امریکی حملوں کے بعد ایران کے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی عروج پر

Published On: 02 September, 2026 08:48 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکی حملوں کے بعد ایران کے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی عروج پر

(فوٹو اے آئی)

امریکہ نے ایران میں فوجی اہداف پر تازہ حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اردن اور خلیجی ممالک میں میزائل و ڈرون حملے کیے۔ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے۔

امریکہ اور ایران کے بیچ جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے ۔ امریکی فوج نے ایران میں فضائی دفاعی نظام، ریڈاراوربحری تنصیبات سمیت متعدد فوجی اہداف پر تازہ حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے منگل کی شام ایران میں فوجی اہداف کے خلاف تازہ کارروائی مکمل کی ۔ حملوں میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار سسٹمز اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کی گئیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایرانی ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا، جو ان کے مطابق دوبارہ فعال کیے جا رہے تھے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے اور موجودہ صورتحال کو امریکہ کے لیے بہتر قرار دیتے ہوئے ایران کی معیشت کے شدید دباؤ کا حوالہ دیا۔

 ایران کا جوابی حملہ
امریکی حملوں کے بعد ایران نے خطے میں متعدد مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بیلسٹک میزائل اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے۔ اردن کی فوج کے مطابق اس نے 10 میزائل مار گرائے جبکہ دیگر تین غیر آباد علاقوں میں جا گرے۔

اردن کے شہر عقبہ کے اوپرہونے والے حملوں کو روکنے کے دوران دھماکے بھی دیکھے گئے۔کویت کی فوج نے بھی کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کو روک دیا۔ بحرین نے بھی تصدیق کی کہ اس کی جانب آنے والے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

شادی کی تقریب ماتم میں تبدیل
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں شہری مقامات کو بھی نقصان پہنچا۔صوبائی حکام کے مطابق کوہستک کے علاقے میں ایک ایسے گھر کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ حملے میں ایک بچے سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ کم از کم 68 افراد زخمی ہوئے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے شہری ہلاکتوں کی رپورٹس سے آگاہی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات ایرانی سرکاری میڈیا سے سامنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی
 ایران میں بندرعباس سمیت کئی علاقوں میں دھماکے
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں ۔ بندر عباس میں موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ اتوار کے مقابلے میں منگل کو ہونے والے دھماکے زیادہ شدید تھے اور شہر کے مشرقی حصے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ قشم جزیرے پر فش میل فیکٹری اور ہرمزگان کے بعض شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سِریک میں ماہی گیری کی ایک جیٹی اور بندرگاہوں و بحری امور کی تنظیم کا ایک ٹاور بھی حملوں کی زد میں آنے کی اطلاع ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق کرمان صوبے کے جیرفت ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا، تاہم ایئرپورٹ کے رن وے یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا اور کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

 ایرانی فوج کی امریکہ کو ’تباہ کن حملے‘ کی دھمکی
ایران کے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکہ کے خلاف  تباہ کن حملے کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور آبنائے ہرمز پر اس کا مؤثر کنٹرول مزید سخت ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور معمول کے حالات میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی منڈیوں پر اثرات
امریکہ اور ایران دونوں آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگ پھر شروع ہونے کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔

تازہ امریکی اور ایرانی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی۔ رواں سال خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات امریکی صارفین تک بھی پہنچے ہیں۔

ایران مذاکرات پر اب بھی آمادہ، لیکن شرط امریکہ کی جنگ بندی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تازہ امریکی حملوں سے قبل کہا تھا کہ اگر امریکہ جون میں طے پانے والے عبوری جنگ بندی معاہدے پر دوبارہ عمل کرتا ہے تو ایران بھی اس کی پاسداری کے لیے تیار ہے۔

پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کہا کہ اگر امریکہ مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر جواب دے گا۔

جون میں ہونے والے عبوری معاہدے کے تحت فوری جنگ بندی اور 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہونا تھا، تاہم یہ معاہدہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

جنگ دوبارہ بھڑکنے سے خطے میں بڑے تصادم کا خدشہ
تازہ حملوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس تنازع نے پہلے ہی خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔

امریکی فوج کا موقف ہے کہ حالیہ کارروائیاں محدود نوعیت کی ہیں، تاہم ایران کی جانب سے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔