(فوٹواے پی)
لبنان کے انصار اور دیر الزہرانی قصبوں کو نشانہ بنا کر کیے گئےاسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ19 زخمی ہو گئے۔
لبنان میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے انصار اور دیر الزہرانی قصبوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ19 زخمی ہو گئے۔
لبنانی وزارت صحت نے ان حملوں میں ہوئی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی ملٹری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ کارروائی فوج پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی ہے۔ ان حملوں پرحزب اللہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اس کا کہنا ہے کہ معقول جواب دیا جائیگا۔
حزب اللہ نے کشیدگی کا ذمہ داراسرائیل اور امریکہ کو ٹھہرایا ہے، اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانا اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاھو کی اپنی داخلی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے جارحیت کو بڑھانے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
حزب اللہ نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جارحیت کو روکنے کے طریقے تلاش کریں ۔
ادھر،لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا کہ انصار اور دیر الزہرانی پر اسرائیلی فضائی حملے جنوب میں جاری نسل کشی کا تسلسل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل معاہدوں اور قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی لبنان اور خطے میں جنگ اور کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام(Lebanon's Prime Minister Nawaf Salam) نے اسرائیلی کشیدگی کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ استحکام قائم کرنے کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہے۔
سلام نے مزید کہا کہ انصار پر اسرائیلی فضائی حملے کے شہداء کوئی فوجی انفراسٹرکچر نہیں تھے اور نہ ہی بچے اور خواتین ایسا کچھ ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فوجی ڈھانچے سے نمٹنا صرف اور صرف لبنانی ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ اسرائیل کو لبنانی سرزمین پر جارحیت کرنے کا حق نہیں دیتا۔
واضح رہے کہ 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 4200سے زیادہ افراد لبنان میں ہلاک ہوچکے ہیں۔





