عمر قید کی سزا کاٹ رہے بوسنیا کے قصاب راتکو ملاڈچ کی موت

Published On: 27 August, 2026 11:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
عمر قید کی سزا کاٹ رہے بوسنیا کے قصاب راتکو ملاڈچ کی موت

(فوٹواے پی)

بوسنیا اور ہرزیگووینا کی 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے دوران نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں عمر قید کی سزا پانے والے سابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملاڈچ کا انتقال ہوگیا ہے۔

مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث بوسنیا کا قصاب راتکو ملاڈچ نیدرلینڈز میں انتقال کر گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق بوسنیائی سربیائی جنرل ملاڈچ بوسنیا اور ہرزیگووینا کی 1992 سے 1995 کی خونریز جنگ کے دوران نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے ہیگ میں قائم بین الاقوامی ٹریبونل نے تصدیق کی کہ 84 سالہ راتکو ملاڈچ  نیدرلینڈز میں اقوام متحدہ کے جیل اسپتال میں انتقال کر گیا۔

راتکو ملاڈچ کو 2017 میں بوسنیا کی جنگ کے دوران کیے گئے سنگین جرائم کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے ملاڈچ کو خاص طور پر 1995 میں سربرینیکا میں کم از کم 8 ہزار بوسنیائی مسلم لڑکوں اور مردوں کے قتل عام کی منصوبہ بندی اور اس میں کردار ادا کرنے پر نسل کشی کا مجرم قرار دیا تھا۔

سربرینیکا کو اقوام متحدہ نے ’محفوظ علاقہ‘ قرار دے رکھا تھا، تاہم ملاڈچ کی قیادت میں فورسز نے وہاں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کردیا۔ یہ واقعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم میں شمار ہوتا ہے۔

2017 میں سزا سنائے جانے کے بعد اقوام متحدہ کے سابق انسانی حقوق سربراہ زید رعد الحسین نے ملاڈچ کوسراپاشر قرار دیا تھا۔ ٹریبونل نے بھی ان کے جرائم کو انسانیت کے خلاف معلوم ہونے والے انتہائی سنگین جرائم میں شمار کیا تھا۔

 بوسنیا کی جنگ میں ملاڈچ کا کردار
کمیونسٹ فوج کے افسر سے قوم پرست جنگی کمانڈر بننے والے راتکو ملاڈچ نے 1992 میں بوسنیا کی جنگ شروع ہونے کے بعد بوسنیائی سرب افواج کی کمان سنبھالی۔ ان کی قیادت میں سرب فورسز نے ملک کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرکے سرب اکثریتی علیحدہ ریاست قائم کرنے کی کوشش کی۔

ملاڈچ کی افواج نے بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو سمیت متعدد شہروں اور دیہات کا محاصرہ کیا۔ بوسنیائی مسلمانوں اور مخالف فوجیوں کو حراست میں رکھنے کے لیے کیمپ قائم کیے گئے اور قیدیوں کے منظم قتل کے الزامات بھی سامنے آئے۔

جنگ کے دوران ملاڈچ کو بوسنیائی مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز زبان کے باعث بھی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ان کی افواج پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کے الزامات عائد کیے گئے۔

بوسنیا کی جنگ میں مجموعی طور پرایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ  20 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اس جنگ نے سابق یوگوسلاویہ کے انہدام کے بعد یورپ کی حالیہ تاریخ کے سب سے خونریز تنازعات میں سے ایک کو جنم دیا۔
 راتکو ملاڈچ کون تھا؟
راتکو ملاڈیچ بوسنیائی سرب فوج کا سربراہ تھا اور 1990 کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران سرب افواج کی کارروائیوں کا مرکزی کردار مانا جاتا تھا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد وہ کئی برس تک گرفتاری سے بچا رہا، تاہم بالآخر گرفتار کیا گیا اور اسے دی ہیگ منتقل کیا گیا۔

2017 میں بین الاقوامی ٹریبونل نے اسے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سمیت متعدد الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد  اپیل پر بھی اس کی سزا برقرار رہی۔

راتکو ملاڈیچ نے اپنی زندگی کے آخری برس اقوام متحدہ کے زیرانتظام حراستی مرکز میں گزارے، جہاں وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔