نیپال سیلاب;ہلاکتوں کی تعداد 575سے تجاوز، امدادی کارروائیاں جاری،سیلاب کا خطرہ برقرار

Published On: 28 August, 2026 11:52 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نیپال سیلاب;ہلاکتوں کی تعداد 575سے تجاوز، امدادی کارروائیاں جاری،سیلاب کا خطرہ برقرار

(فوٹواے پی)

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد فوری خطرہ کم ہونے کے باوجود صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے ۔ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ رسوواگڑھی کے بالائی علاقے میں لہینڈے نالے کے بند ہونے سے بننے والی جھیل کی رکاوٹ ٹوٹنے کی صورت میں ایک اور بڑا سیلاب آ سکتا ہے۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد 575سے تجاوز کرگئی ہے ۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ  کے حکام نے سیلاب متاثرین کے بارے میں تازہ جانکاری دی ہے کہ بدھ کے روزآنے والے فلیش فلڈ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 3700 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ  تقریباً 2000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اُن میں  517 غیرملکی شہری شامل ہیں۔

ادھر نیپالی پولیس کے مطابق 36 ممالک کے شہریوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان میں انڈیا کے 178 شہری، امریکہ کے 65 شہری ، یوکرین کے 53 شہری، ملائیشیا کے 51شہری اور آسٹریلیا کے35 شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے 33 شہری بھی لاپتہ ہیں۔پولیس کے مطابق 149 نیپالی شہری بھی تاحال لاپتہ ہیں۔

خطرہ ابھی ٹلا نہیں 
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے فوری اثرات اگرچہ کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

جمعرات کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں دکھایا گیا کہ رسوواگڑھی (Rasuwagadhi)کے بالائی علاقے میں لہینڈے نالہ ملبے کے باعث بند ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں ایک جھیل سی بن گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رکاوٹ ٹوٹ گئی تو ایک اور بڑا سیلاب آ سکتا ہے۔ انہوں نے لہینڈے، بھوٹیکوشی اور تریشولی دریاؤں کے زیریں علاقوں میں رہنے والے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ دریاؤں کی سطح پر نظر رکھیں اور حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات پر عمل کریں۔
 امدادی کارروائیاں 

حکومت نے تلاش، امداد، بحالی اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے 13,295 سکیورٹی اہلکار اور 15 ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں۔ اس تعیناتی میں نیپال پولیس کے 7,250، نیپالی فوج کے 4,200 اور آرمڈ پولیس فورس کے 1,845 اہلکار شامل ہیں۔

این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق یہ قدرتی آفت اس وقت شروع ہوئی جب نیپال اور چین کی سرحد کے قریب تقریباً ایک مربع کلومیٹر رقبے پر برف اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ گرا۔ اس واقعے سے 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ارتعاش پیدا ہوا۔

چٹانوں اور برف کے اس بڑے پیمانے پر کھسکنے کے نتیجے میں پانی کی ایک بہت بڑی مقدار بھوٹیکوشی اور تریشولی دریائی نظام میں داخل ہوگئی، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

امدادی کارروائیاں سڑکوں اور بجلی کی بحالی کے کام کے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ دھونچے-گرانگ، بیدور-تریشولی-دھونگے اور بیرینی-مگلین سڑکوں کے مختلف حصوں پر بھاری مشینری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ دیوگھاٹ میں موجود رکاوٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

حکومت نے فوری امدادی اقدامات کے لیے رسووا اور نواکوٹ کے لیے ایک، ایک کروڑ نیپالی روپے جبکہ دھادنگ کے لیے 50 لاکھ نیپالی روپے جاری کیے ہیں۔