فوٹو رائٹرز
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی عرب ممالک سمیت مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ’اصل دشمن‘ کو پہچانیں اور اس کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک سےحقیقی دشمن کے خلاف محد ہونے پر زور دیا ہے ۔ انھوں نے یہ پیغام حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر جاری کیا ہے ۔ تحریری پیغام میں انہوں نے مشرق وسطی کے ممالک کوموجودہ صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لینے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہونے پر زور دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بالخصوص خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم دنیا میں اتحاد پیدا کریں اوراصل دشمن کامل کرمقابلہ کریں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام اسلامک یونٹی ویک کے موقع پر ان کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا۔
پیغام میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور مختلف شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ باہمی دفاع پر بھی زور دیا گیا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ جو کوئی جان بوجھ کر یا انجانے میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرتا ہے، وہ اسلام کے دشمنوں کے مفادات کو تقویت بخشتا ہے ۔
انہوں نے فلسطینیوں کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر مسلمان متحد ہوتے تو کیا فلسطینی ’اس قدر بے یار و مددگار‘ ہوتے؟
خلیجی حکمرانوں سے سوال
مجتبیٰ خامنہ ای نے عرب حکمرانوں سے سوال کیا کہ اگر خلیج کے عوام اور حکومتیں ’اسلام کے پرچم تلے متحد‘ ہوتیں تو کیا ’بے شناخت شرپسند عناصر‘ ان کی سرزمین اور وسائل پر نظر ڈالنے کی جرأت کرتے؟
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے خلیجی عرب بادشاہتیں ایران کے انقلابی نظریے، بادشاہت مخالف بیانیے اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو اپنے سیاسی نظام کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھتی رہی ہیں۔
موجودہ تنازع کے دوران بھی ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس سے تہران اور اس کے خلیجی ہمسایوں کے درمیان کشیدگی مزید نمایاں ہوئی ہے۔
قومی یکجہتی پر بھی زور
مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعہ کو ایرانی عوام کے نام اپنے ایک پیغام میں بھی قومی یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ایسے اقدامات پر پابندی عائد کرنے کی بات کی جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور حکام کو ایسی حوصلہ شکن باتوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی جو قومی اور عوامی حوصلے کو کمزور کریں۔
اپنے تازہ پیغام میں انہوں نے کہاکہ
’’اسلامی ممالک کے حکمرانوں، خصوصاً مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک کے حکمرانوں کے لیے میری پُرزور اور بار بار کی جانے والی سفارش ہے کہ اپنے اصل دشمن کو پہچانیں، اس کے منصوبے کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔‘‘
مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ چھ ماہ سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں ۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پریکطرفہ حملہ کیا تھاجس کے نتیجے میں جنگ کا آغاز ہوا۔ حملے کی پہلی ہی لہر میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوئی تھی اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے شدیدطور پر زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے تھے۔





