عظیم ترین آل راؤنڈر سر گیری سوبرز کا انتقال ، کرکٹ کی دنیا سوگوار

Published On: 18 July, 2026 01:18 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
عظیم ترین آل راؤنڈر سر گیری سوبرز کا انتقال ، کرکٹ کی دنیا سوگوار

(فوٹورائٹرز)

گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں(1954-1974 ) پر محیط کریئر میں کئی ریکارڈز قائم کیے۔ وہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔

 مکمل کرکٹرسر گارفیلڈ سوبرز نہیں رہے ۔  وہ بائیں ہاتھ کے ایک پُرکشش اور تباہ کن بلے باز، ایک ہنرمند گیندباز(تیزاور اسپن دونوں طرح کی گیندبازی  کرنے کی صلاحیت) اور کمال کے فیلڈر تھے۔ وزڈن نے گیری سوبرز کو20 صدی کے پانچ عظیم کرکٹرز میں ایک قراردیا  ۔ سر ڈونلڈ بریڈمین نے خود سر گارفیلڈ سوبرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھامیرے خیال میں وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے(17 جولائی) کو سر گیری سوبرز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے  ایکس پر لکھا کہ ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچی ۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ بورڈ  نے ان کی تصویر کے ساتھ ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو‘ کے القابات بھی تحریر کیے۔

ان کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سر گارفیلڈ سوبرز نے محض 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ اپنے فرسٹ کلاس کریئر میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رن بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث انہیں 1954 میں صرف 17 برس کی عمر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 57.78 کی اوسط سے 8 ہزار 32 رن بنائے اور ساتھ ہی 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے 8 ہزار رن صرف 157 باریوں میں مکمل کیے تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے اور دنیا کا کوئی بھی بلے باز ان کے اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکا ہے۔

 1958 میں صرف 21 برس کی عمر میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رن کی تاریخی اننگز کھیلی۔ اس وقت یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی، جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ یہ ریکارڈ بعد میں ویسٹ انڈیز کے ہی کرکٹر برائن لارا نے توڑا تاہم ٹرپل سنچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا اعزاز آج بھی ان ہی کے پاس ہے۔



سر گارفیلڈ سوبرز کے تاریخی ریکارڈز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز تھے۔

انہوں نے یہ منفرد اعزاز ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے بولر میلکم نیش کے خلاف حاصل کیا، جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔

ان کے سابقہ کلب ناٹنگھم شائر کرکٹ کلب نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر اور اپنی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


گیری سوبرز جارحانہ بیٹسمین کے علاوہ ایک جادوگر بولر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں تین مختلف انداز سے بولنگ میں کمال حاصل تھا۔ وہ بائیں ہاتھ سے تیز بولنگ، آرتھوڈوکس اور چائنا مین اسپن بولنگ، تینوں میں ماہر تھے۔ ایک بولر کی تینوں انداز میں مہارت آج کے دور میں بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

بیٹنگ اور بولنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ٹیم کو جب بھی مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنا ہوتا، وہ ’شارٹ لیگ‘ اور ’سلپ‘ کی پوزیشن پر موجود نظر آتے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کے 93 میچوں میں 109 کیچز پکڑے۔

28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہونے والے گیری سوبرز کی ذاتی زندگی بھی کے کئی پہلو بھی بہت مشہور ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیدائش کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں ایک، ایک اضافی انگلی موجود تھی جنہیں انہوں نے بچپن میں خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔

ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں ملازم تھے لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حملے میں ان کا جہاز ڈوب گیا۔ اس وقت سوبرز صرف پانچ برس کے تھے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔

اپنی خودنوشت میں انہوں نے لکھا کہ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم، خوراک اور ہر ضرورت کا بھرپور خیال رکھا۔

کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں نائٹ ہڈ سے نوازا اور سر کا خطاب دیا۔ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی انہیں پسندیدہ کرکٹر قرار دیا تھا۔

وہ ویسٹ انڈیز کے ایک کامیاب ترین کپتان تھے جن کے دور میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم ناقابلِ شکست تصور کی جاتی تھی۔ ان کی اسی عظیم خدمات کی وجہ سے آئی سی سی نے سال کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ ان کے نام سے منسوب کر رکھا ہے، جسے سر گیری سوبرز ٹرافی کہا جاتا ہے۔

بارباڈوس میں ہر سال 28 اپریل کو ’قومی ہیروز کا دن‘ منایا جاتا ہے۔  1998 میں بارباڈوس کی پارلیمنٹ نے ’آرڈر آف نیشنل ہیروز ایکٹ‘ پاس کیا، جس کے تحت ملک کی تاریخ بدلنے والے 10 عظیم ترین افراد کو ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا گیا۔ ان 10 ہیروز میں سے ایک گیری سوبرز تھے۔

ان کے آبائی وطن بارباڈوس میں حکومت نے ان کے نام پر ’سر گارفیلڈ سوبرز اسپورٹس کمپلیکس‘ بھی قائم کر رکھا ہے جو اب ملک میں انڈور اسپورٹس اور بڑے ثقافتی میلوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔