مراکش کی تاریخ میں نیا باب، فاطمہ زہرا المنصوری پہلی خاتون وزیراعظم مقرر

Published On: 30 September, 2026 11:14 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
مراکش کی تاریخ میں نیا باب، فاطمہ زہرا المنصوری پہلی خاتون وزیراعظم مقرر

(فوٹواے پی)

مراکش کے شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ 50 سالہ المنصوری کی تقرری مراکش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت صداقت و جدیدیت پارٹی (PAM) نے 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ 97 نشستیں حاصل کی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ،395 رکنی ایوانِ نمائندگان میں حکومت سازی کے لیے 198 نشستوں کی ضرورت ہے جبکہ PAM کو 97 نشستیں ملی ہیں۔ نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (RNI) نے 66 اور استقلال پارٹی نے 65 نشستیں حاصل کیں۔ اس طرح المنصوری کو حکومت کی تشکیل کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔ 
 
مراکش کے آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے بادشاہ حکومت کے سربراہ کا تقرر کرتے ہیں۔ شاہ محمد ششم نے المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ 
 
میئرسے قومی سیاست تک
فاطمہ زہرا المنصوری کا تعلق مراکش کے شہر مراکش سے ہے۔ وہ 2009 میں پہلی مرتبہ شہر کی میئر منتخب ہوئی تھیں اور بعد میں قومی سیاست میں فعال  کردار ادا کیا۔ وہ شہری و علاقائی منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی سے متعلق وزارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال چکی ہیں۔ 

وزیراعظم مقرر ہونے کے بعد المنصوری نے کہا کہ مراکش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون حکومت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے اور یہ تمام مراکشی خواتین کے لیے باعثِ فخر ہے۔ 

عرب دنیا میں بھی اہم پیش رفت
فاطمہ زہرا المنصوری عرب دنیا میں وزیراعظم کا منصب سنبھالنے والی دوسری خاتون ہیں۔ ان سے قبل تیونس کی نجلا بودن 2021 میں وزیراعظم بنی تھیں اور 2023 تک اس منصب پر فائز رہیں۔

مراکش میں بادشاہت کا نظام قائم ہے اور 2011 کی آئینی اصلاحات کے بعد حکومت اور پارلیمنٹ کے کردار میں تبدیلیاں کی گئیں، تاہم بادشاہ ریاستی نظام میں اہم آئینی اختیارات برقرار رکھتے ہیں۔ 

نئی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا
المنصوری کی نئی حکومت کو روزگار، معیشت، عوامی خدمات، سرمایہ کاری اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ نئی حکومت کے لیے ایک بڑا کام 2030 کے فیفا ورلڈ کپ کی تیاری بھی ہے، جس کی میزبانی مراکش اسپین اور پرتگال کے ساتھ مشترکہ طور پر کرے گا۔ ورلڈ کپ سے قبل بنیادی ڈھانچے اور دیگر بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کی تکمیل حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوگی۔ 

یوں فاطمہ زہرا المنصوری کی تقرری جہاں مراکش میں پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر ایک اہم سنگِ میل ہے، وہیں ان کے سامنے فوری طور پر ایک اتحادی حکومت تشکیل دینے اور ملکی اقتصادی و سماجی ترجیحات کو آگے بڑھانے کا چیلنج بھی موجود ہے۔