(فوٹو بشکریہ الجزیرہ)
اسرائیلی محاصرے اور مسلسل بجلی کی بندش کے باعث غزہ میں ریفریجریٹرز بے کار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کے موسم میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا محفوظ رکھنا فلسطینی خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
غزہ میں جاری جنگ، اسرائیلی محاصرے اور بجلی کی طویل بندش نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کو ایسی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جن کا تصور بھی محال ہے۔ شدید گرمی اور بجلی نہ ہونے سبب فریج بند پڑے ہیں اور لوگوں کے لیے خوراک، ادویات اور بچوں کی ضروری اشیا محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بے گھر ہوچکی چار بچوں کی ماں ملک الزعنین ایک خیمے میں رہتی ہیں۔ وہ ایک ٹرے میں رکھا چاول دکھاتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یہ کھانا انہیں ایک کمیونٹی کچن سے ملا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کو کھانا کھلا چکی ہیں، مگر اب انہیں فکر ہے کہ بچا ہوا کھانا شدید گرمی میں جلد خراب ہو جائے گا۔
ملک الزعنین کہتی ہیں کہ بچے تھوڑی دیر بعد پھر بھوکے ہوں گے اور کھانا مانگیں گے، لیکن اس وقت تک شاید یہ خراب ہو چکا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس فریج نہیں چلتا اور خیمہ بھٹی کی طرح گرم رہتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے ان کا فریج کئی دن تک کھانا محفوظ رکھتا تھا، لیکن اب اسرائیلی محاصرے کے باعث بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ استعمال کے قابل نہیں رہا۔
غزہ کی خاتون شہری بتاتی ہیں کہ اگر کبھی ٹھنڈے پانی کا تھیلا دستیاب ہو تو وہ دو شیکل میں خرید لیتی ہیں، لیکن زیادہ تر انہیں سورج کی تپش سے گرم ہو جانے والے پانی کے ٹینک کا پانی ہی پینا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے پہلے بھی متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں شدید گرمی، طویل بجلی بندش اور ریفریجریشن کی سہولت نہ ہونے کے باعث خوراک خراب ہونے اور آلودہ کھانے سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ خاص طور پر بے گھر خاندانوں میں بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے مطابق جون 2026 کے آغاز میں غزہ میں صرف 10 لاکھ لیٹر ڈیزل داخل ہوا، جو جان بچانے والی خدمات کو جاری رکھنے کے لیے درکار مقدار سے کہیں کم ہے۔
ادارے کے مطابق ایندھن کی مسلسل کمی بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کو مزید متاثر کر سکتی ہے، جبکہ اس کے اثرات پہلے ہی عام شہریوں کی زندگی پر نمایاں ہیں۔
قریب ہی رہنے والی 43 سالہ منال حمد بھی اسی مشکل کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کی ادویات کو ہر وقت ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے۔
منال حمد کہتی ہیں کہ میرے لیے ٹھنڈا پانی ایک خواب بن چکا ہے۔ جب میں ٹینک کا گرم پانی پیتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میرا دل جل رہا ہو اور میرا بلڈ پریشر فوراً گر جاتا ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ مجھے اپنی دوا فریج میں رکھنی پڑتی ہے، اس لیے کبھی کبھی دوسروں کو پیسے دے کر دوا یا بچا ہوا کھانا ٹھنڈا کرواتی ہوں، لیکن کئی بار گوشت بھی خراب ہو جاتا ہے۔
منال کے مطابق انہیں اپنے بچوں کو ٹھنڈا پانی، جوس یا پھل دینے کی شدید خواہش ہوتی ہے، مگر وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ وہ صرف ایک بالٹی میں پانی بھر کر بچوں کو گرمی سے کچھ دیر کے لیے سکون پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں، میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔
اسی طرح غزہ شہر کے زیتون علاقے میں رہنے والے 40 سالہ نضال رفیح نے بھی اپنے بند فریج کو الماری بنا دیا ہے، جہاں وہ ڈبہ بند خوراک اور ذاتی سامان رکھتے ہیں۔
نضال رفیح کہتے ہیں کہ جو چیزیں پہلے عام ضرورت تھیں، آج ان کے لیے اضافی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ میں پانی، موبائل چارج کرنے اور اب کھانا یا پانی ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی رقم ادا کرتا ہوں۔
ان کے مطابق اسرائیلی محاصرے کے باعث اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قلت نے مہنگائی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اور ان کی اہلیہ ایک وقت کا ہی کھانا پکاتے ہیں تاکہ بچا ہوا کھانا ضائع نہ ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم خوراک ضائع ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، جیسے غزہ کے ہزاروں دوسرے خاندان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
وسطی غزہ کے ایک عارضی کیمپ کے قریب بیت حانون سے بے گھر ہونے والے 34 سالہ محمد الزعنین نے اپنا روزگار ختم ہونے کے بعد ایک چھوٹا فریزر ہی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ ڈیزل جنریٹر کے ذریعے فریزر چلا کر لوگوں کے موبائل چارج کرتے اور ٹھنڈا پانی و مشروبات فروخت کرتے ہیں۔
محمد الزعنین کے مطابق صرف فریزر چلانے پر ہر ماہ تقریباً 1500 شیکل خرچ ہوتے ہیں، جبکہ ہر 10 دن بعد بجلی کا بل 1300 سے 1400 شیکل تک آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخراجات بہت زیادہ ہیں، لیکن لوگوں کی ضرورت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ لوگ روز میرے پاس آتے ہیں، کوئی پانی کی بوتل ٹھنڈی کروانا چاہتا ہے، کوئی اپنا کھانا، لیکن میں سب کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔
محمد الزعنین نے ایک واقعہ یاد کرتے بتایا کہ ایک بار ایک بہرا شخص صرف ایک آم لے کر آیا اور اشاروں کی زبان میں مجھ سے اسے ٹھنڈا رکھنے کی درخواست کی ۔ اس لمحے میرا دل ٹوٹ گیا۔ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ لوگ صرف ایک آم ٹھنڈا کروانے کے لیے بھی دوسروں کے پاس آتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ موبائل چارج کروانے یا پانی کی ایک بوتل ٹھنڈی کروانے کے لیے دوسروں کا سہارا لینا پڑے گا، لیکن آج یہ بھی ایک عیش و آرام کی چیز بن چکی ہے۔




