(فوٹورائٹرز)
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی تجارتی و معاشی پابندیوں کا اعلان کردیاہے۔ ایڈ ملی بینڈ نے غزہ کی تباہی، شہری ہلاکتوں اور جنگی جرائم کے الزامات پر تشویش ظاہر کی۔ادھر،اسرائیل برطانیہ کے اعلان پربرہم ہے ۔
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی تجارتی اور معاشی پابندیوں کا اعلان کردیاہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ (UK Foreign Secretary Ed Miliband)نے کہا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور شہری ہلاکتوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔
برطانوی حکومت کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی سرگرمیوں اور ان کی توسیع میں معاونت کرنے والے کاروبار کو محدود کرنا ہے۔ ان اقدامات کا ہدف اسرائیلی بستیوں سے وابستہ سرگرمیاں ہیں، اسرائیل کے ساتھ عمومی تجارت نہیں۔
ایوانِ نمائندگان (ٓHouse of Commons) میں خطاب کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ کا موقف واضح ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف کارروائی کرے گا جو بستیوں کی توسیع کے لیے تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، مالی معاونت یا جائیداد سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں۔ غیر قانونی بستیوں میں فروخت کے لیے جائیدادوں کی تشہیر کرنے والی کمپنیوں کو بھی نئی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔
ملی بینڈ کے مطابق فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی بعض اشیا کی درآمد پر پابندیاں عائد کریں گے، جبکہ نیدرلینڈز، آئرلینڈ، بیلجیئم، اسپین اور ناروے پہلے ہی ایسے اقدامات کرچکے ہیں یا ان پر عملدرآمد کررہے ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مبینہ جبری بے دخلی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اسرائیلی حکومت نے بعض مواقع پر ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی۔
غزہ کی صورت حال پر ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 60 فیصد سے زیادہ گھر متاثر ہوئے اور اسپتال بھی نشانہ بنے۔ ان کے بقول ایسے شواہد موجود ہیں جو جنگی جرائم کے الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم ان الزامات کا حتمی تعین متعلقہ قانونی اداروں کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کو حماس کے حملوں کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ برطانیہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ دونوں ریاستیں امن و سلامتی کے ساتھ قائم ہوسکیں۔ ملی بینڈ نے غزہ سے متعلق عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
برطانیہ کے اعلان پراسرائیل چراغ پا
برطانیہ کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔ اس نے کہا ہے کہ یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بھی بند کر دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے کہا کہ اسرائیل یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کردے گا۔انھوں نے کہاکہ یہ اقدامات لیبر حکومت کے اسرائیل مخالف فیصلوں کے ایک سلسلے کے بعد کیا جا رہا ہے جبکہ انھوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ پر بے بنیاد اور اشتعال انگیز جھوٹ بولنے کا الزام بھی عائد کیا۔





