دہلی احتجاج: سپریم کورٹ نے میٹرو اور انٹرنیٹ پر دی ہدایت، سی جے پی کے تین لیڈررہا

Published On: 11 October, 2026 02:03 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
دہلی احتجاج: سپریم کورٹ نے میٹرو اور انٹرنیٹ پر دی ہدایت، سی جے پی کے تین لیڈررہا

(فوٹورائٹرز)

دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف سی جے پی احتجاج، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، اپوزیشن لیڈروں کی حراست اور ٹریفک پابندیوں کے درمیان سپریم کورٹ نے میٹرو اور انٹرنیٹ خدمات معمول کے مطابق رکھنے کی ہدایت دی۔

نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج اور پولیس پابندیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اتوار کو مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ دہلی میٹرو کی خدمات معمول کے مطابق چلتی رہیں اور انٹرنیٹ خدمات میں کوئی خلل نہ آنے دیا جائے۔
 
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور دیگر تنظیموں کے احتجاج کے درمیان عدالت نے واضح کیا کہ پابندیاں آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت امن عامہ سے متعلق شرائط کے مطابق ہونی چاہئیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
 
سپریم کورٹ میں دہلی میں نقل وحرکت اور پُرامن احتجاج کے حق پر عائد پابندیوں کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں پر سماعت ہوئی ۔ عدالت نے کہا کہ وہ احتجاج سے متعلق تمام فریقوں کا موقف سنے گی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ کسی کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
سینئروکلا نے عدالت کو بتایا کہ ہفتے کے روز احتجاج کے دوران وکلا اور عام شہریوں کو مبینہ طور پر پولیس کی زیادتی اور آمدورفت پر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے پُرامن احتجاج کا حق متاثر ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے شہر کی موجودہ صورتحال اور عوامی آمد و رفت سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں، جن کا مقصد شہریوں کے حقوق اور نظم و ضبط کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ مرکزی نکات درج ذیل ہیں۔

  • میٹرو اور ریل سروسز جاری رہیں گی: میٹرو اور ریلوے کی سہولیات معمول کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔ ان خدمات پر صرف اسی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں گی جب آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت امن و امان کی ممکنہ خرابی کا خدشہ ہو۔
  • شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت: شہر میں عوام کی آمد و رفت کو بلا تعطل برقرار رکھا جائے گا، تاہم یہ ٹریفک قوانین کے تابع ہوگی۔ اس کے علاوہ قانون و انتظامیہ اور ٹریفک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے رکاوٹوں (بیری کیڈز) کی ضرورت کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
  • انٹرنیٹ کی سہولت بحال رہے گی: عدالت نے واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ بلا تعطل جاری رہیں گی۔ تاہم بنچ نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس حکم سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) ایکٹ کے تحت حکام کے اختیارات ختم نہیں ہوں گے۔
  • قانون کے مطابق ہموار نقل و حرکت: شہریوں کے سفر اور نقل و حرکت کو قانون کے مطابق پرامن اور آسان بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
  • غیر قانونی حراست پر پابندی: عدالت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو بغیر قانونی طریقہ کار کے حراست میں نہیں لیا جائے گا۔ بالخصوص ان پرامن اور غیر مسلح افراد کو حراست میں نہیں لیا جا سکتا جو ان علاقوں سے باہر جمع ہوں جہاں قانون کی دفعہ 163 BNSS (سابقہ 144) نافذ نہیں ہے۔
 
سی جے پی کے لیڈررہا، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا اور سورَو داس کو اتوار کو دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ پارٹی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ کے مطابق، مجسٹریٹ نے انہیں اس شرط پر رہا کیا کہ وہ ایک سال تک امن و امان میں خلل پیدا نہیں کریں گے۔
 
ان تینوں رہنماؤں کو ہفتے کے روز ممبئی سے دہلی پہنچنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وہ جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی آ رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، ابھیجیت دیپکے کو ان کی دادی کے انتقال کی اطلاع دی گئی اور گھر جانے کے لیے مدد کی پیش کش بھی کی گئی۔
 
پارٹی کے رہنما اجنکیا شندے نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔ دیپکے کو حراست میں لیے جانے کے بعد  اجنکیا کو ، احتجاج کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
 
سی جے پی نے اتوار کو ایک بار پھر جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے اور اپنے تمام مطالبات کی تکمیل تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گی اور اگلے روز دوبارہ جنتر منتر پہنچ کر اپنے مطالبات پورے ہونے تک وہیں رہے گی۔

اپوزیشن لیڈران سمیت ہزاروں افراد حراست میں
ہفتے کے روز الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اس وقت کشیدہ صورت اختیار کر گیا جب پولیس نے جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور کسی بھی مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
 
حراست میں لیے گئے افراد میں اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، پنارائی وجین، نیہا بورا، یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت کئی سیاسی رہنما اور کارکن شامل تھے۔ شام سات بجے تک دہلی بھر میں تقریباً 6,000 افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
 
جنتر منتر کو بند کیے جانے کے بعد کارکنوں نے اپنے حامیوں سے دلی ہاٹ میں دوبارہ جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ نیہا بورا، یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو حراست میں لیا گیا، جب کہ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے دیگر لیڈروں کو ان کی دہلی رہائش گاہ کے باہر سے  حراست میں لیا گیا تھا ۔ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج کو جنتر منتر کے قریب سے حراست میں لیا گیا، جب کہ پنارائی وجین کو چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیاتھا۔
 
مجھے گھرسے زبردستی حراست میں لیاگیا۔ دھرو راٹھی
یوٹیوبر دھرو راٹھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس افراد انہیں ان کے گھر سے زبردستی لے گئے۔

راٹھی کے مطابق، اگروہ احتجاج میں شرکت کے لیے جاتے تو انہیں حراست میں لیا جا سکتا تھا، لیکن انہیں اس وقت لے جایا گیا جب وہ سو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ گھر کے باہر 50 سے زیادہ افراد موجود تھے اور انہیں مجرموں کی طرح گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔دھرو راٹھی کو گروگرام پولیس نے اتوار کو رہا کر دیا۔

دہلی میں دوسرے روز بھی ٹریفک پابندیاں
دہلی میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر اتوار، 11 اکتوبر کو مسلسل دوسرے روز بھی کئی علاقوں میں ٹریفک پابندیاں برقرار رہیں۔ دہلی ٹریفک پولیس کے مطابق، صبح چھ بجے سے صورت حال کے مطابق ٹریفک کا رخ موڑنے کے انتظامات کیے گئے اور شہر کے تقریباً 30 مقامات پر پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

متاثر ہونے والے اہم راستوں اور علاقوں میں دھولا کنواں فلائی اوور، جھنڈے والان، منڈی ہاؤس، کناٹ پلیس، جنتر منتر روڈ، لودھی روڈ فلائی اوور، پٹیل چوک، ریل بھون اور رام منوہر لوہیا اسپتال کے اطراف شامل ہیں۔

ٹریفک پولیس نے نئی دہلی اور وسطی دہلی سے گزر کر ریلوے اسٹیشنوں، بین ریاستی بس ٹرمینلز (ISBT) اور ہوائی اڈے جانے والے مسافروں کو پیشگی منصوبہ بندی کرنے، سفر کے لیے اضافی وقت رکھنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ٹریفک سے متعلق تازہ معلومات کے لیے شہری ہیلپ لائن نمبر 1095 یا 011-25844444 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، سی جے پی رہنما اجنکیا شندے نے اعلان کیا ہے کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹائے جانے تک جنتر منتر کی جانب مارچ روزانہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کے جنرل سکریٹری سریجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ طلبہ ان مقامات پر پُرامن مظاہرے کریں گے جہاں پولیس کی رکاوٹیں انہیں آگے بڑھنے سے روکیں گی۔

احتجاج، پولیس کارروائی اور ٹریفک پابندیوں کے درمیان سپریم کورٹ کی سماعت اب اس معاملے میں اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے اقدامات اور شہریوں کے پُرامن احتجاج کے آئینی حق کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جاتا ہے۔