوگی۔

یوایف بی یو نے اپنے ایک خط میں کہا کہ مارچ 2024 میں ہونے والے گزشتہ اجرت معاہدے کے تحت پانچ روزہ بینکنگ کے نفاذ پر اتفاق اور دستخط ہوچکے ہیں، لیکن اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا، جس کے باعث یونینوں نے ہڑتال کا راستہ اختیار کیا ہے۔

پی ایل آئی اسکیم بھی تنازع کی بڑی وجہ
پانچ روزہ بینکنگ کے علاوہ پرفارمنس لنکڈ انسینٹو (PLI) یعنی کارکردگی سے منسلک مراعات بھی تنازع کا اہم سبب ہے ۔ یہ نظام 2020 کے اجرت معاہدے کے تحت متعارف کرایا گیا تھا اوراس کا تعلق انفرادی بینکوں کی کارکردگی سے تھا ۔ اس کے بعدسینئربینک افسران کے لیے حکومت کی جانب سے نظرثانی شدہ PLI اسکیم سامنے آئی، جس پر بینک افسران کی تنظیموں نے اعتراض کیا۔

نظرثانی شدہ اسکیم میں گریڈ 4 اور اس سے اوپرکے افسران کوشامل کیا گیا، جبکہ کم درجے کے افسران کو اس سے باہر رکھا گیا۔ بینک افسران کی تنظیموں نے مراعات کی تقسیم کے اس طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ہڑتال سے بینکنگ خدمات پر کیا اثر پڑے گا؟
ہڑتال کا وقت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 30 ستمبر بینکوں کے لیے ششماہی اختتامی تاریخ ہے۔ اس موقع پر اکاؤنٹس کی تطبیق، پروویژننگ، ٹریژری اور مارکیٹ سے متعلق متعدد اہم سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

تین روزہ ہڑتال سے خاص طور پر سرکاری بینکوں کی برانچ سطح کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ نقد رقم جمع کرانے اور نکالنے، چیک کلیئرنس، اکاؤنٹ سے متعلق کام اور دیگر برانچ سروسز میں رکاوٹ کا امکان ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا بینکنگ نظام بند ہوجائے گا۔ یوپی آئی، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور اے ٹی ایم جیسی ڈیجیٹل خدمات معمول کے مطابق دستیاب رہنے کی توقع ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا سمیت دیگر سرکاری بینکوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہڑتال سے متاثر ہونے والے ضروری برانچ کے کام پہلے ہی مکمل کرلیں اور ضرورت کے وقت ڈیجیٹل ذرائع اور اے ٹی ایم استعمال کریں۔

نجی بینکوں پر بھی ہڑتال کا اثر نسبتاً کم رہنے کی توقع ہے کیونکہ ہڑتال بنیادی طور پر متعلقہ یونینوں اور سرکاری بینکنگ آپریشنز سے وابستہ ہے۔

اتوار27 ستمبرکوبینک کیوں کھلیں گے؟
یہ سوال اس وقت اہم ہوگیا ہے کیونکہ 27 ستمبر اتوار ہے اور عام طور پر بینک اس روز بند رہتے ہیں ۔ تاہم سرکاری بینک اور علاقائی دیہی بینک 27 ستمبر کو کھلے رہیں گے تاکہ صارفین ہڑتال شروع ہونے سے پہلے ضروری بینکنگ کام نمٹا سکیں۔

اگراتوارکوبینک بند رہتے تو اس کے بعد مسلسل تین روزہ ہڑتال کی وجہ سے صارفین کو مجموعی طور پر پانچ دن تک برانچ بینکنگ میں رکاوٹ کا سامنا ہوسکتا تھا۔

اسی وجہ سے وزارتِ خزانہ نے صارفین کو اضافی سہولت فراہم کرنے کے لیے اتوار کو بینک کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے 27 ستمبر کو بینک برانچوں، دفاتر، اے ٹی ایم سے منسلک برانچوں اور کرنسی چیسٹس کو مکمل طور پر فعال رکھنے کی منظوری دی ہے۔

حکومت کا کیا ہے موقف ؟
حکومت اور بینک انتظامیہ نے یونینوں سے ہڑتال مؤخر کرکے مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ بینکنگ کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے اور اس معاملے میں حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے متعدد متعلقہ فریقوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

دوسری جانب حکومت نے ہڑتال کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی انتظامات بھی شروع کردیئے ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے سرکاری بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں سے کہا ہے کہ وہ اے ٹی ایم میں مناسب مقدار میں نقد رقم دستیاب رکھیں اور ہڑتال کے دوران ضروری خدمات برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔

وزارتِ محنت کی مفاہمتی کارروائی میں انڈین بینکس ایسوسی ایشن (IBA) اور محکمہ مالیاتی خدمات (DFS) بھی شریک رہے ہیں۔ IBA اور DFS نے PLI اسکیم کو فی الحال مؤخر رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پانچ روزہ بینکنگ کا مطالبہ زیرِ غور ہے، تاہم اس کے نفاذ کی کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی جاسکتی۔

وزارتِ محنت کے چیف لیبر کمشنر کے دفتر کی ایک نوٹ کے مطابق، حکومت نے ماضی میں بینک ملازمین کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کیے ہیں اور 13ویں دو طرفہ اجرت معاہدے (13th Bipartite Settlement) کے عمل کا بھی آغاز کیا جاچکا ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا حکومت، بینک انتظامیہ اور یونینیں 28 ستمبر سے پہلے پانچ روزہ بینکنگ اور PLI سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرپاتی ہیں یا نہیں۔ بصورتِ دیگر 28 سے 30 ستمبر کی تین روزہ ہڑتال کے بعد 26 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا خطرہ برقرار رہے گا۔