اسرائیلی حراست میں ڈاکٹر حسام ابو صفیہ،تشدد کے نئے الزامات،آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ

Published On: 04 September, 2026 10:08 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسرائیلی حراست میں ڈاکٹر حسام ابو صفیہ،تشدد کے نئے الزامات،آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ

(فوٹورائٹرز)

غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اسرائیلی حراست میں مبینہ تشدد، نیند سے محرومی اور دھمکیوں کی شکایت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اسرائیلی حراست کے دوران مبینہ جسمانی تشدد، نیند سے محرومی اور دھمکیوں کے حوالے سے تازہ بیان دیا ہے۔

ان کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ تحریری بیان کے مطابق ابو صفیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیل گارڈ انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور حراستی حالات کے بارے میں وکیل کو معلومات دینے سے روکنے کے لیے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

جسم کے حساس حصوں پر تشدد کا دعویٰ
30 اگست کو وکیل سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے بتایا کہ جیل گارڈ ان کے جسم کے مختلف حصوں، بشمول حساس حصوں، پر ہاتھوں، پیروں اور ڈنڈوں سے تشدد کرتے رہے ہیں۔

ان کے مطابق وکیل کی گزشتہ ملاقات کے بعد بھی انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد  خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی حراست کے حالات کے بارے میں قانونی نمائندے کو معلومات فراہم نہ کریں۔

ڈاکٹرابو صفیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جیل حکام رات کے اوقات میں جان بوجھ کر شور اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں تاکہ انہیں نیند سے محروم رکھا جا سکے۔

 دسمبر 2024 سے بغیر مقدمے کے حراست
ڈاکٹرحسام ابو صفیہ کو اسرائیل نے دسمبر 2024 سے قید کر رکھا ہے اور ان کے خلاف تاحال نہ کوئی باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی مقدمہ چلایا گیا ہے۔ 

تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی صحت اور حراستی حالات پر تشویش کے باعث فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل آزادانہ طبی معائنے کی اجازت کے لیے قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ
تنظیم نے 7 جولائی کو اندرونی امراض کے ماہر ڈاکٹرامت تِروش کو ابو صفیہ کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ اجازت نہ ملنے پر تنظیم نے اسرائیلی انتظامی عدالت سے رجوع کیا۔

اسرائیل کی جیل سروس نے حال ہی میں عدالت میں جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیم کا موقف ہے کہ آزادانہ طبی معائنے میں مزید تاخیرکا کوئی جواز نہیں۔

10 اگست کو ابو صفیہ کو زیرِ زمین رکیویٹ (Rakevet) مرکز سے رام اللہ جیل میں واقع اسرائیل جیل سروس کے طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً ایک ہفتے تک رہے اور متعدد طبی معائنے کرائے گئے۔

فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کے مطابق ان معائنوں میں صحت سے متعلق مسائل سامنے آئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں جیل کے طبی مرکز منتقل کرنے کا غیر معمولی فیصلہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں اہم طبی نگہداشت کی ضرورت تھی۔

ڈاکٹرابوصفیہ کی بائیں آنکھ پر چوٹ 
فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کے مطابق اسرائیل جیل سروس کے سرکاری طبی ریکارڈز میں ابو صفیہ کی بائیں آنکھ پر چوٹ درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ابو صفیہ نے طبی عملے کو سر اور سینے پر چوٹوں کی شکایت بھی کی تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ تازہ بیان مبینہ بدسلوکی کے ایک مسلسل سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں جسمانی تشدد، نیند سے محرومی اور وکیل کو حراستی حالات سے آگاہ کرنے سے روکنے کے لیے دھمکیاں شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق دستیاب شواہد اور جسمانی نقصان سے متعلق بیانات کو دیکھتے ہوئے ابو صفیہ کا فوری اور آزادانہ طبی معائنہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

غزہ کے مزید 13 ڈاکٹر بھی اسرائیلی حراست میں
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا معاملہ غزہ سے تعلق رکھنے والے دیگر 13 فلسطینی ڈاکٹروں کی حراست کے معاملے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر 14 فلسطینی ڈاکٹر اسرائیل کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف بھی فردِ جرم یا باقاعدہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل نے ان ڈاکٹروں کی رہائی کے لیے اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

عدالت نے اسرائیلی ریاست کو حکم دیا ہے کہ وہ 13 ستمبر تک وضاحت کرے کہ آیا اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف یا ان کی جانب سے مقرر کردہ کسی افسر نے قانون کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان 14 ڈاکٹروں کی رہائی کی درخواست پر غور کیا تھا یا نہیں، اور کیا ان کے ڈاکٹر ہونے کی حیثیت کو بھی اس معاملے میں مدنظر رکھا گیا۔

ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے تازہ انکشافات  نے ایک مرتبہ پھر غزہ کے طبی عملے کی اسرائیلی حراست، ان کے طبی حالات اور حراستی مراکز میں مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔