اسرائیل کا غزہ منصوبہ بے نقاب؟ وزیر دفاع کا اہم اعتراف

Published On: 03 September, 2026 09:03 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اسرائیل کا غزہ منصوبہ بے نقاب؟ وزیر دفاع کا اہم اعتراف

(فوٹو اے آئی)

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی ہی واحد حل ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ نے منصوبہ ختم نہیں بلکہ منجمد کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ سے فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے کا منصوبہ اب بھی اسرائیلی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق غزہ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے فلسطینیوں کی بے دخلی  ہی واحد راستہ ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو ختم نہیں کیا بلکہ فی الحال منجمد کر رکھا ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی اشاعت Ynet کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی آبادی کم کرنا ہی مسئلے کا حتمی حل ہے۔ کاٹز کے مطابق  غزہ کا کوئی حقیقی حل فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسرائیلی حکام بعض اوقات فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی کو ’رضاکارانہ ہجرت‘ یا ’منتقلی‘ کا نام دیتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت غزہ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ’’سمندر، فضا اور ہر ممکن ذریعے‘‘ سے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

 ٹرمپ کے منصوبہ پر کاٹزکا دعویٰ
کاٹز نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کو منسوخ نہیں کیا بلکہ اسے فی الحال روک رکھا ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ یہ منصوبہ مسلسل زیرِ بحث ہے اور مستقبل میں اس پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہوگی۔

کاٹز نے کہا کہ بعض ایسے ممالک جو فلسطینیوں کو قبول کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں، انہیں بھی امریکی حمایت درکار ہے۔

غزہ کے حوالے  سے ٹرمپ نے کیا تجویز دی تھی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارتی مدت کے ابتدائی عرصے میں تجویز پیش کی تھی کہ امریکہ غزہ کا انتظام سنبھالے اور اس کو دوبارہ تعمیر کرے، جبکہ فلسطینیوں کو وہاں سے منتقل کیا جائے۔

اس تجویز کو عرب اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک سمیت عالمی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد  امریکہ کی حمایت سے پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے میں فلسطینیوں کے اپنے علاقوں میں رہنے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔

منصوبے میں کہا گیا تھا کہ کسی فلسطینی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑنا چاہیں گے، انہیں واپس آنے کی اجازت ہوگی۔
 
فلسطینی حقوق کے کارکنوں کا اعتراض
فلسطینی حقوق کے کارکن تقریباً تین برس سے یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا ایک مقصد فلسطینی آبادی کوعلاقے سے بے دخل کرنا ہے ۔ انسانی حقوق کے حلقے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کو بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین معاملہ قرار دیتے ہیں۔اسرائیل تاہم اپنے فوجی اقدامات کو حماس کے خلاف جنگ اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملوں کا سلسلہ
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیوں، تعمیرِ نو میں رکاوٹوں اور فلسطینیوں کے خلاف مسلسل حملوں کے حوالے سے اسرائیل پر تنقید جاری رہی ہے۔

کاٹز نے مزید کہا کہ غزہ کے ساتھ متصل سرحد رکھنے والا ملک مصر فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

 امریکہ کی اسرائیل کو مسلسل حمایت
گزشتہ تین برس کے دوران امریکہ  کی جانب سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کیے جانے اور عالمی اداروں میں اسرائیلی حکومت کی حمایت پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔

امریکی حمایت میں فوجی امداد کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت بھی شامل رہی ہے۔

امریکی سینیٹر کا سخت ردعمل
اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان پر امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلے پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

وان ہولن نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اب اسرائیلی وزیر دفاع نے خود اس مقصد کی تصدیق کر دی ہے اور امریکا کو اس پالیسی میں اپنی شمولیت ختم کرنی چاہیے۔

غزہ کے مستقبل پر سوالات برقرار
اسرائیلی وزیر دفاع کے تازہ بیان نے غزہ کے مستقبل، فلسطینیوں کے حقِ واپسی، ممکنہ جبری منتقلی اور جنگ بندی کے بعد علاقے کی تعمیرِ نو سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ فلسطینی قیادت اور حقوق کے کارکن کسی بھی ایسے منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں فلسطینی آبادی کو ان کی سرزمین سے مستقل طور پر منتقل کیا جائے۔