اسرائیلی انتخابات:سروے میں بڑا الٹ پھیر، آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو پیچھے چھوڑ دیا

Published On: 08 September, 2026 08:18 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسرائیلی انتخابات:سروے میں بڑا الٹ پھیر، آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو پیچھے چھوڑ دیا

(فوٹو اے آئی)

تازہ سروے میں یاشر پارٹی کو 25 جب کہ لیکود کو 21 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔ سروے کے مطابق اپوزیشن بلاک کو حکومت سازی کے لیے واضح برتری حاصل ہے۔

اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات سے قبل جاری کیے گئے ایک تازہ سروے میں سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی پارٹی  یاشر نے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکود پر برتری حاصل کرلی ہے۔ سروے کے مطابق یاشر پارٹی کو 120 رکنی کنیسٹ میں 25 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جبکہ لیکود 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔اسرائیلی مارکیٹ ریسرچ اور عوامی رائے کے ادارے مڈگام نے یہ سروے چینل 12 کے لیے کیا، جس کے نتائج پیر کو جاری کیے گئے۔

سروے کے مطابق یاشر پارٹی نے گزشتہ سروے کے مقابلے میں ایک نشست حاصل کی ہے، جبکہ لیکود کی حمایت میں دو نشستوں کی کمی آئی ہے۔

سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی پارٹی ٹوگیدر 13 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، تاہم گزشتہ سروے کے مقابلے میں اسے دو نشستوں کا نقصان ہوا ہے۔ یہ پارٹی حالیہ سرویز میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

یائر گولان کی قیادت میں دی ڈیموکریٹس 11 نشستوں کے ساتھ اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ ایویگڈور لائبرمین کی جماعت یسرائیل بیتینو ایک نشست کھو کر 8 نشستوں پر آگئی ہے۔

الٹراآرتھوڈوکس یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کو بھی 8 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ آریہ دری کی قیادت میں شاس پارٹی کو 7 سیٹیں ملنے کے امکان ہیں۔

بیزلیل اسموٹریچ اور موشے فیگلین کی قیادت میں دائیں بازو کی ریلیجیئس زیونزم اور زیہوت جماعتوں کے اتحاد کو 6 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جبکہ اوفر ونٹر کی قیادت میں امچا اسرائیل 4 نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔

عرب جماعتوں میں جوائنٹ لسٹ کو 7 جبکہ منصور عباس کی یونائیٹڈ عرب لسٹ کو 4 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سروے میں کئی جماعتیں 3.25 فیصد کے انتخابی حدِ نصاب(Electrol Threshold) کو عبور کرنے میں ناکام رہیں، جن میں بینی گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ اور ایوی ماؤز کی نوعم یسرائیل بھی شامل ہیں۔

اپوزیشن کو حکومت سازی میں برتری
سیاسی اتحادوں کے اعتبار سے اپوزیشن بلاک کو مجموعی طور پر 68 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جن میں 57 نشستیں یہودی جماعتوں اور 11 عرب جماعتوں کی ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے حمایت یافتہ حکمراں اتحاد کو 52 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کی نشستوں میں دو کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ سروے کے مطابق اسموٹریچ اور اوفر ونٹر کی قیادت والی پارٹیاں  انتخابی حدِ نصاب عبور کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے 120 رکنی کنیسٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ سروے کے مطابق اپوزیشن بلاک حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے 7 نشستیں آگے ہے۔

آئزن کوٹ وزیراعظم کے لیے بھی نیتن یاہو سے آگے
سروے میں شرکا سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کون زیادہ موزوں امیدوار ہے۔ 42 فیصد افراد نے گادی آئزن کوٹ کو بہتر امیدوار قرار دیا، جبکہ 35 فیصد نے نیتن یاہو کے حق میں رائے دی۔ یوں آئزن کوٹ کو نیتن یاہو پر 7 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔ انتخابات سے ایک روز قبل پیر کو سیاسی جماعتوں نے مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل اپنے امیدواروں کی فہرستیں جمع کرادیں۔

انتخابی عمل سے قبل سیاسی اتحادوں کے حوالے سے اختلافات بھی نمایاں رہے، بالخصوص گادی آئزن کوٹ کی جانب سے نفتالی بینیٹ کی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسی طرح اوفر ونٹر نے بھی بیزلیل اسموٹریچ کی جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے بجائے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔