(فوٹوفائل انروا)
امریکہ کی قیادت میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ نے غزہ میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی انروا(UNRWA) کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ غزہ کے مستقبل میں انروا کو محدود یا ختم کرنے کی اسرائیلی کوششوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
بورڈ آف پیس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 66 منصوبوں پر مشتمل خاکہ پیش کیا ہے، جس کے تحت ابتدائی بحالی کے لیے 2.4 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بورڈ نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ غزہ میں انروا کی شمولیت سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
بورڈ کے مطابق وہ صرف ایسے ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے ساتھ کام کرے گا جو غزہ کے عوام کے لیے عملی طور پر کام کر سکیں اور علاقے کو ’انتہا پسندی سے پاک‘ کرنے میں معاون ہوں، جبکہ انروا ان معیاروں پر پورا نہیں اترتی۔
تاہم امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں بورڈ کے ایک عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ بورڈ کے ارکان انروا حکام سے کئی مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق اگر انروا کے پروگرام غزہ کے عوام کے لیے مفید ثابت ہوں تو ان میں سے بعض جاری رہ سکتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انروا کے دن گنے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا تھا، جسے غزہ میں جنگ کے بعد تعمیرِ نو اور جنگ بندی کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
انروا کا موقف کیا ہے؟
بورڈ کے فیصلے کے ردعمل میں انروا کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچن ساؤنڈرز نے غزہ میں کہا کہ ایجنسی اب بھی ایک اہم انسانی اور تزویراتی ادارہ ہے اور اس کی صلاحیتوں اور تجربے کا فوری طور پر متبادل تلاش کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید انسانی ضرورت کے اس وقت انروا کی صلاحیتوں کو نظرانداز کرنا نہ منطقی اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔
انروا کے سابق سربراہ فلپ لازارینی نے بھی خبردار کیا کہ ایجنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فلسطینی عوام پر ’تباہ کن‘ اثر پڑ سکتا ہے۔لازارینی کے مطابق ایک طرف اسرائیل اور دیگر فریق انروا کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری جانب انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ آج ایجنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے سے غزہ کے عوام کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
انروا کے غزہ میں تقریباً 11 ہزار فلسطینی ملازمین ہیں اور ایجنسی صحت، تعلیم، پانی اور صفائی سمیت متعدد بنیادی خدمات فراہم کرتی ہے۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر بے دخلی اور امداد کی رسائی پر جاری پابندیوں کے تناظر میں اس کا کردار مزید اہم مانا جاتا ہے۔
انروا کا قیام 1949 میں فلسطینیوں کی مدد کے لیے عمل میں آیا تھاجو اسرائیل کے قیام کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے تھے۔ یہ ادارہ غزہ، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے علاوہ اردن، شام اور لبنان میں بھی فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد اور تعلیم سمیت مختلف خدمات فراہم کرتا ہے۔
بہت سے فلسطینی انروا کو اپنے وطن واپسی کے حق کی بین الاقوامی شناخت کی علامت بھی سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیل طویل عرصے سے اس ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
حماس کا ردعمل
حماس نے بھی بورڈ آف پیس کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس پر اسرائیلی موقف اختیارکرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز انروا کو غزہ سے الگ کرنے کے فیصلے کو ’اسرائیلی موقف سے مکمل ہم آہنگی‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد انروا کی سرگرمیوں کا خاتمہ، اسے امداد پہنچانے سے روکنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو کمزور کرنا ہے۔ حماس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بورڈ آف پیس ایک طرف انروا کو غزہ سے دور کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب غزہ میں امداد کی فراہمی یقینی بنانے، اسرائیلی افواج کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی پر مجبور کرنے اور فلسطینیوں کی ہلاکتیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔
کیا بورڈ آف پیس اور اسرائیل کی سوچ ایک ہے؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی سیاسی تجزیہ کار اور ڈرامہ نگار احمد نجار کا ماننا ہے کہ انروا کو غزہ کے مستقبل سے الگ کرنا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی اس طویل عرصے سے جاری کوشش سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت انروا کو محدود اور بالآخر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
نجار نے بورڈ آف پیس کی ساخت پر بھی سوال اٹھایا ہے ۔ ان کے مطابق اسرائیل اس بورڈ کا بانی رکن ہے جبکہ فلسطین کو اس کے مرکزی ایگزیکٹو بورڈ یا غزہ ایگزیکٹو بورڈ میں نمائندگی حاصل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اداروں میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار، اسرائیل نواز شخصیات، نجی سرمایہ کاری سے وابستہ افراد اور اسرائیلی کاروباری شخصیات شامل ہیں، جو غزہ کی حکمرانی اور تعمیرِ نو سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہوں گی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ سمیت بعض ارکان بورڈ کے اندر مختلف نقطۂ نظر پیش کر سکتے ہیں، اس لیے اسے مکمل طور پر یکساں موقف رکھنے والا ادارہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ غزہ کی زمین اور مستقبل سے متعلق اسٹریٹجک، مالی اور سکیورٹی فیصلے کرنے والے اداروں میں فلسطینیوں کی براہِ راست نمائندگی کتنی ہے۔
انروا پراسرائیل کا موقف
اسرائیل کئی برس سے انروا کو غزہ سے ہٹانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور اس پر حماس سے روابط یا ادارے میں حماس کی مبینہ موجودگی کے الزامات عائد کرتا ہے۔ تاہم عالمی عدالتِ انصاف نے اکتوبر میں ایک مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ انروا کے ملازمین کی ’ایک بڑی تعداد‘ کے حماس یا دیگر مسلح گروہوں کا رکن ہونے سے متعلق الزامات ثابت نہیں کیے گئے۔
تجزیہ کار احمد نجار کے مطابق اسرائیل کی انروا سے مخالفت صرف امدادی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ اس ادارے کی اس حیثیت سے بھی جڑی ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے وجود، ان کے حقوق، بشمول حقِ واپسی، اور عالمی برادری کی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے۔ ان کے مطابق انروا کو ختم کرنا محض امدادی نظام میں تبدیلی نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سیاسی اثرات بھی ہیں۔
حماس کی غیر مسلحی کا معاملہ
غزہ کے مستقبل سے متعلق تنازع صرف انروا تک محدود نہیں۔ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں نے جولائی میں ایک ایسے روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کے ساتھ ہتھیار مرحلہ وار حوالے کیے جانے تھے۔
دونوں معاملات کو اس منصوبے میں ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا تھا۔ تاہم اگست میں بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولے ملادینوف اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد بورڈ نے کہا کہ حماس کی مکمل غیر مسلحی تک اسرائیلی افواج ’یلو لائن‘ سے آگے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ اس میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ سرنگوں کو بھی ختم کرنا شامل ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
اس وقت اسرائیلی افواج غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں، جبکہ تقریباً 23 لاکھ آبادی کا بیشتر حصہ بے گھر ہے۔
تعمیر نو کا منصوبہ کیا ہے؟
’بورڈ آف پیس‘ کے منصوبے کے آرٹیکل 17 میں ’عارضی تعمیرِ نو‘ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کا آغاز ان علاقوں سے کیا جائے گا جہاں بورڈ کے مطابق حماس کا کنٹرول نہیں ہے۔
ان علاقوں میں غیر مسلح شہریوں کے لیے انسانی امداد کے مراکز بھی قائم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ منصوبے کے تحت تعمیرِ نو، امداد اور رہائش کی سہولیات ان علاقوں میں مرکوز کی جائیں گی جو حماس کے کنٹرول سے باہر ہوں، جبکہ اسرائیلی افواج ’یلو لائن‘ کے پیچھے موجود رہیں گی۔
اسرائیل نے تاہم فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو غزہ میں داخل ہونے، سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور تعمیرِ نو شروع کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے، جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تعمیرِ نو کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے ملادینوف نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد حماس کی غیر مسلحی سے مشروط ہے۔
غزہ کی موجودہ صورتِ حال
اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود غزہ میں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو شروع نہیں ہو سکی اور اسرائیلی افواج اب بھی علاقے کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,451 فلسطینی جاں بحق اور 4,953 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ غزہ کا طبی نظام ’مکمل تباہی‘ کے قریب ہے۔ ایندھن، طبی سامان اور اسپئر پارٹس کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں، پانی اور صفائی کے نظام کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔
غزہ میں تباہی کا پیمانہ بھی غیر معمولی ہے۔ نصف سے زیادہ اسپتال اور طبی مراکز اب بھی غیر فعال ہیں، جبکہ قابلِ استعمال اور تباہی سے محفوظ زرعی زمین کا حصہ 1.5 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کی ضروریات کا تخمینہ 71.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً 84 فیصد آبادی، یعنی 17 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد، بے گھر افراد کے کیمپوں یا تباہ شدہ اور ناکافی رہائشی مقامات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یوں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کے ساتھ ایک بنیادی سوال بدستورقائم ہے: کیا اس عمل میں فلسطینیوں، ان کے بنیادی حقوق اور ان اداروں کو مرکزی حیثیت دی جائے گی جو کئی دہائیوں سے ان کی ضروریات پوری کرتے رہے ہیں، یا غزہ کا مستقبل بیرونی انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے طے کیا جائے گا؟






