(فوٹو اے آئی)
فیض احمد فیضؔ کے مشہور مصرعے ’’یہ داغ داغ اجالا‘‘ کے تناظر میں آزادی، جمہوریت، سیاسی جواب دہی، مہنگائی، بے روزگاری، سماجی ناانصافی اور ادھورے خوابوں کا جائزہ پیش کرتی جویریہ قاضی کی تحریر۔
’’یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر‘‘ محض ایک شعری مصرعہ نہیں، بلکہ ایک عہد کے خوابوں کی شکستگی، آرزوؤں کی ادھوری تعبیر اور امیدوں کے زخمی وجود کی داستان ہے فیضؔ کے یہ الفاظ اُس اجتماعی کرب کی ترجمانی کرتے ہیں جواُس وقت جنم لیتا ہے جب آزادی کا سورج طلوع ہو جائے، لیکن اس کی روشنی زندگی کے اندھیروں کو پوری طرح مٹا نہ سکے، جب تبدیلی کے نعرے گونجیں، مگرعام آدمی کی زندگی میں تبدیلی کی دستک سنائی نہ دے، جب اقتدار کے ایوانوں میں کامیابیوں کے قصیدے پڑھے جائیں، مگر گلیوں، بازاروں اور بستیوں میں محرومیوں کے نوحے بلند ہوتے رہیں۔
آج جب ہم اپنے ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتِ حال پر نگاہ ڈالتے ہیں تویہ الفاظ ہمارے اجتماعی شعور کے دروازے پر دستک دیتے محسوس ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنی ترقی کی، کتنی عمارتیں تعمیر کیں، کتنی شاہراہیں بنائیں یا دنیا کے سامنے اپنی کامیابیوں کے کتنے دعوے پیش کیے، اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کی روشنی عام انسان کے گھر تک کتنی پہنچی؟ کتنے چہروں سے مایوسی کی گرد اتری؟ کتنے گھروں کے چولہے اطمینان سے جلے؟ کتنے نوجوانوں کو اپنے مستقبل پر یقین نصیب ہوا؟ اور کتنے انسانوں کو یہ احساس ہے کہ اس ملک کی تعمیر میں ان کا وجود بھی اہمیت رکھتا ہے؟
آزادی، جمہوریت اور ترقی کی اصل معنویت محض سیاسی اصطلاحات یا سرکاری اعداد و شمار میں پوشیدہ نہیں۔ ان کی حقیقی قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے، مزدور کی محنت اسے بھوک سے نجات دلا سکے، کسان اپنی فصل کے ساتھ اپنا مستقبل بھی محفوظ دیکھ سکے، طالب علم کے خواب غربت اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دم نہ توڑیں، اور عورت کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے سماجی تعصبات اور عدم تحفظ کی دیواروں سے مسلسل نہ ٹکرانا پڑے۔جمہوریت کا حسن صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں، بلکہ عوام کی آواز سننے، اختلافِ رائے برداشت کرنے اور اقتدار کو جواب دہ بنانے میں ہے۔ انتخابات عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں، لیکن یہ اختیار اسی وقت بامعنی ہوتا ہے جب منتخب نمائندے عوام کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں جگہ دیں۔ہمارے سیاسی ماحول کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاست، جو اصولی طور پر عوامی خدمت اور اجتماعی فلاح کا ذریعہ ہونی چاہیے، اکثر اقتدار کی کشمکش، الزام تراشی اور سیاسی برتری کی دوڑ میں الجھ جاتی ہے۔ بیانیے بنتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور عوام کے جذبات کو سیاسی ضرورتوں کے مطابق متحرک کیا جاتا ہے مگر عام شہری کی زندگی سے وابستہ بنیادی سوال پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
کیا سیاست کا مقصد صرف حکومت حاصل کرنا ہے، یا ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جہاں انصاف، رواداری اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہو؟ کیا سیاسی کامیابی کا معیار صرف نشستوں کی تعداد ہے، یا وہ اطمینان بھی ہے جو کسی غریب خاندان کو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں محسوس ہوتا ہے؟یہ سوال کسی ایک جماعت، رہنما یا سیاسی نظریے تک محدود نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام، اس کے اداروں اور اس میں شریک تمام قوتوں سے متعلق ہیں۔ صحت مند جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں بنتا، تنقید غداری نہیں سمجھی جاتی اور اقتدار کو تنقید سے بالاتر نہیں رکھا جاتا۔ جب مکالمے کی جگہ محاذ آرائی لے لے، سیاسی وابستگیاں انسانی رشتوں سے زیادہ اہم ہو جائیں اور شہری اپنے بنیادی مسائل کے بجائے مسلسل سیاسی تصادم میں الجھے رہیں تو جمہوریت کی روح کمزور پڑنے لگتی ہے۔فیض احمدفیض کے لفظوں میں پوشیدہ کرب اسی فاصلے کا استعارہ بن جاتا ہے، ایک طرف امیدوں سے بھرا سیاسی وعدہ اور دوسری طرف ان وعدوں کی تکمیل کے منتظرعوام۔
معاشی ترقی کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اس کی اصل معنویت تقسیم اور ثمرات تک رسائی میں مضمر ہے۔ اگر قومی معیشت کے اشاریے بہتری کی خبر دیں، مگر عام آدمی کی آمدنی اور اخراجات میں بڑھتا ہوا فرق زندگی دشوار بناتا رہے، تو یہ سوال فطری ہے کہ ترقی کا فائدہ معاشرے کے کن طبقات تک پہنچ رہا ہے۔مہنگائی صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں، یہ ایک ماں کی بے بسی بھی ہے جو بچوں کی فرمائشیں مجبوری کے ہاتھوں رد کرتی ہے، ایک باپ کی خاموش پریشانی بھی ہے جو تنخواہ ملنے سے پہلے ہی اخراجات کا حساب لگاتا ہے، ایک طالب علم کی ادھوری خواہش بھی ہے جو مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کے بجائے مزدوری اختیار کرتا ہے، اور ایک بزرگ کی خاموشی بھی ہے جو اپنی ضروریات چھپا لیتا ہے تاکہ گھر کے دوسرے افراد پر بوجھ نہ بنے۔
بے روزگاری کا مسئلہ بھی محض اعداد و شمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم یافتہ نوجوان جب برسوں کی محنت کے بعد بھی روزگار سے محروم رہتا ہے تو صرف ایک فرد کا مستقبل متاثر نہیں ہوتا، بلکہ خاندان کی امیدیں، معاشرے کی صلاحیتیں اور ملک کا قیمتی سرمایہ بھی ضائع ہوتا ہے۔ ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوجوانوں کی آنکھوں میں مستقبل کے بجائے غیر یقینی کے سائے گہرے ہونے لگیں تو یہ اجتماعی اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔معاشی انصاف کا تقاضا ہے کہ ترقی کے ثمرات وسیع تر آبادی تک پہنچیں، محنت کا صلہ منصفانہ ہو، چھوٹے کاروباروں اور محنت کشوں کو تحفظ ملے، معیاری تعلیم اور علاج عام شہری کی دسترس میں ہوں اور روزگار کے مواقع انسانی صلاحیتوں کے مطابق پیدا کیے جائیں۔جس معاشرے میں انسان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا رہے، وہاں خوش حالی کے بڑے دعوے بھی اطمینان پیدا نہیں کر سکتے۔ آزادی اور ترقی کے تصورات اسی وقت بامعنی رہتے ہیں جب ان کے ثمرات عام انسان تک پہنچیں۔
کسی معاشرے کی حقیقی عظمت بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں یا ظاہری شان و شوکت سے نہیں، بلکہ باہمی تعلقات، اجتماعی رویوں اور کمزور طبقات کے ساتھ سلوک سے متعین ہوتی ہے۔
آج ہمارے سماجی منظرنامے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو انسان سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا مذہب، زبان، ذات، برادری، علاقائی شناخت اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ محسوس کر سکتے ہیں؟
جب شناختیں انسانی رشتوں پر غالب آنے لگیں، کسی فرد کی پہچان کردار کے بجائے وابستگیوں سے طے ہونے لگے، اور افواہوں، نفرت انگیز گفتگو اور تعصب کو حقیقت و رواداری پر ترجیح دی جائے تو معاشرے کی بنیادوں میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔نفرت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ انسان کو دوسرے انسان کے دکھ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ پھر کسی کی بے روزگاری ذاتی مسئلہ رہ جاتی ہے، ناانصافی پر خاموشی مصلحت بن جاتی ہے، کمزور کی تذلیل معمول تصور ہوتی ہے اور محروم کی فریاد اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہتی ہے۔
زندہ معاشرہ وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے، مذہبی اور ثقافتی تنوع کو خطرہ نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی حقیقت سمجھا جائے، اور عورت کی عزت، بچے کی حفاظت، بزرگ کی تکریم اور اقلیتوں کے حقوق اجتماعی کردار کا لازمی جزو ہوں۔معاشرتی ہم آہنگی خوش نما نعروں سے قائم نہیں ہوتی، اس کے لیے انصاف، مساوات، برداشت اور مسلسل سماجی محنت درکار ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیے بغیر قومی وحدت کی بنیاد مضبوط نہیں ہو سکتی۔کسی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں، کیونکہ انہی کی صلاحیتوں میں آنے والے کل کی تعمیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ مگر انہیں صرف مستقبل کا معمار کہنا کافی نہیں،ایسا حال فراہم کرنا بھی ضروری ہے جس میں وہ اپنے خوابوں کی طرف قدم بڑھا سکیں۔
تعلیم کا مقصد محض اسناد تقسیم کرنا نہیں، بلکہ سوچنے، سوال کرنے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اگر تعلیمی مواقع طبقاتی فرق کے باعث محدود ہو جائیں، معیاری تعلیم صرف صاحبِ استطاعت افراد تک رہ جائے اور ادارے نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار نہ کر سکیں تو تعلیم مساوات کے بجائے عدم مساوات کو برقرار رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔نوجوان جب مواقع کی کمی، معاشی دباؤ اور سماجی ناانصافی دیکھتے ہیں تو بے یقینی جنم لے سکتی ہے۔ ان کی توانائی کو شکایت میں بدلنے سے بچانے کے لیے تعلیم، ہنر، تحقیق، روزگار اور تخلیقی اظہار کے حقیقی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں سوال اٹھانے پر شرمندہ نہ کیا جائے، تنقیدی سوچ کو خطرہ نہ سمجھا جائے اور خوابوں کو محض جذباتی خواہشات کہہ کر رد نہ کیا جائے۔ جس قوم کے نوجوان امید کھو دیں، اس کے مستقبل کے امکانات بھی سکڑنے لگتے ہیں۔موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے امکانات وسیع کیے ہیں۔ عام شہری کی آواز وسیع حلقوں تک پہنچ سکتی ہے، ناانصافی سامنے آ سکتی ہے اور اہم مسائل پر اجتماعی توجہ پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس وسعت کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔غلط معلومات، غیر مصدقہ خبروں، سنسنی خیزی اور جذبات بھڑکانے والے بیانیوں کے درمیان سچ کی تلاش ایک اخلاقی ضرورت بن چکی ہے۔ اگر خبر کا مقصد حقیقت سامنے لانے کے بجائے نفرت پیدا کرنا ہو، اختلاف کو سمجھنے کے بجائے گہرا کیا جائے اور ہر شخص صرف اپنی رائے کی تصدیق سننا چاہے تو اجتماعی شعور محدود ہونے لگتا ہے۔
باشعور شہری ہونے کا تقاضا ہے کہ خبر اور افواہ میں فرق کریں، اپنے پسندیدہ رہنماؤں اور نظریات پر بھی سوال اٹھائیں اور کسی بات کو صرف اس لیے درست نہ مانیں کہ وہ ہماری خواہشات کے مطابق ہے۔سچائی سے وابستگی کبھی ہمیں اپنی پسندیدہ رائے پر نظرِ ثانی پر مجبور کرتی ہے، لیکن یہی فکری دیانت صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
کیا یہ وہی سحر ہے جس کی آرزو تھی؟
فیض احمد فیضؔ کے یہ اشعار جس تاریخی اور تہذیبی تجربے سے جنم لیتے ہیں، ان کی معنویت سمجھنے کے لیے پس منظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ان کے یہاں آزادی محض سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ ایسے انسانی اور سماجی انقلاب کی امید ہے جس میں استحصال ختم ہو، انسان کو بنیادی حقوق حاصل ہوں اور انصاف و مساوات کی روشنی پھیلے۔اسی لیے ان اشعار میں آزادی کے حصول کی خوشی کے ساتھ ایک گہرا سوال بھی موجود ہے: اگر انسان کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی، محروم طبقات اب بھی محرومیوں کے بوجھ تلے دبے ہیں اور خوابوں کی تعبیر باقی ہے تو کیا صرف صبح کا طلوع ہو جانا منزل تک پہنچنے کے لیے کافی ہے؟یہی سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے۔
کسی بھی معاشرے کی تاریخ صرف کامیابیوں کی داستان نہیں ہوتی؛ اس میں ناکامیاں، تضادات، ناانصافیاں اور ادھورے وعدے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا مایوسی نہیں، اصلاح کی پہلی شرط ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سوال اٹھانے سے گریز کیا جائے، مسائل کی نشاندہی کو مخالفت سمجھا جائے اور اجتماعی بہتری کی امید کو غیر ضروری قرار دیا جائے۔
فیضؔ کے اشعار ہمیں محرومی کا احساس دلانے کے ساتھ یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں کہ خوابوں کی تکمیل کے لیے کیا بدلنا ضروری ہے۔ ان کی شاعری کا کرب اسی وقت بامعنی بنتا ہے جب وہ ہمارے اندر اخلاقی بے چینی پیدا کرے، ہمیں اپنے گردوپیش کا جائزہ لینے پر آمادہ کرے اور یہ سوال اٹھائے کہ ہم خود مطلوبہ تبدیلی کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔مایوسی کے اس منظرنامے میں امید کی بات کرنا آسان نہیں۔ جب روزمرہ مسائل انسان کو تھکا دیں، وعدوں اور حقیقتوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے اور اجتماعی زندگی میں اعتماد کمزور پڑنے لگے تو امید مشکل انتخاب بن جاتی ہے۔لیکن امید کا مطلب حقیقت سے آنکھیں بند کرنا نہیں۔ حقیقی امید حالات کی سنگینی تسلیم کرتے ہوئے بہتری کے امکانات پر یقین رکھتی ہے، مایوسی کو سمجھتی ہے، مگر اسے مستقل تقدیر ماننے سے انکار کرتی ہے۔یہ امید اس استاد میں ہے جو محدود وسائل کے باوجود بچوں کو علم فراہم کرتا ہے، اس مزدور میں جو دشوار حالات کے باوجود خاندان کی کفالت کرتا ہے، اس صحافی میں جو دباؤ کے باوجود حقیقت سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے، اس نوجوان میں جو ناکامیوں کے باوجود سیکھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے، اور اس شہری میں جو اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کے حقِ زندگی، حقِ عزت اور حقِ اظہار کا احترام کرتا ہے۔یہی خاموش قوتیں معاشرے کو مکمل انتشار سے بچاتی اور تبدیلی کے امکانات زندہ رکھتی ہیں۔تاہم انفرادی کوششوں کو اجتماعی تبدیلی میں بدلنے کے لیے اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی، مؤثر عوامی احتساب، معیاری تعلیم، معاشی مواقع اور سماجی انصاف ناگزیر ہیں۔ صرف فرد کی محنت سے ساختی مسائل حل نہیں ہو سکتے، اور نظام کی تبدیلی بھی اس وقت تک مکمل نتائج نہیں دے سکتی جب تک شہری شعور، اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی شرکت موجود نہ ہو۔
ہمیں ایسی سیاست درکار ہے جو انسان کو اقتدار کی سیڑھی نہیں، اپنی ذمہ داری سمجھے، ایسی معیشت جس میں ترقی کا پیمانہ صرف دولت کا ارتکاز نہ ہو بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری بھی ہو،اور ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کے باوجود دلوں کے دروازے بند نہ ہوں۔
یہ تبدیلی کسی ایک دن، رہنما یا فیصلے سے مکمل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے مسلسل جدوجہد، اجتماعی مکالمہ، جمہوری رویے اور انصاف کے اصولوں سے وابستگی درکار ہے یہ اشعار آج بھی ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے آئینہ رکھتے ہیں۔ اس آئینے میں ہمیں صرف سیاسی اور معاشی ناکامیوںکا عکس نہیں دکھائی دیتا، بلکہ اپنی ترجیحات، سماجی رویوں اور اجتماعی کردار کا حساب بھی نظر آتا ہے۔
’’یہ داغ داغ اجالا‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کا حصول اختتام نہیں، ایک مسلسل اخلاقی، سیاسی اور سماجی ذمہ داری کا آغاز ہے۔
سوال یہ نہیں کہ رات کتنی طویل تھی، سوال یہ ہے کہ صبح ہونے کے بعد ہم نے اس کی روشنی کیسے تقسیم کی۔ سوال یہ نہیں کہ آزادی کے خواب کتنے خوب صورت تھے، سوال یہ ہے کہ انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے ہم نے کتنی دیانت داری سے کوشش کی۔سوال یہ ہے کہ ہم مسائل کے حل کے لیے کس سمت، کن اصولوں کے ساتھ اور کتنی سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔کسی ملک کی حقیقی صبح اس وقت طلوع ہوتی ہے جب شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے مسلسل خوف اور بے یقینی کا سامنا نہ کرنا پڑے، معاشی تنگی کسی بچے کے خوابوں کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہ بنے، اختلافِ رائے برداشت کیا جائے؛ مذہب، زبان اور شناخت کی بنیاد پر کسی انسان کی عزت کم نہ سمجھی جائے، اور اقتدار کی کامیابیوں کا حساب عام آدمی کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں سے بھی لیا جائے۔
اس منزل کی طرف بڑھنے کے لیے سمت واضح ہے، سیاست کو محاذ آرائی کے بجائے خدمت، شفافیت اور جواب دہی کا وسیلہ بنانا ہوگا،معیشت کو چند ہاتھوں میں دولت سمیٹنے کے بجائے روزگار، منصفانہ اجرت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے جوڑنا ہوگا، تعلیم کو رٹنے کے عمل سے نکال کر تنقیدی سوچ، ہنر، تحقیق اور کردار سازی کا ذریعہ بنانا ہوگا، قانون کی بالادستی اور اداروں کی خودمختاری کو ہر فرد اور ہر طاقت سے بالاتر رکھنا ہوگا اور سماجی سطح پر نفرت، تعصب اور افواہ کے مقابلے میں مکالمے، تحقیق، رواداری اور انسانی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
یہ ذمہ داری صرف حکومتوں یا اداروں کی نہیں۔ شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کریں، ووٹ کو شعوری امانت سمجھیں، عوامی نمائندوں سے سوال کریں، غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں، کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، اپنے گھروں اور اداروں میں مساوات و احترام کو رواج دیں، اور مقامی سطح پر تعلیم، صفائی، ماحول، صحت اور فلاح کے کاموں میں عملی شرکت کریں۔ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ کسی بڑے اعلان سے نہیں ہوتا، کبھی یہ ایک درست خبر کی تصدیق، ایک ناانصافی پر آواز، ایک بچے کی تعلیم، ایک اختلاف میں شائستگی اور ایک ضرورت مند کے ساتھ کھڑے ہونے سے ہوتا ہے۔
شاید ان اشعار کی سب سے بڑی معنویت یہی ہے کہ وہ ہمیں حاصل شدہ کامیابیوں پر رک جانے کے بجائے ادھورے خوابوں کا حساب لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کا ہر نیا دن لازماً نئی صبح نہیں ہوتا، صبح کو حقیقی صبح بنانے کے لیے اس میں روشنی، حرارت اور زندگی پیدا کرنا پڑتی ہے۔آج ضرورت ہے کہ ہم مایوسی کو آخری منزل نہ بنائیں، مگر امید کے نام پر حقیقت سے بھی انکار نہ کریں۔ ہم سوال اٹھائیں، مگر سوال کو اصلاح کا وسیلہ بنائیں،اختلاف کریں، مگر انسانیت کا رشتہ قائم رکھیں، اپنے حقوق کا مطالبہ کریں، مگر دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کریں، اور ایسے مستقبل کی تعمیر میں حصہ ڈالیں جس میں ترقی چند لوگوں کی آسودگی نہیں، بلکہ ہر شہری کی عزت، آزادی اور خوش حالی کی ضمانت ہو۔کسی قوم کی تقدیر صرف اس کے حکمران نہیں لکھتے، اداروں، شہریوں، اجتماعی رویوں اور مسلسل جدوجہد کا بھی اس میں حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں تماشائی نہیں، شریکِ تعمیر بننا ہوگا، شکایت کرنے والے نہیں، جواب دہی کا مطالبہ کرنے والے باشعور شہری بننا ہوگا، اور امید کے منتظر نہیں، امید کو عمل میں ڈھالنے والے انسان بننا ہوگا۔اور شاید وہ صبح، جس کی آرزو لے کر کبھی ہم نے سفر شروع کیا تھا، آج بھی ہماری منتظر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اسے تلاش کرنے کے ساتھ تعمیر کرنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔ اس صبح کی پہلی کرن ہمارے فیصلوں، ہمارے رویوں اور ہماری روزمرہ ترجیحات سے پھوٹے گی؛ اس کی روشنی اداروں کی دیانت، سیاست کی شفافیت، معیشت کی انصاف پسندی اور معاشرے کی انسان دوستی سے پھیلے گی۔
صبح کا آنا قدرت کا عمل ہے، مگر اس صبح کو انصاف، مساوات اور انسانیت کی روشنی سے منور کرنا ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔ اگر ہم اپنے حصے کی شمع جلائیں، سچ کا ساتھ دیں، کمزور کے حق میں کھڑے ہوں، اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں اور مسلسل عمل کو اپنا شعار بنائیں تو یہ داغ داغ اجالا ایک دن ایسی صبح میں بدل سکتا ہے جس پر کسی انسان کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ یہی فیضؔ کے سوال کا جواب، آزادی کے خواب کی تکمیل اور ہمارے عہد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
ڈسکلیمر:اردو ویژن انتظامیہ کامضمون نگار یااس مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔






