(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
غزہ میں اسرائیلی جنگ سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے برآمد کیے گئے تقریباً 100 فلسطینی شہداء کے جسدِ خاکی سپردِ خاک کر دیے گئے۔ شہری دفاع کے اہلکاروں کی جانب سے شدید متاثرہ علاقوں میں جاری تلاش کے دوران ملنے والی لاشوں میں تقریباً 70 بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ سٹی میں اتوار(6 ستمبر2026) کے روزایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جو جنگ کی تباہ کاریوں کی ہولناکی بیان کرنے کے لیے کافی تھا۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی جنگ میں تباہ ہونے والی عمارتوں اور گھروں کے ملبے سے نکالے گئے تقریباً 100 شہداء کے جسدِ خاکی اپنے کندھوں پر اٹھائے اور انہیں سپردِ خاک کیا۔
جنازوں میں شامل تابوتوں کے درمیان ان خاندانوں کا دکھ نمایاں تھا جو طویل عرصے سے اپنے پیاروں کی لاشیں ملنے کے منتظر تھے۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ اپنے بچھڑنے والوں سے ایک طویل انتظار کے بعد ہونے والی آخری ملاقات تھی، جن کے بارے میں جنگ کے دوران کوئی خبر نہیں مل سکی تھی۔
فلسطینیوں کی بڑی تعداد غزہ کے الزیتون محلے میں جمع ہوئی، جہاں شہری دفاع کے اہلکاروں نے شدید تباہی سے دوچار علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران ملبے تلے دبی لاشیں اور انسانی باقیات نکالی تھیں۔
مقامی اعداد و شمار کے مطابق جنازے میں شامل شہداء میں تقریباً 70 بچے بھی تھے۔ یہ تعداد غزہ میں جاری جنگ کے دوران عام شہریوں، خصوصاً بچوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں تلاش جاری
ملبے تلے دبی لاشوں کونکالنا آسان کام نہیں تھا۔ متعدد افراد اپنے گھروں پر حملوں کے بعد عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے تھے، تاہم تباہ شدہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات، ضروری آلات کی کمی اور بھاری مشینری نہ ہونے کے باعث امدادی کارکن انہیں فوری طور پر نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
وقت گزرنے کے ساتھ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ان خاندانوں کے لیے ایسی قبروں میں تبدیل ہوتا گیا جہاں ان کے پیارے دفن تھے، مگر ان کی لاشوں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔
غزہ میں شہداء کی تلاش اور ملبے سے لاشیں نکالنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔ شہری دفاع نے گزشتہ روز تباہ شدہ عمارتوں سے لاشیں نکالنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کیا، جس کا آغاز نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع برج المہندسین سے کیا گیا۔ یہ عمارت 2 نومبر 2023 کو بمباری میں تباہ ہوئی تھی۔
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل کے مطابق چھ منزلہ عمارت میں 350 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مرحلے میں عمارت کے ملبے سے تقریباً 150 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ اب مزید 150 سے زائد لاشوں کی تلاش اور برآمدگی کا کام جاری ہے۔
ملبے تلے اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں
برج المہندسین کی داستان غزہ میں تباہی کی واحد مثال نہیں۔ شہری دفاع کے اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں دبی ہوئی ہیں۔
امدادی اور ریسکیو ٹیموں کو ان لاشوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں مطلوبہ مشینری، آلات اور دیگر ضروری وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی یا بمباری رک جانے کے باوجود ہزاروں خاندانوں کی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔ ان کے لیے جنگ اب بھی جاری ہے، کیونکہ وہ اپنے لاپتا پیاروں کی لاش ملنے یا ان کے بارے میں کسی سراغ کے منتظر ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ملبے سے لاشیں نکالے جانے کا سلسلہ جنگ میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں بھی مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کے اسپتالوں میں 17 شہداء کے جسدِ خاکی لائے گئے، جن میں 11 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔ اسی دوران 27 زخمیوں کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا۔
وزارت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 73 ہزار 561 جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 575 تک پہنچ چکی ہے۔
وزارتِ صحت نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ اگست کے دوران اعداد و شمار کی تکمیل اور تصدیق کے بعد مزید 160 شہداء کو بھی مجموعی ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
وزارت کے مطابق گزشتہ 11 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 1344 لاشیں اسپتالوں میں لائی جا چکی ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران 4464 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ملبے سے 815 لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔
غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا یہ سلسلہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے باوجود اس کے انسانی المیے کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہیں گے۔





