عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کا معاملہ ، حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوکیا چیلنج

Published On: 19 August, 2026 05:05 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کا معاملہ ، حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوکیا چیلنج

عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

عمران خان ایک بار پھر پاکستان کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔ تازہ معاملہ شفا اسپتال منتقلی کے حوالے سے ہے۔ دراصل ، سپریم کورٹ نے منگل کے روز پی ٹی آئی کے بانی اورسابق وزیراعظم کو طبی  معائنے اور علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے اور نظرثانی کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ عدالت نے عمران خان کو دو روز کے اندر نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا ۔

اسلام آباد انتظامیہ نے چیف کمشنر کے ذریعے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے عدالت عظمی میں نظرثانی درخواست داخل کردی ہے۔ عرضی گزار کا موقف ہے کہ  عدالت کا یہ حکم اختیارات کے دائرہ کار سے تجاوز ہے لہذا وہ 18 اگست کے اس فیصلے کو واپس لے یا اس پر ازسرِ نو نظرثانی کرے۔

عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے اور سرکاری میڈیکل بورڈ متعدد بار ان کا تفصیلی معائنہ اور علاج کر چکا ہے۔ نیزعدالت کو کوئی بھی ایسا فیصلہ طبی ماہرین کی پیشہ ورانہ رائے اور مکمل جائزوں کے بعد کرنا چاہیے تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، گزشتہ روز وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد متعلقہ حکام اور قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق سزا یافتہ قیدیوں کو پہلے سرکاری اسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے اور جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ سرکاری اسپتال مطلوبہ علاج کی سہولت نہیں دے سکتے، اس وقت تک کسی کو نجی اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ اس فیصلے سے جیل انتظامیہ کے لیے الجھنیں پیدا ہوں گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم نامے میں بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، ماہرمعالج پرمشتمل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے معائنے کے وقت ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن عظمیٰ خان کو موجود رہنے کی اجازت دی تھی۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ عدالت نے ہفتے میں ایک بار فیملی سے ملاقات اور دو بار بچوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اس پورے فیصلے کو قانونی اور انتظامی بنیادوں پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔