(فوٹورائٹرز)
اسرائیلی فوج نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں پانچ سالہ ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں 5 سالہ فلسطینی بچی ہندرجب کی ہلاکت کے معاملے میں فوجداری تحقیقات کا اعلان کیا ہے ۔ ہند رجب جنوری 2024 میں اپنے خاندان کے افراد کی لاشوں کے درمیان ایک گاڑی میں پھنس گئی تھیں اور امداد کی اپیل کرتی رہی تھیں۔ اسرائیلی فوج نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اس گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔
اسرائیلی فوج نے کیا کہا؟
اسرائیلی فوج کے مطابق ہند رجب کی ہلاکت کے معاملے میں فوجداری تحقیقات کا فیصلہ واقعے سے متعلق نتائج کے جائزے اور فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت میں مبینہ رابطہ کاری کی ناکامیوں کے بعد کیا گیا۔
29 جنوری 2024 کو تقریباً شام ساڑھے سات بجے ہند رجب اس وقت ہلاک ہوئیں جب وہ ایک گاڑی میں پھنس گئی تھیں۔ گاڑی میں ان کے خاندان کے کئی افراد کی لاشیں موجود تھیں۔ رپورٹس کے مطابق ہند رجب کا خاندان اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر سے انخلا کے احکامات کے بعد محفوظ مقام کی تلاش میں روانہ ہوا تھا۔ اسی دوران ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور اس پر 300 سے زائد گولیاں لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
فلسطینی ہلال احمر کے کارکنوں نے بچی کو بچانے کی کوشش کی۔ ہند رجب نے فون پر مدد کے لیے اپیل کی اور امدادی کارکنوں سے رابطے میں رہیں، تاہم اسرائیلی فوج کی موجودگی کے باعث ایمبولینس کو ان تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔
اسرائیل کا پہلی بار فائرنگ کا اعتراف
اسرائیلی فوج نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جو ان کی جانب بڑھ رہی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہند رجب اور ان کے خاندان کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی حکام نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ اس علاقے میں ان کے فوجی موجود تھے۔ رواں سال جنوری میں اسرائیلی حکام نے ہند رجب کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
ہند رجب کی دادی کا عالمی تحقیقات کا مطالبہ
ہند رجب کی دادی نے اسرائیلی فوج کی جانب سے تحقیقات کے اعلان کو ناکافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پوتی اور غزہ میں ہلاک ہونے والے ہزاروں بچوں کی ہلاکتوں کی حقیقت سامنے لانے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انصاف صرف ہند رجب کے لیے نہیں بلکہ غزہ کے تمام بچوں کے لیے ہونا چاہیے۔
غزہ میں اسرائیلی تحقیقات پر شکوک و شبہات
اسرائیلی فوج نے غزہ میں فوجیوں کے طرز عمل سے متعلق اپنے پہلے فوجداری تحقیقات کے اعلان کے تحت ہند رجب اور ان کے خاندان کے معاملے کے ساتھ مارچ 2025 میں ہلاک ہونے والے 15 فلسطینی طبی کارکنوں کے واقعے کا بھی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
فوج کے مطابق غزہ میں فوجیوں کے طرز عمل سے متعلق 150 واقعات کا جائزہ لیا گیا، تاہم ورلڈ سینٹرل کچن اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے امدادی کارکنوں کی ہلاکت سے متعلق تین دیگر حملوں پر فوجداری تحقیقات شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
غزہ میں موجود افراد نے اسرائیلی فوج کی داخلی تحقیقات پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ الجزیرہ کے نمائندے کے مطابق غزہ میں لوگ یہ سن کر بھی پُرامید نہیں کہ تحقیقات ہند رجب اور ان کے خاندان کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوں گی۔
میڈیا کی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
2024 میں الجزیرہ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہند رجب اور ان کے خاندان کی گاڑی کے قریب ایک اسرائیلی ٹینک موجود تھا۔ تحقیق کے مطابق ٹینک کا فاصلہ تقریباً 13 سے 23 میٹر تھا، جس کی وجہ سے گاڑی میں موجود شہریوں کو دیکھنا ممکن تھا۔ ہند رجب کی فون پر مدد کے لیے کی جانے والی آخری اپیلیں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئیں اور ان کی ہلاکت نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔
ہند رجب کے واقعے پر بننے والی ڈاکو ڈراما فلم کو 2026 کے آسکرز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔





