دہشت گردی اور دوستی ساتھ نہیں چل سکتے، جے شنکر کا اقوام متحدہ میں سخت پیغام

Published On: 27 September, 2026 01:03 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
دہشت گردی اور دوستی ساتھ نہیں چل سکتے، جے شنکر کا اقوام متحدہ میں سخت پیغام

(فوٹو اے این آئی )

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں دہشت گردی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اسے استعمال کرے گا۔

ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکرنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کوسخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ساتھ دوستی اورخیرسگالی کا تصورایک ساتھ نہیں چل سکتا ، خصوصاً جب دہشت گردی کو ریاستی سرپرستی حاصل ہو اوراس کی سرحد پار جہت بھی موجود ہو۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے عمومی مباحثے میں بھارت کا قومی بیان دیتے ہوئے ایس جے شنکر نے کسی ملک کا نام لیے بغیر ایک ’مسلسل دہشت گردی کے مرتکب‘ ملک پرحقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور دہشت گردی کو معمول کا معاملہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں قابل قبول نہیں ہوں گی اور بھارت کو دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا جو حق حاصل ہے، وہ اسے استعمال کرے گا۔

ایس جے شنکرنے واضح کیا کہ ’دوستی اور خیرسگالی دہشت گردی کے ساتھ نہیں چل سکتی‘ اور دہشت گردی کی بنیاد پر کیے جانے والے سمجھوتوں پر بھی فطری طورپرسوال اٹھیں گے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مرتکب فریق کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے، بالخصوص اس وقت جب اسے ریاستی سرپرستی حاصل ہو اور وہ سرحد پار کارروائیوں سے جڑی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طریقوں میں ملوث حکومتوں کو جواب دہ بنانا ضروری ہے اور دہشت گردی کے خلاف’زیرو ٹالرنس‘ کے موقف میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔

ایس جے شنکر نے دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی پر بھی زور دیا۔

پاکستان کے وزیراعظم کے خطاب کے ایک روز بعد بھارت کا موقف
جے شنکرکایہ بیان پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ شہبازشریف نے اپنے خطاب میں کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کا معاملہ اٹھایا تھا اور 2025 کی بھارت پاکستان کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’بروقت مداخلت‘ کوسراہا تھا۔

بھارت نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد 7 مئی 2025 کو”آپریشن سندور“شروع کیا تھا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں پاکستان اور پی اوکے میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

نئی دہلی کا موقف رہا ہے کہ اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذریعے طے ہوئی تھی اور اس میں کسی تیسرے فریق کا کردارنہیں تھا۔

کثیرالجہتی اداروں میں اصلاحات پر زور
ایس جے شنکرنے دہشت گردی کے علاوہ عالمی کثیرالجہتی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک کثیرقطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور عالمی اداروں کو بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔

انہوں نے قدرتی آفات اور تنازعات کے دوران بھارت کی جانب سے ”فرسٹ ریسپانڈر“ کے طور پر ادا کیے جانے والے کردار اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بھارت کے ترقیاتی اور استعداد بڑھانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

مصنوعی ذہانت اور گلوبل ساؤتھ
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اسے انسانی صلاحیتوں کو بااختیار بنانے، معاشی ترقی اور بڑے پیمانے پر مسائل کے حل کے ایک ذریعے کے طور پردیکھتا ہے۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید تعاون کی حمایت کی۔
ایس جے شنکر نے تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے لیے بھارت کی انسانی امداد کا بھی ذکر کیا، جس میں طبی سامان کی فراہمی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت خوراک، ادویات، توانائی اور کھاد کی عالمی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر باہمی مفاہمت کو مضبوط کریں۔ ان کے مطابق دنیا میں معاشی اور سیاسی توازن پہلے ہی تبدیل ہو رہا ہے اور اب ثقافتی توازن کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔