شام : معزول صدربشار الاسد کو سزائے موت، عدالت کا بڑا فیصلہ

Published On: 11 August, 2026 03:37 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
شام : معزول صدربشار الاسد کو سزائے موت، عدالت کا بڑا فیصلہ

(فوٹورائٹرز)

شام کے معزول صدر بشار الاسد کو شامی عدالت نے سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے غیر حاضری میں چلنے والے مقدمے کے دوران بشار الاسد کو تقریباً 14 سالہ جنگ کے دوران قتل، تشدد اور من مانی گرفتاریوں سمیت سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا۔

شام کی ایک عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو موت کی سزا سنائی ہے ۔ اس سے قبل آج ( منگل) سماعت کے دوران عدالت نے اسد کی غیر موجودگی میں انھیں  جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مجرم قرار دیاتھا۔ بشار الاسد فی الوقت ماسکو میں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسی مقدمے میں سکیورٹی عہدے دار بشار الاسد کے ماموں زاد بھائی عاطف نجیب کو بھی جنوبی صوبے درعا میں اُس کریک ڈاؤن کی قیادت کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں بغاوت شروع ہوئی تھی  جو خانہ جنگی کا سبب بنی ۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان عاطف نجیب قیدیوں کی لباس پہنے ایک پنجرے کے اندر کھڑے تھے جب جج نے سزا سنائی۔ واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد اسد اور ان کے بھائی ماہر روس فرار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد عاطف نجیب کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ مقدمے کا سامنا کرنے والے اعلیٰ ترین عہدے داروں میں شامل ہو گئے۔

نجیب شام کی فوج کے سابق بریگیڈیئر جنرل ہیں، جو 2011 میں اسد کے دور حکومت میں جنوبی شام کے صوبے درعا میں سیاسی سلامتی کے شعبے کے سربراہ تھے۔

اسد کے خلاف یہ فیصلہ عبوری حکام کے دور میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے، جنھوں نے رواں سال سابق حکومت سے وابستہ شخصیات کے خلاف مقدمات چلانا شروع کیے، خواہ وہ عدالت میں موجود ہوں یا ان کی غیر موجودگی میں۔
بشارالاسد  1965 میں پیدا ہوئے اور والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد 2000 میں شام کے صدر بنے تھے۔