(تصویر اے آئی)
جنگ بندی کے خاتمے کے بعد امریکہ اور ایران کے بیچ کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے کویت، بحرین، اردن اور سعودی عرب میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، جبکہ امریکہ کے ایران میں فوجی اہداف پر حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور ایران کے بیچ جنگ شدت اختیار کررہی ہے ۔ اس کا دائرہ بھی مزید وسیع ہوتا جارہا ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، جواب میں ایران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق ہفتے کے روز کویت میں واقع امریکی فوجی معاونتی مرکز کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس کے ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اہم فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب کویتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کوفضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا، تاہم حملوں کے دوران ایک آئل تنصیب اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد فائر فائٹرز اور آئل سیکٹر کے کارکن زخمی ہوئے۔ مسلسل خطرات کے باعث کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی پروازیں بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے پلوں، بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے جواب میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ بیان میں امریکا کے اتحادی ممالک کو مزید حملوں کی بھی تنبیہ کی گئی۔
ایران کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں دو امریکی لڑاکا طیارے اور تین دیگر طیارے تباہ کیے گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر دو باخبر ذرائع کے مطابق ایران نے تقریباً تین ماہ بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب کی جانب بھی حملے کیے، جن کے بعد ریاض کے مشرق میں الخَرج اور بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اطلاعات ہیں کہ پرنس سلطان ایئر بیس بھی ممکنہ ہدف تھا، تاہم سعودی حکومت نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ادھرعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زیادہ بڑھ کر ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جنگ مزید پھیلنے کی صورت میں تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا ہے کہ اس نے مسلسل ساتویں روز ایران میں نگرانی کے مراکز، فوجی رسد کے نظام، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان میں امریکی حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے جبکہ پلوں، ایک سرنگ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ جنوبی ایران کے بعض علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بحری تجارت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔




