(فوٹو اے آئی)
نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اورکارکنوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ دہلی پولیس نے جنتر منتر تک مظاہرین کو پہنچنے سے روکنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے ہیں ۔
چیف الیکشن کمیشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگراپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے سکیورٹی اہلکاروں نے روک دیا۔
پولیس نے ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی ، کیرل کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین،دہلی کے سابق ویراعلیٰ اروند کیجریوال،سماجی کارکن یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی رہنما نیہا بورا اور یوٹیوبر دھروو راٹھی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے جنتر منتر کی جانب مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے۔ پولیس نے کناٹ پلیس کے آس پاس پہنچنے والے سیکڑوں مظاہرین کو بھی حراست میں لیا۔ احتجاجی کارکنوں نے جنتر منتر کے قریب صورت حال سخت ہونے اور مظاہرین کی گرفتاریوں کے بعد لوگوں سے دہلی ہاٹ پہنچنے کی اپیل کی۔
نیہا بورا، یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو دہلی ہاٹ جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، جب کہ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے دیگر لیڈروں کو دہلی میں سابق وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے تین رہنماحراست میں
احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے تین اہم رہنماؤں ابھیجیت دیپکے ، سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو ہفتے کے روز دہلی ہوائی اڈے پر طیارے سے اترنے کے فوراً بعد حراست میں لے لیا۔ یہ تینوں رہنما جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے تھے۔
پولیس نے فوری طورپر یہ واضح نہیں کیا کہ تینوں رہنماؤں کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد پارٹی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرکے اعلان کیا کہ اس کے تنظیمی انچارج اجنکیا شندے جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کریں گے۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے گرفتاری سے قبل ریکارڈ کیے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جب تک وہ، سورَو داس اور آشوتوش رنکا حراست میں رہیں گے، اجنکیا شندے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ پارٹی کے مطابق یہ ویڈیو ممکنہ حراست کے پیش نظر گزشتہ رات ہی ریکارڈ کرلی گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق یوٹیوبر دھروو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ یوٹیوب پر تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ صارفین کے فالو کیے جانے والے راٹھی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی آنے والے تھے۔ انہیں اس مظاہرے کے لیے لوگوں کو متوجہ کرنے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جا رہا تھا۔
دہلی میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات
احتجاج کے پیش نظر دہلی میں ہائی الرٹ نافذ کردیا گیا اور دارالحکومت کے کئی علاقوں میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ تقریباً 27 ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دہلی میٹرو کے 40 سے زائد اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے کے حوالے سے پابندیاں نافذ کی گئیں، جب کہ وسطی دہلی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دوپہر دو بجے تک 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کی جاچکی تھیں۔
دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ انڈیا گیٹ کے آس پاس صورت حال پُرامن ہے۔ علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہیں۔
خصوصی سیل کے ڈپٹی کمشنر پولیس نارا چیتنیا نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا گیٹ پر کوئی بڑا اجتماع نہیں ہے اور لوگ پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دفعہ 163 کے نفاذ کے بعد کسی نامناسب سرگرمی کی اطلاع نہیں ملی اور صورت حال قابو میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے صبح سویرے ہی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی تھی اور ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے راستے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
کارکروچ جنتا پارٹی کا سخت ردعمل
کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک بیان میں اپنے رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کارروائی طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی، تاکہ پارٹی کے رہنماؤں کو احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکا جاسکے۔
پارٹی نے ان اقدامات کو نقل و حرکت کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا اور تمام زیر حراست رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
انتخابی فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کا الزام
کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر (CEC) پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision ) کے دوران ووٹر لسٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پارٹی نے ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 سے متعلق تبدیلیوں پر بھی اعتراض کیا ہے۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے پہلے ہی انکار کردیا تھا۔ پولیس نے سکیورٹی خدشات، ناکافی پیشگی اطلاع اور سابقہ مظاہروں میں طے شدہ شرائط کی مبینہ خلاف ورزیوں کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔ احتجاج کی اجازت کے لیے درخواست 7 اکتوبر کو جمع کرائی گئی تھی، جب کہ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق 10 دن پہلے اطلاع دینا ضروری تھا۔
احتجاج کے دوران مختلف اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کی حراست، سخت حفاظتی انتظامات اور آمد و رفت پر پابندیوں نے دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ احتجاج کرنے والی جماعت نے انتخابی عمل میں شفافیت اور اپنے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔






