غزہ میں 112 شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ، ہزاروں سوگوار شریک

Published On: 04 August, 2026 07:50 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
غزہ میں  112 شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ، ہزاروں سوگوار شریک

(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)

غزہ کے علاقے الصبرہ میں 2023 کی بمباری میں جاں بحق ہونے والے دو فلسطینی خاندانوں کے 112 شہداء کی باقیات کئی ماہ بعد ملبے سے نکالی گئیں، جنہیں اجتماعی نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہداء میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد شامل ہیں۔

 غزہ شہر میں منگل کے روز دو فلسطینی خاندانوں کے 112 شہداء کو ایک غیر معمولی اجتماعی نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان افراد کی باقیات شہر کے جنوبی علاقے الصبرہ میں واقع ان کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے نکالی گئی تھیں، جہاں وہ 2023 کے آخر میں ہونے والی بمباری کے بعد کئی ماہ تک دبے رہے۔

شہر کا ایک کھلا میدان درجنوں شہداء کے جسدِ خاکی سے بھر گیا جنہیں سفید کفنوں اور فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا اور ایک بوجھل منظر میں قطار اندر قطار رکھے گئے تھے جبکہ عوام ان پیاروں کو الوداع کہنے کے لیے امڈ آئے۔جنازے کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ فضا آہوں، سسکیوں، تکبیروں اور دعاؤں سے گونجتی رہی جبکہ لواحقین ان عزیزوں کے تابوتوں کے پاس کھڑے تھے جو نومبر 2023 سے ملبے تلے دبے ہوئے تھے اور جنہیں بروقت تدفین کا حق بھی نہ مل سکا۔

یہ اجتماعی تدفین شہری دفاع اور ریسکیو ٹیموں کی کئی روز تک جاری رہنے والی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہوئی۔ امدادی اہلکاروں نے محدود وسائل اور خطرناک زمینی حالات کے باوجود ملبے سے شہداء کی باقیات نکالنے کا کام مکمل کیا۔

شہری دفاع کے مطابق الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک میں جاری سرچ آپریشن 136 گھنٹے تک مسلسل جاری رہا، جس کے دوران تمام دستیاب باقیات برآمد کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق شہداء میں 40 بچے ، 38 خواتین ، 7 معذورافراد شامل ہیں، جو اس سانحے میں شہری آبادی کے بھاری جانی نقصان کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ واقعہ 23 نومبر2023 کو پیش آیا تھا، جب پہلی جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل الصبرہ میں الحساينہ اور ابو شریعہ خاندانوں کے رہائشی کمپاؤنڈ کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد لاشیں ملبے تلے دب گئیں۔

 

علاقے میں طویل عرصے تک جاری عسکری کارروائیوں اور خطرناک سکیورٹی صورتحال کے باعث امدادی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ سکیں۔ حالیہ دنوں میں رسائی ممکن ہونے کے بعد ملبہ ہٹانے اور باقیات نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد تمام شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرکے انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔