بن گویر کی مسجد اقصیٰ میں پھر اشتعال انگیزی، فلسطینی حکام برہم

Published On: 01 September, 2026 08:45 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بن گویر کی مسجد اقصیٰ میں پھر اشتعال انگیزی، فلسطینی حکام برہم

(فوٹورائٹرز)

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر یہودی مذہبی رسومات ادا کیں اور وہاں یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر پیر(31 اگست 2026) کے روز اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔ ان کے ہمراہ متعدد یہودی مذہبی رہنما، آبادکار اور سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے صحن کے مشرقی حصے میں تلمودی دعائیں اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسجد اقصیٰ کے حوالے سے 1967 سے قائم تاریخی انتظام کے تحت یہودیوں کو احاطے میں جانے کی اجازت تو ہے، تاہم وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ۔ یہودی زائرین کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مخصوص شرائط کے تحت داخل ہونے کی اجازت ہے۔

یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کی حمایت کا عندیہ 
مسجد اقصیٰ میں موجودگی کے دوران بن گویر نے یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کی حمایت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہاں دعا کرنے پر گرفتاری ہوتی تھی، تاہم اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔انہوں نے یہودی مذہبی رسومات، شوفار بجانے اور بالآخر ایک ہیکل کے قیام کی بات کی ۔ بن گویر نے کہا کہ یہ عمل بتدریج آگے بڑھنا چاہیے۔

بن گویر کے یہ بیانات مسجد اقصیٰ کے موجودہ مذہبی اور تاریخی انتظام کو تبدیل کرنے کے مطالبات کی جانب واضح اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔

 فلسطینی حکام کی شدید مذمت
یروشلم گورنریٹ نے بن گویر کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی اور مسجد کی موجودہ تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

فلسطینی حکام کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت کو تبدیل کرنے اور مقدس مقام پر نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش ہیں۔
 بن گویر پہلے بھی ہوچکے ہیں مسجد اقصیٰ داخل
انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’یہودی طاقت‘ کے سربراہ ایتمار بن گویر 2022 میں وزیر بننے کے بعد متعدد مرتبہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے ان دوروں پر فلسطینی، عرب اور دیگر حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

بن گویر فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے کی حمایت کرنے والے سخت گیر اسرائیلی سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے وابستہ آبادکار حلقوں میں ایسے عناصر بھی شامل ہیں جو مسجد اقصیٰ کے احاطے پر مکمل کنٹرول اور موجودہ اسلامی مقدس مقام کی جگہ یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

بیت المقدس میں کشیدگی
بن گویر کی حالیہ اشتعال انگیزی ایسے وقت میں ہوئی  ہے جب بڑی تعداد میں یہودی مغربی دیوار، جسے ’ویلنگ وال‘ بھی کہا جاتا ہے، پر یوم کپور سے قبل مذہبی دعاؤں میں شرکت کر رہے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کے حوالے سے فلسطینی نمازیوں پر پابندیوں اور یہودی آبادکاروں کے داخلوں کا معاملہ طویل عرصے سے کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2003 سے اسرائیلی پولیس نے آبادکاروں کو جمعہ اور ہفتہ کے علاوہ روزانہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ فلسطینی نمازیوں کو مختلف مواقع پر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رواں برس رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نماز کے موقع پر بھی اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی تھی، حالانکہ مغربی کنارے کی آبادی تقریباً 33 لاکھ ہے۔

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور اس کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔