نوی پلے کو نوبل امن انعام: غاصبانہ نظام، جنگی جرائم اور غزہ میں نسل کشی کے خلاف 6 دہائیوں پر محیط جدوجہد کا اعتراف

Published On: 10 October, 2026 12:24 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
نوی پلے کو نوبل امن انعام: غاصبانہ نظام، جنگی جرائم اور غزہ میں نسل کشی کے خلاف 6 دہائیوں پر محیط جدوجہد کا اعتراف

(فوٹورائٹرز)

جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون داں نوی پلے کو نسل پرستی، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف چھ دہائیوں پر محیط خدمات پر 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی اس تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کی جس نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون داں نوی پلے کو نسل پرستی، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف چھ دہائیوں پر محیط خدمات پر 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی اس تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کی جس نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

 ابتدائی زندگی ، نسلی امتیاز اور سماجی محرومی کے خلاف طویل قانونی جنگ
1941 میں ڈربن میں ایک ہندوستانی نژاد جنوبی افریقی خاندان میں پیدا ہونے والی نوی پلے نے اپنے قانون کے کریئر کا آغاز نسل پرستی  کے دور میں کیا ۔ 1967 میں وہ نٹال صوبے (Natal) میں اپنی لا پریکٹس قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے فعال کارکنوں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں کی وکالت کی، تشدد کے واقعات کو سامنے لائے اور روبن آئی لینڈ میں قید سیاسی محروسین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی اس جدوجہد کی وجہ سے سکیورٹی اداروں نے سالہا سال تک ان کا پاسپورٹ ضبط رکھا۔

اپارتھائیڈ کے خاتمے کے بعد، 1995 میں صدر نیلسن منڈیلا نے انہیں جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں قائم مقام جج مقرر کیا، جس سے وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بنیں۔

بین الاقوامی عدالتی خدمات اور تاریخی فیصلے
1995 میں ہی نوی پلے نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی مجرمانہ ٹربیونل (ICTR) میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں اس کی صدر بنیں۔ انہوں نے 'ژاں پال اکائیسو' (Jean-Paul Akayesu) کیس کے تاریخی بنچ میں خدمات انجام دیں، جو کسی بین الاقوامی ٹربیونل کی جانب سے نسل کشی کا پہلا جرم ثابت ہونے کا فیصلہ تھا۔ اس فیصلے نے یہ بھی طے کیا کہ جب کسی مخصوص گروہ کو تباہ کرنے کی نیت سے ریپ یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو اسے بھی نسل کشی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔

اس کے بعد ، انہوں نے 2003 سے 2008 تک بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں جج اور 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ فی الوقت وہ میانمار کے خلاف گامبیا کے نسل کشی کیس میں اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں ایڈہاک جج کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

غزہ میں تحقیقات اور نوبیل امن انعام
نوی پلے کے کریئر کا سب سے اہم اور متنازع باب 2021 سے نومبر 2025 کے درمیان رقم ہوا، جب انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کی۔

جون 2024 کی رپورٹ: کمیشن نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی حکام جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، جبکہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے بھی 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران جنگی جرائم کیے۔

اکتوبر2024 کی رپورٹ: کمیشن نے اسرائیل پر غزہ کے صحت کے نظام اور اسپتالوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ بچوں کو اس تباہی کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ستمبر 2025 کا حتمی نتیجہ: کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی افواج نے 1948 کے جینو سائیڈ کنونشن کے تحت نسل کشی کے 5 میں سے 4 افعال کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم بن یامین نتن یاہو، صدر اسحاق ہرزوگ اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ پر نسل کشی پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا۔

 
نوی پلے نے واضح کیا کہ ثبوت غزہ میں فلسطینیوں کو تباہ کرنے کی نیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی ذمہ داری اعلیٰ ترین اسرائیلی حکام پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو مسلح کرنے والے ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واضح ثبوت کے باوجود اقدام نہ کرنا مجرمانہ خاموشی اور سہولت کاری کے مترادف ہے۔

اسرائیل نے ان تمام نتائج کو رد کرتے ہوئے کمیشن پر تعصب کا الزام لگایا۔ نومبر 2025 میں نوی پلے نے عمر رسیدہ ہونے اور طبی وجوہات کی بناء پر کمیشن کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا۔

نارویجن نوبیل کمیٹی نے 85 سالہ نوی پلے کو 12 ملین سویڈش کرونر (تقریباً 1.2 ملین امریکی ڈالر) کی انعامی رقم والے اس ایوارڈ کے لیے منتخب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کریئر بین الاقوامی قانون کے احترام اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کی روشن مثال ہے۔ یہ انعام 10 دسمبر کو اوسلو میں ایک پروقار تقریب میں پیش کیا جائے گا۔